افغان پناہ گزینوں کی واپسی کی ڈیڈ لائن پر نظرِ ثانی ممکن

پاکستانی حکومت پناہ گزینوں کی واپسی کے لیے تین مراحل پر مشتمل ایک منصوبے پر غور کر رہی ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنپاکستانی حکومت پناہ گزینوں کی واپسی کے لیے تین مراحل پر مشتمل ایک منصوبے پر غور کر رہی ہے
    • مصنف, ہارون رشید
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستان کا کہنا ہے کہ وہ ملک میں موجود 15 لاکھ افغان پناہ گزینوں کی اس سال کے اختتام تک واپسی کے فیصلے پر نظرِ ثانی کر سکتا ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزیناں کا بھی کہنا ہے کہ دونوں ممالک کی حکومتیں آئندہ اگست تک افغان پناہ گزینوں کی واپسی کا منصوبہ تیار کر لیں گی۔

ماضی میں بھی یہ مہلت کئی مرتبہ بڑھائی جا چکی ہے لیکن پشاور سکول حملے کے بعد یہ خدشہ پیدا ہوگیا تھا کہ پاکستان اس مرتبہ کسی توسیع میں دلچسپی نہیں رکھتا۔

گذشتہ دسمبر میں پشاور میں آرمی پبلک سکول پر حملے کے بعد پاکستانی حکام نے ملک بھر میں افغان باشندوں کی پکڑ دھکڑ کی مہم تیزی سے شروع کی تھی جس میں وقت کے ساتھ اب قدرے سستی آ گئی ہے۔

لیکن اس کارروائی کو دیکھتے ہوئے خدشہ پیدا ہوگیا تھا کہ پاکستان سب افغانوں کو اس سال دسمبر تک جبری طور پر واپس جانے پر مجبور کر دے گا۔

سرحدی امور اور ریاستوں کے وفاقی وزیر جنرل ریٹائرڈ عبدالقادر بلوچ نے حکومت پاکستان کی جانب سے نرمی کا اشارہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ افغانستان کی حکومت کے ساتھ اس بارے میں مسلسل رابطے میں ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’وہی قدم اٹھائے جائیں گے جو عملی طور پر قابل عمل ہوں۔ ہماری خواہش ہوگی کہ ہر افغان پناہ گزین 31 دسمبر کی ڈیڈ لائن تک واپس لوٹ جائے۔ لیکن ہم دیکھیں گے کہ اس میں ممکنات کتنے ہیں۔ ان کی افغانستان میں باعزت واپسی ممکن ہو گی؟ یہ ہمارے مہمان ہیں اور ہم نہیں چاہیں گے کہ 35 سال میں جس طرح یہ افغان ہمارے مہمان رہے ہیں اس میں کوئی مسئلہ پیدا ہو جائے۔‘

پاکستان میں اب بھی 15 لاکھ افغان پناہ گزین موجود ہیں
،تصویر کا کیپشنپاکستان میں اب بھی 15 لاکھ افغان پناہ گزین موجود ہیں

عبدالقادر بلوچ نے اشارہ دیا کہ وفاقی حکومت پناہ گزینوں کی واپسی کے لیے تین مراحل پر مشتمل ایک منصوبے پر غور کر رہی ہے جو آئندہ برس تک ممکن ہو سکتا ہے لیکن انھوں نے واضح کیا کہ اس توسیع کا حتمی فیصلہ وفاقی کابینہ کرے گی۔

ادھر پاکستان کا گذشتہ روز دورہ مکمل کرنے والے اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارے کے سربراہ انٹونیو گونٹارش نے بی بی سی کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ وہ بھی افغان پناہ گزینوں کی جلد واپسی کی خواہش کرتے ہیں لیکن اس کے لیے وہاں سازگار ماحول ضروری ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’میرے خیال میں اس سلسلے میں سب سے اہم بات پاکستان میں نہیں افغانستان میں ہے۔ دو ماہ قبل میں نے افغانستان کے دورے میں پہلی مرتبہ دیکھا کہ افغان حکومت نہ صرف اندرونی طور پر بیدخل افغانوں بلکہ بیرون ملک افغانوں کی واپسی کا عزم رکھتی ہے۔ یہ پناہ گزین ان علاقوں میں جہاں امن قائم ہوگیا ہے، واپس جا سکتے ہیں لیکن انھیں نئی زندگی شروع کرنے کا موقع بھی حاصل ہونا چاہیے۔‘

اقوام متحدہ کے ادارے یو این ایچ سی آر نے حکومت پاکستان کی جانب سے ان افغانوں کے اندراج کا سلسلہ آئندہ ماہ شروع کرنے کو افغانوں کی پاکستان میں موجودگی کو منظم طریقے سے ایک نظام کے تحت ریگولیٹ کرنے کی جانب پہلا قدم قرار دیا ہے۔