پاکستان میں افغان مہاجرین کے قیام میں مزید دو سال کی توسیع کی تجویز

افغان شہریوں کی قیام کی مدت اس سال کے آخر تک ختم ہورہی تھی تاہم پاکستان میں اس معاہدے کا کوئی اعلان نہیں کیا گیا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنافغان شہریوں کی قیام کی مدت اس سال کے آخر تک ختم ہورہی تھی تاہم پاکستان میں اس معاہدے کا کوئی اعلان نہیں کیا گیا
    • مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں پاکستان، افغانستان اور مہاجرین کےلیے اقوام متحدہ کے ادارے یواین ایچ سی آر پر مشتمل سہ فریقی کمیشن کے دو روز سے جاری اجلاس کے اختتام پر اس تجویز پر اتفاق کیا گیا ہے کہ پاکستان کے مختلف شہروں میں تقریباً گذشتہ تین دہائیوں سے زیادہ عرصے سے مقیم افغان مہاجرین کی قیام میں مزید دو سال کی توسیع کی جائے۔

یہ تجویز کانفرنس میں شامل پاکستانی وفاقی وزیر برائے سیفران عبد القادر بلوچ پاکستان کی وفاقی کابینہ میں پیش کریں گے جس میں اس پر حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔

افغان شہریوں کی قیام کی مدت اس سال کے آخر تک ختم ہو رہی تھی جس کے بارے میں ابھی تک کوئی حتمی اعلان نہیں کیا گیا۔

افغان خبر رساں ادارے اے آئی پی کے مطابق اجلاس میں افغانستان کے وزیر برائے مہاجرین سید حسین عالمی بلخی، پاکستان کے وفاقی وزیر برائے سیفران عبد القادر بلوچ اور یو این ایچ سی آر کے نمائندوں نے شرکت کی۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان نے اس بات کی یقین دہانی کرائی ہے کہ افغان شہروں کو مقررہ مدت سے پہلے ان کے ملک سے زبردستی نہیں نکالا جائے گا جب تک وہ خود رضاکارانہ طورپر جانے کےلیے تیار نہ ہوں۔

افغان حکومت کے مطابق پاکستان میں ایک اندازے کے مطابق اس وقت تقریباً 25 لاکھ افغان مہاجرین آباد ہیں

،تصویر کا ذریعہBBC

،تصویر کا کیپشنافغان حکومت کے مطابق پاکستان میں ایک اندازے کے مطابق اس وقت تقریباً 25 لاکھ افغان مہاجرین آباد ہیں

انھوں نے مزید کہا کہ ایک سو رکنی افغان وفد بہت جلد پاکستان کا دورہ کرے گا جہاں وہ غیر قانونی طورپر مقیم افغان شہریوں کی نشاندہی کرے گا۔

افغان خبر رساں ادارے اے آئی پی کے مطابق پاکستان کے وفاقی وزیر برائے سیفران عبدالقادر بلوچ نے میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ معاہدے کے رو سے افغان شہری سنہ 2017 کے اختتام تک پاکستان میں رہ سکتے ہیں اور اس دوران انھیں زبردستی نہیں نکالا جائے گا۔

انھوں نے افغانستان میں پائے جانے والے پاکستان مخالف جذبات کے بارے میں کہا کہ کابل میں پاکستان کے خلاف مظاہرے منعقد کیے گئے اور اس کے پرچم اور کرنسی کو نذرآتش کیا گیا جس سے دونوں ممالک کے تعلقات یقینی طورپر متاثر ہوں گے۔

عبدالقادر بلوچ نے کہا کہ ایسے اقدامات نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان تلخی کا سبب بن رہا ہے بلکہ اس سے پاکستان میں رہنے والے افغان شہریوں کےلیے بھی مشکلات پیدا ہوں گی۔

 افغان مہاجرین کے قیام میں توسیع ایسے وقت کی گئی ہے جب پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات کشیدہ بتائے جاتے ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن افغان مہاجرین کے قیام میں توسیع ایسے وقت کی گئی ہے جب پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات کشیدہ بتائے جاتے ہیں

افغان حکومت کے مطابق پاکستان میں ایک اندازے کے مطابق اس وقت تقریباً 25 لاکھ افغان مہاجرین آباد ہیں جن میں دس لاکھ شہری غیر قانونی طورپر رہائش پزیر ہیں۔

خیال رہے کہ گزشتہ سال دسمبر میں پشاور میں آرمی پبلک سکول پر ہونے والے طالبان حملے کے بعد پاکستان بھر میں غیر قانونی طورپر رہنے والے افغان شہریوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کاروائیوں کا آغاز کیا گیا تھا۔ ان کاروائیوں میں سینکڑوں افراد کو گرفتار کرکے ان کو واپس اپنے وطن بے دخل کیا گیا تھا۔ یہ اپنی نوعیت کی پہلی ایسی کاروائی تھی جس سے اس وقت ایسا تاثر مل رہا تھا کہ شاید پاکستان مہاجرین کے قیام میں مزید توسیع نہیں کرے گا۔