سرتاج عزیز کا دورۂ کابل: مصالحتی عمل میں تعاون کی یقین دہانی

پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ کشیدگی کے بعد سرکاری سطح پر یہ پہلی ملاقات ہو گی

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنپاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ کشیدگی کے بعد سرکاری سطح پر یہ پہلی ملاقات ہو گی

پاکستان کا کہنا ہے کہ وہ افغانستان میں امن کے قیام کے لیے افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات کے تیسرے دور کے انعقاد کے لیے سہولت کار کا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے، لیکن مذاکرات میں پہل افغانستان کو کرنا ہو گی۔

پاکستان کے مشیر خارجہ سرتاج عزیز جمعے کے دن ایک روزہ دورے پر کابل میں ہیں اور افغان صدر اشرف غنی سے ان کی ملاقات ہوئی ہے۔

پاکستان کے دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم کے مشیر برائے قومی سلامتی افغان صدر سے ملاقات میں پاکستان کے خلاف افغان حکومت کے پروپیگنڈے کی روک تھام اور طالبان کے ساتھ مذاکراتی عمل کو بحال کرنے پر زور دیں گے۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ کشیدگی کے بعد سرکاری سطح پر یہ پہلی ملاقات ہو گی۔

دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ افغانستان میں امن کا قیام، خطے سمیت دونوں ملکوں کے مفاد میں ہے۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان افغانستان میں مفاہمت کے حق میں ہے اور اس مقصد کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔

پاکستان کے مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے جمعے کو کابل میں علاقائی اقتصادی تعاون پر ہونے والی کانفرنس میں شرکت کی۔ انھوں نے کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ اقتصادی طور پر مستحکم افغانستان پاکستان کے مفاد میں ہے۔

سرتاج عزیز نے کانفرنس سے خطاب کے دوران پاکستان پشاور سے جلال آباد اور چمن سے سپین بولدک تک ریلوے لائن بچھانے کے منصوبے کے ساتھ ساتھ پشاور سے کابل تک موٹر وے بنانے کے منصوبے پر بھی کام کر رہا ہے۔

پاکستان میں دفتر خارجہ کے حکام کا کہنا ہے کہ مشیر خارجہ سرتاج عزیز افغان صدر اشرف غنی سے ملاقات میں پاکستان کے خلاف منفی پروپیگنڈے کے باعث کابل میں موجود پاکستانی سفارت خانے کے عملے کو خطرات اور اُن کی سکیورٹی کے حوالے سے بات کریں گے اور افغانستان سے درخواست کی جائے گی کہ افغان حکومت پاکستان مخالف بیانات روکے تاکہ دونوں ممالک کے درمان اعتماد بحال ہو۔

افغان صدر اشرف غنی نے گذشتہ ماہ پاکستان پر اپنی سر زمین پر پناہ دینے کا الزام لگایا تھا اور کہا تھا کہ ’ہمیں پاکستان سے امن کے پیغامات کی امید تھی لیکن ہمیں جنگ کے پیغامات مل رہے ہیں‘

،تصویر کا ذریعہepa

،تصویر کا کیپشنافغان صدر اشرف غنی نے گذشتہ ماہ پاکستان پر اپنی سر زمین پر پناہ دینے کا الزام لگایا تھا اور کہا تھا کہ ’ہمیں پاکستان سے امن کے پیغامات کی امید تھی لیکن ہمیں جنگ کے پیغامات مل رہے ہیں‘

دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ سرتاج عزیز قیامِ امن کے لیے طالبان کے ساتھ مذاکراتی عمل کو بحال کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیں گے کیونکہ پاکستان کا موقف ہے کہ مذاکرات ہی بہترین راستہ ہے۔

واضح رہے کہ طالبان کے سربراہ ملا محمد عمر کی ہلاکت کے بارے میں خبریں افشا ہونے سے یہ عمل ملتوی ہو گیا تھا۔

حالیہ کچھ عرصے کے دوران پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالات کشیدہ ہیں۔

افغان صدر اشرف غنی نے گذشتہ ماہ پاکستان پر اپنی سر زمین پر طالبان کو پناہ دینے کا الزام لگایا تھا اور کہا تھا کہ ’ہمیں پاکستان سے امن کے پیغامات کی امید تھی لیکن ہمیں جنگ کے پیغامات مل رہے ہیں۔‘