نریندر مودی کی امداد کی پیشکش قابلِ قدر ہے: نواز شریف

تین ماہ قبل نریندر مودی کے وزیر آعظم نامزد ہونے کے بعد سے نواز شریف اور نریندر مودی کے درمیان خط و کتابت کا ایک سلسلہ چل پڑا ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنتین ماہ قبل نریندر مودی کے وزیر آعظم نامزد ہونے کے بعد سے نواز شریف اور نریندر مودی کے درمیان خط و کتابت کا ایک سلسلہ چل پڑا ہے

پاکستان کے وزیرِ اعظم نواز شریف نے سیلاب زدہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں بھارتی وزیرِ اعظم کی مدد کی پیشکش کو قابل قدر قرار دیتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا ہے۔

اس کے ساتھ ہی ریڈیو پاکستان کے مطابق انھوں کہا ہے کہ وہ لائن آف کنٹرول کے اس پار (بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں) بارش اور سیلاب کے نتیجے میں آنے والی تباہی سے متاثرہ لوگوں کی بحالی اور امداد کے لیے ہر ممکن تعاون کے لیے تیار ہیں۔

نواز شریف نے یہ باتیں نریندرمودی کے اس خط کے جواب میں لکھیں جو انھوں نے اتوار کو نواز شریف کے نام ارسال کیا تھا۔

واضح رہے کہ پاکستان کے مختلف علاقوں اور بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں حالیہ بارشوں اور سیلاب کے نتیجے میں 350 افراد ہلاک جبکہ لاکھوں افراد متاثر ہوئے ہیں۔

خط میں نواز شریف نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان علاقے میں امن اور ترقی کے ایجنڈے میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے بہتر انتظامات کے سلسلے میں تعاون کو بھی شامل کیا جانا چاہیے۔

نریندر مودی کے خط کے جواب میں نواز شریف نے لکھا: ’مجھے آپ کا سات ستمبر کو خط ملا جس میں آپ نے غیر متوقع شدید بارش اور سیلاب سے متاثرہ پاکستان کے لوگوں کے لیے ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔ ساتھ ہی ہمارے امدادی کاموں میں آپ کی مدد کی پیشکش بھی قابل تعریف ہے۔ مشکل گھڑی میں اس طرح کی یکجہتی واقعی قیمتی ہے۔‘

نواز شریف نے یہ بھی لکھا کہ انھیں علم ہے کہ کنٹرول لائن کے پار بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں بھی جان مال کا زبردست نقصان ہوا ہے۔

نواز شریف نے لکھا: ’اس مشکل گھڑی میں ہم متاثرہ خاندانوں کے لیے دعاگو ہیں اور ان کی بحالی اور امدادی کام میں ہر ممکن مدد دینے کے لیے تیار ہیں۔‘

انھوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ جنوبی ایشیا کے علاقے دنیا بھر میں قدرتی آفات سے سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں شامل ہیں۔

انھوں نے کہا: ’جب ہم امن و استحکام کے اپنے مشترکہ مقاصد کا خاکہ تیار کریں تو ہمیں بار بار آنے والے سیلاب کے مسئلے سے نمٹنے پر بھی اپنی توجہ مرکوز کرنی چاہیے اور قدرتی آفات کے دفاع اور ان سے ٹمنٹے کی تیاریوں کو مستحکم کرنے پر غور کیا جانا چاہیے۔‘