شہری کی موت پر پاکستان کا بھارت سے احتجاج

،تصویر کا ذریعہAFP
حکومتِ پاکستان نے 28 اکتوبر کو راولا کوٹ سیکٹر میں لائن آف کنٹرول کے پار سے ہونے والی شدید فائرنگ کے نتیجے میں ایک 70 سالہ شخص کی موت پر انڈیا کی حکومت سے سفارتی احتجاج کیا ہے۔
وزارتِ خارجہ کی ایک پریس ریلیز کے مطابق حکومتِ پاکستان نے اس واقعے کی شدید مذمت کی ہے اور انڈیا سے کہا ہے کہ وہ اپنی سکیورٹی فورسز کو عام شہریوں کو نشانہ بنانے سے باز رکھے۔ لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری کی خلاف ورزیوں کو بھی روکنے کو کہا گیا ہے۔
حکومتِ پاکستان نے ہلاک ہونے والے شخص کے خاندان سے بھی اظہارِ ہمدردی کیا ہے۔
واضح رہے کہ تریباً ایک ماہ قبل پاکستان اور بھارت کے درمیان لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر فائرنگ اور شیلنگ کا تبادلہ شروع ہوا تھا۔
لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر دونوں ملکوں کی افواج کے درمیان فائرنگ کے واقعات میں دونوں جانب سے اب تک کم از کم 20 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوچکے ہیں۔
ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تر کا تعلق پاکستان سے ہے۔
پاکستان اور بھارت ماضی میں بھی ایک دوسرے پر لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر فائر بندی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے رہے ہیں۔
دونوں ممالک کے درمیان سنہ 2003 میں جنگ بندی کا معاہدہ ہوا تھا، لیکن گذشتہ کچھ عرصے سے اس معاہدے کی خلاف ورزی کے باعث پاکستان اور بھارت کے فوجیوں کے ساتھ ساتھ سرحد پر عام آبادی بھی نشانہ بنی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پاکستان نے اقوامِ متحدہ پر زور دیا ہے کہ وہ کشمیر کے بارے میں اپنی قراردادوں پر عمل درآمد کرائے اور بھارت کو کنٹرول لائن اور ورکنگ باونڈری پر بلااشتعال فائرنگ سے روکے۔







