سارک کانفرنس پر نواز اور مودی ملاقات متوقع

بھارتی وزیر اعظم بھی اس کانفرنس میں موجود ہوں گے، تاہم دونوں سربراہان مملکت کی ملاقات کے بارے میں ابھی کچھ نہیں کہا جا سکتا: پاکستانی دفترِ خارجہ

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنبھارتی وزیر اعظم بھی اس کانفرنس میں موجود ہوں گے، تاہم دونوں سربراہان مملکت کی ملاقات کے بارے میں ابھی کچھ نہیں کہا جا سکتا: پاکستانی دفترِ خارجہ
    • مصنف, آصف فاروقی، ریاض مسرور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام

وزیراعظم پاکستان نواز شریف اگلے ماہ نیپال میں ہونے والی سارک سربراہ کانفرنس میں شریک ہوں گے جہاں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی بھی مدعو ہیں۔

دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے ہفتہ وار بریفنگ کے دوران صحافیوں کو بتایا کہ پاکستانی اور بھارتی وزیر اعظم کھٹمنڈو میں 26 نومبر کو سارک کانفرنس کے لیے موجود تو ہوں گے لیکن ان کے درمیان ملاقات کا ابھی تک کوئی پروگرام نہیں بنایا گیا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ نیپال کے وزیر خارجہ نے جمعرات کے روز اس دو روزہ کانفرنس کا دعوت نامہ دیا ہے اور پاکستان نے اس میں وزیر اعظم کی شرکت کی تصدیق بھی کر دی ہے۔

’ہماری اطلاع کے مطابق بھارتی وزیر اعظم بھی اس کانفرنس میں موجود ہوں گے۔ تاہم ان دونوں سربراہان مملکت کے درمیان ملاقات ہو گی یا نہیں، اس بارے میں ابھی کچھ نہیں کہا جا سکتا۔‘

سارک سربراہ کانفرنس 26 اور 27 نومبر کو کھٹمنڈو میں ہو رہی ہے۔ اس سے قبل 22 نومبر کو ان ممالک کے وزرائے خارجہ کی کانفرنس ہو گی جس میں سربراہان کی کانفرنس کا ایجنڈا طے کیا جائے گا۔

سارک کانفرنس ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب جنوبی ایشیا کے دو بڑے ممالک یعنی بھارت اور پاکستان کے درمیان سرحدی تناؤ پایا جاتا ہے۔

گذشتہ چند ہفتوں کے دوران سرحد کی دونوں جانب سے فائرنگ اور گولہ باری کے واقعات میں متعدد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

چند برس قبل اسی طرح کے ماحول میں سارک کانفرنس کے دوران اس وقت کے صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے بھارت کے ساتھ کشیدگی کم کرنے کی خاطر اس وقت کے بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کے ساتھ مصافحہ کیا تھا۔

جنرل پرویز مشرف اپنی تقریر ختم کرنے کے بعد سٹیج پر ہی موجود بھارتی وزیراعظم کی جانب گئے تھے اور ان سے بغیر پیشگی اطلاع کے ہاتھ ملایا تھا۔

ان کا یہ اقدام بہت مشہور ہوا تھا لیکن دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کم کرنے میں یہ مصافحہ کوئی خاص کردار ادا نہیں کر پایا تھا۔