’کشمیر کے بغیر بھارت سے مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں‘

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, احمد رضا
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
وزیر اعظم کے مشیر سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ جب تک کشمیر سمیت تمام حل طلب مسائل پر بات چیت نہیں ہوگی، اس وقت تک بھارت کے ساتھ مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں۔
منگل کو اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سرتاج عزیز نے کہا کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی پاکستان مخالف ایجنڈے پر الیکشن لڑ کے اقتدار میں آئے ہیں اور وہ اپنی شرائط پر پاکستان کے ساتھ تعلقات کو بہتر کرنا چاہتے ہیں اور صرف انہی معاملات پر بات کرنے پر تیار ہیں جو ان کے مفاد میں ہیں۔
اسی دوران پاکستان اور بھارت کی سرحدی فورسز کے حکام بدھ کو دہلی میں ملاقات کریں گے جس میں لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر فائربندی کے معاہدے کی خلاف ورزیوں پر بات ہوگی۔
خیال رہے کہ پاکستان اور بھارت کی حکومتوں کے قومی سلامتی کے مشیروں کے درمیان گذشتہ ماہ 24 اگست کو ملاقات ہونی تھی جو دونوں ملکوں کے درمیان ایجنڈے پر اختلاف کی وجہ سے منسوخ کر دی گئی تھی۔
افغانستان کے ساتھ معاشی روابط
سرتاج عزیز نے پاکستان افغانستان تعلقات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ملکوں نے جلد ہی باہمی اعتماد کی یادداشت پر دستخط کرنے پر اتفاق کیا ہے جبکہ باہمی معاشی تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے افغان وزیرِ خزانہ اکلیل احمد حکیمی نومبر کے پہلے ہفتے میں پاکستان کا دورہ کریں گے۔
وزیرِاعظم کے مشیر نے کہا کہ ’صدر اشرف غنی نے اس سے اتفاق کیا ہے کہ ہمیں اعتماد کی کمی کو دور کرنا چاہیے اور اعتماد کا ماحول بحال کرنا چاہیے۔ اس کے لیے پانچ چھ تجاویز سامنے آئیں اور یہ طے ہوا کہ ان پہ مزید کام کرنے کے بعد آنے والے دنوں میں باہمی اعتماد کی یادداشت پر باضابطہ طور پر دستخط کیے جائیں تاکہ آئندہ ایسے واقعات نہ ہوں۔‘
سرتاج عزیز نے حال ہی میں کابل کا دورہ کر کے افغان صدر اشرف غنی اور دیگر حکام سے ملاقاتیں کی ہیں۔
یہ دورہ افغان حکام کے حالیہ پاکستان مخالف بیانات کے پس منظر میں ہوا۔ وزیراعظم کے مشیر نے کہا کہ انھوں نے افغان صدر کو بتایا ہے کہ اس قسم کی پاکستان مخالف مہم دونوں ملکوں کے تعلقات کے لیے بہتر نہیں ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے کہا کہ افغان وزیر خزانہ نومبر کے پہلے ہفتے میں پاکستان کا دورہ کریں گے تاکہ پاک افغان مشترکہ معاشی کمیشن کو فعال کیا جاسکے۔
سرتاج عزیز نے کہا کہ افغان حکومت نے کابل میں پاکستانی سفارتخانے کی سکیورٹی بڑھانے کا بھی یقین دلایا ہے۔







