بھارت پاکستان سے مذاکرات کے لیے تیار ہے: مودی

،تصویر کا ذریعہGetty
بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کا مستقبل اپنے ہمسایہ ممالک سے جڑا ہوا ہے اور اسی لیے انھوں نے اقتدار میں آتے ہی ہمسایہ ممالک کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا۔
بھارتی وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ان کا ملک خطے کے امن اور تشدد سے پاک ماحول کے لیے پاکستان کے ساتھ سنجیدہ مذاکرات کے لیے تیار ہے لیکن مذاکرات کے لیے آگے بڑھ کر صحیح ماحول فراہم کرنا پاکستان کے ہاتھ میں ہے۔
نریندر مودی کا کہنا تھا کہ دہشت گردی اتنے اقسام میں سامنے آ چکی ہے کہ ہر چھوٹا، بڑا ملک اس کی زد میں آ چکا ہے لیکن ’گڈ اور بیڈ ٹیررازم‘ جیسی اصطلاحوں سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہماری کوششوں پر سوالات اٹھتے ہیں۔
بھارتی وزیر اعظم نے ’جی 20‘ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ اقوام متحدہ جیسے پلیٹ فارم کی موجودگی میں ’جی‘ گروپس کیوں قائم ہیں؟
ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کی عمر ستر برس ہونے کو ہے اور اسی لیے ہمیں یہ سوچنا ہو گا کہ عالمی ماحول ’جی فار آل‘ ہونا چاہیے۔
مودی نے تمام ممالک سے اپیل کی کہ ’آئیے دنیا کی بہتری کے لیے مل کر کام کریں اور عالمی امن کے لیے اپنی تمام تر توانائیاں صرف کر دیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ دنیا میں کروڑوں لوگ صحت کی سہولیات سے محروم ہیں، نہ ان کے پاس بجلی ہے اور نہ پینے کا صاف پانی۔
اس سے قبل پاکستان کے وزیرِاعظم نواز شریف نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ کشمیر کا بنیادی مسئلہ حل ہونا چاہیے اور یہ بین الاقوامی برادری کی ذمہ داری بھی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
جمعے کو خطاب میں وزیراعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ نے تقریباً چھ دہائیاں قبل کشمیر میں رائے شماری کرانے سے متعلق قرارداد منظور کی تھی اور جموں، کشمیر کے عوام تاحال اس وعدے کے پورا ہونے کے انتظار میں ہیں۔
انھوں نے بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں حقوق انسانی کی خلاف ورزیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہم کشمیر کے مسئلے پر پردہ نہیں ڈال سکتے ہیں جب تک اس کو جموں و کمشیر کے عوام کے خواہشات کے مطابق حل نہیں کیا جاتا۔
وزیراعظم کے بقول پاکستان کشمیر کا مسئلہ بات چیت کے ذریعے حل کرنے پر تیار ہے اور ہماری کشمیری عوام کے حق خود ارادی پر حمایت اور مدد جاری رہی گی کشمیر کے مسئلے میں فریق ہونے کے ناطے یہ ہمارا تاریخی وعدہ اور ذمہ داری ہے۔‘
بھارت کے موجودہ وزیراعظم نریندر مودی نے اپنی تقریب حلف برداری کے موقع پر وزیراعظم نواز شریف کو مدعو کیا تھا اور دہلی میں دونوں رہنماؤں کے مابین ملاقات میں تعلقات کی بہتری پر اتفاق کیا گیا تھا۔ لیکن اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران دونوں راہنماؤں کی ملاقات نہ ہو سکی۔







