’ملا اختر منصور باضابطہ امیر مقرر‘ شوریٰ میں اختلاف برقرار

،تصویر کا ذریعہAFP
افغان طالبان نے اپنے سربراہ ملا محمد عمر کی موت کی تصدیق کے بعد اب باضابطہ طور پر ملا اختر منصور کو تحریک کا نیا امیر مقرر کر دیا ہے۔
طالبان کی جانب سے اس بارے میں اعلامیہ جاری کر دیا گیا ہے۔ اعلامیے میں نئے امیر کی نیابت کے لیے دو طالبان رہنماؤں کا انتخاب بھی کیا گیا ہے جن میں سے ایک حقانی نیٹ ورک کے سربراہ سراج الدین حقانی اور دوسرے طالبان کے قاضی القضاۃ کے منصب پر فائز ملا ہیبت اللہ اخونزادہ ہیں۔
طالبان کے اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ شاید نئے امیر کی تقرری پر تنظیم کے اندر جو اختلافات سامنے آئے تھے ان پر کسی حد تک قابو پا لیا گیا ہے۔
<link type="page"><caption> ’طالبان کا سیاسی دفتر حکومت کے ساتھ مذاکرت میں شامل نہیں‘</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/regional/2015/07/150730_doha_office_on_afghan_piece_talk_sr" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> ’ملا عمر کی موت کی خبر قابلِ اعتبار ہے، کہاں ہوئی اس کا جائزہ لے رہے ہیں‘</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/regional/2015/07/150729_taliban_leader_omar_dead_zz" platform="highweb"/></link>
بیان کے مطابق کسی نامعلوم مقام پر ہونے والے اجلاس میں طالبان کی رہبری شوریٰ کے اراکین اور جید علماء نے مشاورت کے بعد ملا محمد عمر کے قریبی ساتھی ملا اختر منصور کو نیا امیر مقرر کیا ہے۔
تاہم افغان اُمور کے تجزیہ کار رحیم اللہ یوسفزئی کے مطابق رہبری شوریٰ کے کئی اہم اراکین نے ملا اختر کی تعیناتی پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
ان اراکین میں ملا محمد رسول، ملا محمد حسن رحمانی اور ملا عبدالرزاق شامل ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کا الزام ہے کہ تقرری کے مرحلے کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ شوریٰ کے اجلاس میں شریک نہیں تھے۔ تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ طالبان کی جانب سے باضابطہ اعلان ان اہم رہنماوں سے رات گئے مشاورت کے بعد جاری کیا گیا ہے یا نہیں۔
ملا عمر کے دو برس قبل پاکستان میں علالت کے بعد انتقال کر جانے کی خبر بدھ کو افغان سکیورٹی سروس کی جانب سے سامنے آئی تھی تاہم جہاں افغان اور امریکی حکومت کی جانب سے اس خبر کو قابلِ اعتبار اور مستند قرار دیا گیا تھا وہیں افغان طالبان کی جانب سے اُس وقت اس کی تصدیق نہیں کی گئی تھی۔
جمعرات کو طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد اور ملا عمر کے خاندان کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں ان کی موت کا اعلان کرتے ہوئے یہ تو نہیں بتایا گیا کہ ملا عمر کا انتقال کب اور کہاں ہوا تاہم یہ ضرور کہا گیا ہے کہ ’ان کی صحت آخری دو ہفتے میں بہت بگڑ گئی تھی۔‘
بیان میں ان اطلاعات کی سختی سے تردید کی گئی ہے کہ ملا عمر کا انتقال پاکستان کے شہر کراچی کے ایک ہسپتال میں ہوا تھا۔
طالبان نے کہا ہے کہ ’امریکہ کی افغانستان پر فوج کشی کے بعد گذشتہ 14 برس میں ملا عمر نے پاکستان سمیت کسی بھی غیر ملک کا ایک دن کے لیے بھی سفر نہیں کیا۔‘
افغان طالبان نے ملا عمر کی وفات پر تین روزہ سوگ کا اعلان بھی کیا ہے۔

نئے امیر کا انتخاب
سینیئر صحافی رحیم اللہ یوسف زئی کے مطابق افغان طالبان کے نئے امیر کا انتخاب بدھ کی شام ایک نامعلوم مقام پر افغان طالبان شوریٰ کے اجلاس میں کیا گیا۔
انھوں نے بتایا کہنئے امیر اختر محمد منصور اب تک نائب امیر کے فرائض سرانجام دے رہے تھے۔
نئے امیر کی نیابت کے لیے دو طالبان رہنماؤں کا انتخاب کیا گیا ہے جن میں سے ایک حقانی نیٹ ورک کے سربراہ سراج الدین حقانی ہوں گے۔
طالبان کے قاضی القضاۃ کے منصب پر فائز ملا ہیبت اللہ اخونزادہ کو بھی منصور اختر کا نائب معاون مقرر کیا گیا ہے۔
رحیم اللہ یوسف زئی کے مطابق طالبان ذرائع کا کہنا ہے کہ نئے امیر کا انتخاب متفقہ طور پر ہوا ہے۔ تاہم اس موقعے پر شوریٰ کے تمام اراکین موجود نہیں تھے۔
اس کے علاوہ افغان طالبان نے اس سوال پر بھی واضح جواب نہیں دیا کہ ان کے مخالف دھڑوں کے ساتھ امیر کے چناؤ پر بات ہوئی یا نہیں۔
پاکستان میں غائبانہ نمازِ جنازہ
پاکستان میں سرکاری طور پر افغان طالبان کے سربراہ ملا محمد عمر کی موت کی خبر کو ’افواہ‘ قرار دیا گیا تاہم جماعت الدعوۃ کی جانب سے جمعرات کو ملا عمر کی غائبانہ نمازِ جنازہ ادا کی گئی ہے۔
نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق لاہور میں جماعت کے مرکز القادسیہ میں جمعرات کی شام اس غائبانہ نماز جنازہ کی امامت تنظیم کے سربراہ حافظ محمد سعید نے کی۔
یاد رہے کہ اس سے قبل القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کی امریکی حملے میں ہلاکت کے بعد جماعت الدعوۃ کی جانب سے پاکستان کے کئی شہروں جبکہ جمیعت علما اسلام نظریاتی کی جانب سے کوئٹہ میں ان کی غائبانہ نمازِ جنازہ بھی ادا کی گئی تھی۔







