’پاک بھارت اختلافات کا حل مذاکرات کے ذریعے ہی ہونا چاہیے‘

،تصویر کا ذریعہ
پاکستان کے دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے پاک بھارت اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے ہی حل کیا جانا چاہیے۔
یہ بات دفترِ خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے ہفتہ وار بریفنگ دیتے ہوئے کہی۔
انھوں نے کہا کہ پاکستان مذاکرات کے ذریعے ہی مسائل کے حل پر یقین رکھتا ہے۔
بھارتی وزیراعظم مودی کی جانب سے سیکریٹری خارجہ ایس جے شنکر کے دورہ پاکستان کے اعلان پر انھوں نے کہا کہ بھارتی سیکریٹری خارجہ کے دورے کی حتمی تاریخ طے نہیں ہوئی۔ ’ان کو خوش آمدید کہا جائے گا لیکن بات چیت کا ایجنڈا ابھی طے نہیں ہوا۔‘
دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے واضح کیا کہ پاکستان کی کوئی کشتی لاپتہ نہیں ہوئی اور بھارتی میڈیا نے کشتی کا ڈراما رچایا۔
’نام نہاد کشتی کا ڈراما اب اپنے انجام کو پہنچ چکا ہے۔‘
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستانی حکام نے کشتی کے واقعے کی تحقیقات کی تھیں اور بھارتی میڈیا کی حالیہ رپورٹس نے انھیں ثابت بھی کر دیا ہے۔
تسنیم اسلم نے مزید کہا کہ سمجھوتہ ایکسپریس واقعے کی تحقیقات سے پاکستان کو آگاہ نہیں کیا گیا اور آٹھ سال گزر جانے کے باوجود تاحال واقعے میں ملوث افراد کو سزا نہیں دی گئی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے سمجھوتہ ایکسپریس کی برسی پر بھارتی حکومت سے مطالبہ کیا کہ پاکستان کو تفصیلات سے آگاہ کیا جائے۔
امریکہ اور افغان طالبان کے مذاکرات کی خبروں پر دفترِ خارجہ کی ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستان مفاہمی عمل کوآگے بڑھانے کے لیے کردار ادا کر سکتا ہے اور مذاکرات کو افعان قیادت کے تحت ہونا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں امن کا قیام افغان حکومت کی ذمہ داری ہے ۔
’افغان طالبان اور امریکہ کے مذاکرات کے حوالے سے پاکستان کا موقف واضح ہے۔ تاہم ہمسایہ ملک ہونے کی حیثیت سے ہماری کوشش ہے کہ وہاں امن واستحکام ہو۔‘
مہاجرین کی واپسی کے سوال پر انھوں نے کہا کہ افغان حکومت اور اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے ساتھ 31 دسمبر تک افغان مہاجرین کی واپسی کا معاہدہ ہے۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ افغان مہاجرین کی وطن واپسی کے لیے افغان وفد بھی پاکستان کا دورہ کرے گا۔ تاہم ابھی افغان وفد کی آمد کی تاریخ طے نہیں کی گئی۔







