’اوفا معاہدہ متنازع ہوگیا ہے‘

،تصویر کا ذریعہPMOIndia
- مصنف, آصف فاروقی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان اور بھارت کے قومی سلامتی کے مشیروں میں مذاکرات کی منسوخی کے بعد بعض ماہرین اور پالیسی سازوں کی نظر میں دونوں ملکوں کے سربراہوں کے درمیان روسی شہر اوفا میں طے پانے والا معاہدہ متنازع حیثیت اختیار کر چکا ہے۔
اسی بنا پر بعض پاکستانی حکام اب سمجھتے ہیں کہ دونوں ملکوں کے فوجی افسروں اور سرحدی محافظوں کے درمیان آئندہ ماہ طے شدہ ملاقاتیں بھی کھٹائی میں پڑنے کا امکان ہے۔
حتمی تاریخوں کا اعلان ہونا باقی تھا لیکن دونوں ملکوں کی فوجوں کے ملٹری آپریشنز کے سربراہان کے درمیان چھ ستمبر کو ملاقات کی تجویز دی گئی تھی۔
اس کے علاوہ بھارتی بارڈر سکیورٹی فورس اور پاکستانی رینجرز کے افسران نے بھی انھی دنوں میں ملاقاتیں کرنا تھیں۔
تاہم بعض پاکستانی ذرائع کا کہنا ہے کہ اب یہ ملاقاتیں بھی نہیں ہو پائیں گی۔
پاکستانی قومی سلامتی کے مشیر سرتاج عزیز نے 23 اگست کو نئی دہلی جانا تھا جہاں انھوں نے اپنے بھارت ہم منصب کے ساتھ مذاکرات کرنے تھے۔ تاہم دونوں ملکوں کے درمیان ان مذاکرات کے ایجنڈے پر اختلاف اور سرتاج عزیز کی کشمیری رہنماؤں کو ملاقات کی دعوت کے باعث پاکستانی قومی سلامتی کے مشیر کا دورہ بھارت عین وقت پر منسوخ کر دیا گیا۔
قومی سلامتی کے مشیروں کے درمیان یہ مذاکرات روسی شہر اوفا میں پاکستانی وزیراعظم نواز شریف اور ان کے بھارت ہم منصب نریندر مودی کے درمیان ملاقات کے بعد جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیے کے نتیجے میں منعقد ہو رہے تھے۔
اسی اعلامیے میں دونوں ملکوں کے درمیان فوجی سطح پر رابطوں کی بحالی کا بھی ذکر کیا گیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تاہم بعض پاکستانی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس بات کا امکان اب کم رہ گیا ہے کہ پاکستانی ملٹری آپریشنز کے سربراہ اپنے بھارتی ہم منصب سے ملاقات کے لیے رابطہ کریں۔
پاکستانی اور بھارتی ملٹری آپریشنز کے سربراہ کئی برسوں سے ٹیلی فون پر ہفتہ وار گفتگو کرتے رہے ہیں لیکن ایک برس سے یہ سلسلہ معطل ہے۔
اوفا اعلامیے کے پس منظر میں یہ رابطے بحال ہونے کا امکان تھا لیکن اب ایسا ہوتا نظر نہیں آ رہا۔
دفاعی تجزیہ کار اور پاکستانی فضائیہ کے سابق اعلیٰ افسر ایئر وائس مارشل شہزاد چوہدری کے مطابق پاکستان اور بھارت کے اعلیٰ فوجی حکام کی ملاقات بھی اب ممکن نہیں ہے۔
’قومی سلامتی کے مشیروں کے درمیان ملاقات کی منسوخی کی وجہ سے تلخی اس قدر بڑھ چکی ہے کہ ایسے میں فوج کے درمیان اعلیٰ سطحی رابطوں کا امکان بہت کم رہ گیا ہے اور اگر یہ ملاقاتیں ہو بھی جاتی ہیں تو ان کا کوئی نتیجہ نکلتا دکھائی نہیں دے رہا۔‘
تاہم ان کا کہنا تھا کہ سرحد پر موجود مقامی فوجی کمانڈر موقعے کی مناسبت سے اگر فلیگ میٹنگ کرنا چاہیں تو اس میں کوئی رکاوٹ نہیں ہونی چاہیے۔
بھارت میں پاکستان کے سابق سفیر عزیز احمد خان تو اعلیٰ فوجی افسران کے درمیان رابطوں کو اوفا اعلامیے میں شامل کیے جانے ہی کے خلاف ہیں۔
’دونوں ملکوں کے ملٹری آپریشنز برانچوں کے سربراہوں کے درمیان ملاقاتیں معمول کا حصہ تھیں، انھیں اوفا اعلامیے میں شامل کرنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ اگر ان ملاقاتوں کو اسی طرح عام معمول کے مطابق بحال کر دیا جاتا تو یہ معاملہ آگے چل سکتا تھا۔‘
عزیز احمد خان نے کہا کہ اصولاً تو نچلی سطح پر ہونے والے ان رابطوں پر قومی سلامتی کے مشیروں کے مذاکرات کی منسوخی کا زیادہ اثر نہیں پڑنا چاہیے لیکن عملاً ایسا ہی ہو گا۔
’جب بھی معاملات میں تلخی آتی ہے تو اس کے اثرات نیچے تک دکھائی دیتے ہیں حالانکہ ایسا ہونا نہیں چاہیے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty
دفاعی تجزیہ کار شہزاد چوہدری کا تو کہنا ہے کہ قومی سلامتی کے مشیروں کے درمیان ملاقات کی منسوخی کے بعد پورے کا پورا اوفا اعلامیہ متنازع ہو چکا ہے۔
’اب جب کہ اوفا متنازع ہو گیا ہے تو اس میں جن ملاقاتوں وغیرہ کا ذکر تھا وہ سب بھی متنازع ہو گئی ہیں۔ جہاں تک مقامی کمانڈروں کے درمیان رابطوں کا تعلق ہے تو وہ تو ہو سکتے ہیں لیکن رینجرز یا ملٹری آپریشنز کے سربراہوں کے درمیان ملاقاتوں کا معاملہ اوفا اعلامیے کے ساتھ ہی متنازع ہوگیا ہے۔‘
پاکستانی حکام کا اب یہ خیال ہے کہ پاکستان اور بھارت کو بات چیت بحال کرنے کے لیے ایک بار پھر اعلیٰ ترین سطح پر رابطہ کرنا ہوگا اور بات اوفا اعلامیے سے ہٹ کر کرنا ہو گی۔
سابق سفارت کار عزیز احمد خان کہتے ہیں کہ یہ موقع بہت جلد ملنے والا ہے۔
’اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقعے پر پاکستانی اور بھارتی وزیراعظم کو مل بیٹھ کر بات کرنی چاہیے اور سکون کے ساتھ بغیر ماضی میں جھانکنے اور نئے آغاز کی کوشش کرنی چاہیے۔‘
عزیز احمد خان کے بقول تعلقات کو بہتر بنانے کا اتنا جلد اور اتنا مناسب موقع دوبارہ نہیں ملے گا۔







