’بھارت سے بہتر تعلقات کی خواہش کاجواب نفی میں ملا‘

،تصویر کا ذریعہAFP
پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان کی جانب سے بہتر تعلقات کی خواہش کا جواب بھارت نے منفی انداز میں دیا ہے۔
نواز شریف نے کہا کہ پاکستان بھارت سمیت خطے کے دوسرے ممالک کے ساتھ اچھا تعلقات چاہتا ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نواز شریف نے ان خیالات کا اظہار سعودی گیزیٹ کو دیےگئے انٹرویو میں کیا۔
یاد رہے کہ نواز شریف نے تیسری مرتبہ اقتدار سنبھالنے کے بعد ہمسایہ ممالک سے بہتر تعلقات کو اپنی ترجیحات قرار دیا تھا۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق نواز شریف نے سعودی گیزیٹ کو دیےگئے انٹرویو میں کہا کہ’ہمسائے ملک بھارت سے اچھے تعلقات کی خواہش کے جواب میں بھارت کی جانب سے ویسا جواب نہیں ملا۔‘
بھارت میں گذشتہ برس انتخابات کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی اقدار میں آئی تھی اور وزیراعظم نواز شریف، وزیراعظم نریندر مودی کی دعوت پر حلف برداری کی تقریب میں شرکت کے لیے نئی دہلی گئے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مبصرین کا کہنا ہے کہ نواز شریف بھارت کے ساتھ تعلقات کے نئے دور کا آغاز کرنا چاہتے تھے۔
وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ ’اس بات کا کوئی اشارہ نہیں ملا ہے کہ بھارت مذاکرات دوبارہ شروع کرنا چاہتا ہے۔‘
ماضی میں بھی پاکستان اور بھارت کے تعلقات اتار چڑھاؤ کا شکار رہے ہیں اور پاکستان فوج کا کہنا ہے کہ حالیہ دونوں میں لائن آف کنٹرول پر خلاف ورزی اور اشتعال انگیزی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان سیاچین کے تنازعے کے بعد حالات بہت کشیدہ تھے لیکن فوجی صدر پرویز مشرف کے دورے میں دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں بہتری آئی اور کشیمر سمیت تمام مسائل کے حل کے لیے جامع مذاکرات شروع ہوئے۔
2008 میں بھارت کے شہر ممبئی میں شدت پسندوں کے حملے کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان جامع مذاکرت کا سلسلہ ختم ہو گیا ہے جو اب تک دوبارہ بحال نہیں ہو سکا۔
نواز شریف نے کہا کہ بھارت نے پاکستان کے ساتھ مذاکرت کے عمل کو یک طرفہ طور پر ختم کیا ہے اور بھارت کی جانب سے مذاکرت کی بحالی کے لیے کوششیں بھی نہیں کی جا رہی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان بھارت کے ساتھ جموں و کشمیر سمیت تمام تنازعات پر تعمیری مذاکرات کے خواہاں ہیں۔
یاد رہے کہ نواز شریف کے گذشتہ دور اقتدار میں سنہ 1999 میں اُس وقت کے بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی لاہور آئے تھے اور دونوں ملکوں کےدرمیان تعلقات بہتر کرنے کے حوالے سے معاہدہ لاہور طے پایا تھا۔
اٹل بہاری واجپائی کا تعلق بھی بھارت میں سخت گیر موقف رکھنے والی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی سے تھا۔







