افغان طالبان کی درخواست پر امن مذاکرات ملتوی

،تصویر کا ذریعہmofa
- مصنف, آصف فاروقی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کے دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ افغان طالبان کی درخواست پر جمعے کو افغان حکومت اور طالبان کے درمیان ہونے والے امن مذاکرات کا دوسرا دور ملتوی کر دیا گیا ہے۔
اس دور کے التوا کا اعلان ایسے موقع پر ہوا ہے جب افغان طالبان نے اپنے سربراہ ملا عمر کے انتقال کے بعدملا اختر منصور کو اپنا نیا سربراہ مقرر کیاہے۔
<link type="page"><caption> ’طالبان کا سیاسی دفتر حکومت کے ساتھ مذاکرت میں شامل نہیں‘</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/regional/2015/07/150730_doha_office_on_afghan_piece_talk_sr" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> ’ملا عمر کی موت کی خبر قابلِ اعتبار ہے، کہاں ہوئی اس کا جائزہ لے رہے ہیں‘</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/regional/2015/07/150729_taliban_leader_omar_dead_zz" platform="highweb"/></link>
جمعرات کو پاکستان کے دفتر خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ افغان امن مذاکرات کا دوسرا دور جو 31 جولائی کو منعقد ہونا تھا، افغان طالبان کی قیادت کی درخواست پر ملتوی کر دیا گیا ہے۔
دفتر خارجہ کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ افغان طالبان کے امیر ملا محمد عمر کی ہلاکت کی خبروں کی وجہ سے بھی غیر یقینی صورتحال پیدا ہو چکی ہے۔
بیان میں توقع ظاہر کی گئی ہے کہ وہ قوتیں جو ان مذاکرات کی مخالف ہیں اور بدنیتی کے ساتھ انھیں متاثر کرنا چاہتی ہیں وہ کامیاب نہیں ہوں گی۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ پاکستان اور دیگر دوست ممالک امید کرتے ہیں کہ طالبان قیادت افغانستان میں قیام امن کے لیے مذاکرات کے عمل میں شامل رہے گی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مذاکرات کے التوا کے اعلان سے قبل جمعرات کو ہی افغان طالبان کے قطر میں قائم سیاسی دفتر نے افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات کے دوسرے مرحلے میں شامل نہ ہونے کا اعلان کیا تھا۔
طالبان نے ویب سائٹ پر جاری بیان میں کہا ہے کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات کے دوسرے مرحلے میں قطر دفتر نہ شریک ہے اور نہ اسے اس عمل کا کوئی علم ہے۔

افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور پاکستان کے سیاحتی مقام مری میں ہوا تھا۔ سات جولائی کو ہونے والے مذاکرت میں طالبان کی جانب ملا عباس اخوند، عبدالطیف منصور اور حاجی ابراہیم حقانی شریک ہوئے تھے لیکن اس دور میں بھی طالبان کے قطر میں قائم سیاسی دفتر کے عہدیدران شامل نہیں تھے۔
اس سے قبل ہفتہ وار بریفنگ میں پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان قاضی خلیل اللہ نے ملا محمد عمر کی موت کے بارے میں شائع ہونے والی خبروں کو ’افواہیں‘ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستانی حکام اپنے طور پر ان اطلاعات کی صداقت جاننے کی کوشش کر رہے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ’ہم سب جانتے ہیں کہ اس طرح کی افواہیں طویل عرصے سے گردش کر رہی ہیں۔ پاکستانی حکام ان خبروں کے درست ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں حقائق جاننے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘
ان کی توجہ جب ان خبروں کی جانب دلوائی گئی جن میں کہا گیا ہے کہ ملا عمر کی موت کراچی کے ایک ہسپتال میں ہوئی تو دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ وہ ان افواہوں پر مزید بات نہیں کرنا چاہتے۔
ملا عمر کی مبینہ موت کے افغان حکومت اور تحریک طالبان کے درمیان ہونے والے مذاکرات پر اثرات کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال پر ترجمان نے کہا کہ پاکستان ان مذاکرات کے ساتھ مخلص ہے اور چاہتا ہے کہ فریقین ان مذاکرات کے ذریعے افغانستان میں امن پیدا کریں۔’لیکن چونکہ یہ سب افواہیں ہیں اس لیے افواہوں کے اثرات کے بارے میں کچھ بھی کہنا مناسب نہیں ہو گا۔‘







