پاکستان اور بھارت میں سیلاب سے تباہی، 350 ہلاکتیں

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
پاکستان کے مختلف علاقوں اور بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں بارشوں اور سیلاب کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 350 ہو گئی ہے جبکہ لاکھوں افراد متاثر ہوئے ہیں۔
دونوں ممالک نے ایک دوسرے کو اپنے اپنے زیرانتظام کشمیر میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امداد کی پیشکش کی ہے۔
پاکستان کے دفترِ خارجہ نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر میں امداد کی پیشکش کے جواب میں انھیں بھارت کے زیرِ انتظام کمشیر میں مدد کی پیشکش کی ہے۔
پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے این ڈی ایم اے کے مطابق ملک کے مختلف حصوں میں بارشوں اور سیلاب کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 205 ہو گئی ہے جبکہ سوا تین لاکھ کے قریب افراد متاثر ہوئے ہیں۔
این ڈی ایم اے کے ترجمان احمد کمال نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ صوبہ پنجاب میں 131 افراد، پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں 63 جبکہ گلگت بلتستان میں 11 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
ترجمان کے مطابق صوبہ پنجاب میں 273 افراد زخمی ہوئے ہیں جبکہ 1168 مکانات کو جزوی نقصان پہنچا ہے جبکہ 352 مکانات مکمل طور پر تباہ ہو گئے ہیں۔ سیلاب سے 838 گاؤں متاثر ہوئے ہیں، 12 لاکھ 60 ہزار ایکڑ پر کھڑی فصلیں متاثر ہوئی ہیں، جبکہ صوبے میں 193 امدادی اور 485 طبی کیمپ کیمپ قائم کیے گئے ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں 120 گاؤں اور 769 افراد متاثر ہوئے۔
انھوں نے بتایا کہ اس وقت حافظ آباد، منڈی بہاؤالدین، چنیوٹ اور جھنگ میں کشتیوں اور ہیلی کاپٹروں کی مدد سے امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
محکمۂ موسمیات کے سربراہ محمد ریاض نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے سیلاب کی تازہ صورتِ حال کے بارے میں بتایا کہ اس دریائے چناب میں آٹھ لاکھ 13 ہزار کیوسک کا سیلابی ریلا چنیوٹ کے قریب سے گزر رہا ہے اور کل سے تریموں بیراج پر پانی کی سطح بلند ہونا شروع ہو جائے گی جہاں دریائے جہلم سے سیلابی ریلا بھی شامل ہو گا اور دس تاریخ سے 11 تاریخ تک اونچے درجے کے سیلاب کی صورت حال رہے گی۔

،تصویر کا ذریعہAFP
این ڈی ایم اے کے حکام کے مطابق تریموں بیراج سے پانی گزرنے کی صلاحیت چھ لاکھ 40 ہزار کیوسک ہے اور بیراج کو بچانے کے لیے اس کے حفاظتی پشتے میں شگاف ڈالا جا سکتا ہے اور اس کے نتیجے میں ممکنہ متاثرہ علاقوں میں ریڈ الرٹ پہلے ہی جاری کیا جا چکا ہے۔
اس کے مزید دو دن بعد سیلابی ریلا پنجند کے مقام پر پہنچے گا جہاں یہ کم ہو کر چھ لاکھ کیوسک تک ہو جائے گا اور مزید دو دن بعد مٹھن کوٹ کے مقام پر دریائے سندھ میں شامل ہو جائے گا۔
انھوں نے مزید بتایا کہ دریائے چناب میں پانی کی سطح میں کمی دیکھی جا رہی ہے، جب کہ ہیڈ مرالہ پر پانی کی سطح نو لاکھ کیوسک سے زیادہ ہو گئی ہے۔ ہیڈ قادرآباد سے بھی نو لاکھ کیوسک سے زیادہ پانی، اور اب چنیوٹ کے قریب سے آٹھ لاکھ کا ریلا گزر رہا ہے اور پنجند کے مقام پر چھ سے سات لاکھ کیوسک متوقع ہے۔
انھوں نے کہا کہ پنجند سے مٹھن کوٹ تک کے علاقے میں سیلابی ریلے کی وجہ سے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں کیونکہ یہاں پر دریائے چناب کا پاٹ تنگ ہے جبکہ مٹھن کوٹ سے آگے جب دریائے سندھ میں شامل ہو گا تو زیادہ مسئلہ نہیں ہو گا کیونکہ دریائے سندھ کا پاٹ خاصا وسیع ہے اور گدو بیراج کے مقام پر پانچ سے سات لاکھ کیوسک کا ریلا گزرنے کی توقع ہے اور گدو بیراج پر اتنے پانی سے کوئی خاص مسائل پیدا نہیں ہوں گے۔
بھارت کے زیر انتظام کشمیر کی صورتحال

،تصویر کا ذریعہAP
بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں بارشوں اور سیلاب کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 150 کے قریب ہو گئی ہے اور سینکڑوں افراد تاحال متاثرہ علاقوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔
بی بی سی ہندی کے مطابق وادی میں 23 طیاروں اور 26 ہیلی کاپٹروں کی مدد سے امدادی کارروائیاں جاری ہیں جبکہ سیلاب کے نتیجے میں مواصلاتی نظام متاثر بری طرح متاثر ہوا ہے۔
مقامی صحافیوں کے مطابق ’سیلاب کی وجہ سے ریڈیو کشمیر سری نگر کی نشریات بھی بند ہو گئی ہیں۔ امدادی کاموں میں مصروف ٹیمیں خود سیلاب میں پھنس گئی ہے جس کی وجہ سے امدادی کارروائیوں میں تاخیر ہو رہی ہے۔
اس کے علاوہ سری نگر کی ڈل جھیل میں پانی کی سطح میں مسلسل اضافے کی وجہ سے قریبی آبادیوں میں پانی داخل ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
حکام کے مطابق کشمیر کے جنوبی علاقوں میں سیلاب نے خاصی تباہی پھیلائی ہے اور اب شمالی علاقے میں صورت حال خراب ہو رہی ہے۔
بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی نے اتوار کو کشمیر کے متاثرہ علاقوں کا فضائی جائزہ لیا اور امدادی کاموں کے لیے ایک ہزار کروڑ روپے کی مدد کا اعلان کیا۔







