’پاکستان میں دل لگ گیا ہے اب واپسی مشکل‘

- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کے ایک پوش علاقے میں ساحل سمندر کے قریب ایک دفتر کے باہر دو درجن کے قریب مرد موجود ہیں جبکہ ان سے کچھ ہی دور دیوار کے سائے تلے زمین پر نیلے رنگ کے شٹل کاک برقعے میں خواتین بچوں کے ساتھ بیٹھی ہوئی ہیں۔
اس شہر میں یہ بچے افغانیوں کی تیسری اور چوتھی نسل ہیں۔
شہر کے مختلف علاقوں سے یہ افغانی پناہ گزین رجسٹریشن کرانے کے لیے آئے تھے۔ سنہ 1980 میں افغان جنگ کے بعد افغانی پناہ گزینوں کی ایک بڑی تعداد نے پاکستان کے دیگر علاقوں کے علاوہ کراچی کا بھی رخ کیا تھا۔
تقریباً 35 سالوں کے بعد حکومت پاکستان نے ان پناہ گزینوں کو اگلے سال سے اپنے ملک بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔
داد شاہ سات سال کی عمر میں مزار شریف سے اپنے والد، والدہ اور تین بہن بھائیوں کے ساتھ آئے تھے اور آج ان کا خاندان 36 افراد پر مشتمل ہے۔
وہ کراچی کی مہاجر کالونی میں رہتے ہیں، اور ان کی اپنی کریانے کی دکان ہے۔ داد شاہ کا کہنا ہے کہ انھوں یہاں جگہ بنا لی ہے، اب وہاں ان کا کوئی بھی نہیں اس لیے وہ افغانستان واپس نہیں جانا چاہتے۔
عبدالصمد اپنی بھابھی کے رجسٹریشن کارڈ کے لیے آئے تھے، وہ سہراب گوٹھ میں پکوان کی دکان پر کام کرتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ’وہاں سے ہم خالی آئے تھے لیکن اب یہاں پر ہمارا دل لگ گیا ہے اور یہاں سے واپس جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کراچی میں سہراب گوٹھ کے قریب1990 کی دہائی تک افغان پناہ گزین کی کیمپ موجود تھے، جو بعد میں فنڈز کی عدم دستیابی کے باعث بند کر دیے گئے، جس کے نتیجے میں یہ پناہ گزین کراچی کے علاوہ سندھ کے دیگر شہروں میں بھی پھیل گئے ہیں۔

سندھ میں افغان پناہ گزین کے کمشنر غصنفر علی آغا کہنا ہے کہ اس وقت ان کے پاس رجسٹرڈ افغان پناہ گزین کی تعداد 67 ہزار کے قریب ہے جبکہ غیر رجسٹرڈ تقریباً سات سے آٹھ لاکھ ہیں، جو کراچی کے علاوہ قمبر، گھوٹکی، بدین، حیدرآباد، ٹنڈوالہ یار اور نوابشاہ سمیت مختلف علاقوں میں موجود ہیں۔
حکومت پاکستان نے غیر رجسٹرڈ افغان پناہ گزین کی بھی رجسٹریشن کا فیصلہ کیا ہے۔
کراچی سیکریٹریٹ میں کمشنر سے لے کر 27 ملازم ہیں جبکہ انھیں پورے سندھ میں لاکھوں پناہ گزین کے کوائف جمع کرنے ہیں۔
کمشنر غصنفر علی آغا کے مطابق کراچی کے چھ اضلاع اور دو کروڑ کی آبادی میں افغان پناہ گزینوں کو ڈھونڈنا اور کوائف جمع کرنا تھوڑا مشکل ہے، لیکن اس میں افغان عمائدین مددگار ثابت ہوتے ہیں۔
پاکستان افغانستان اور اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے بارے میں ادارے یو این ایچ سی آر کے مابین معاہدے کے مطابق پاکستان سے افغانستان واپس جانے والے پناہ گزینوں کو حکومت پاکستان چار لاکھ روپے، یو این ایچ سی آر تین ہزار ڈالر اور افغان حکومت رہائشی پلاٹ فراہم کرے گی۔
یو این ایچ سی آر 2002 سے ان پناہ گزین کی وطن واپسی کے لیے کوشاں ہے۔
پاکستان میں قومی رجسٹریشن کے ادارے نادرا کے تعاون سے 16 لاکھ افغانیوں کی دوبارہ رجسٹریشن کر کے پروف آف رجسٹریشن کارڈ یعنی’پی او آر‘ کارڈ جاری کیے جائیں گے جو دسمبر 2015 تک کارآمد ہوں گے۔
حکام کے مطابق افغان شہریوں نے سندھ میں کاروبار کے علاوہ املاک بھی خریدی ہیں۔
کمشنر غصنفر علی آغا کے مطابق حال ہی میں ایک افغانی نے ٹھٹہ میں نو کروڑ روپے کی مالیت سے زرعی زمین خریدی ہے اور اس کے پاس پاکستان کا قومی شناختی کارڈ موجود ہے۔
’ان کے ادارے کی معلومات کے مطابق پاکستان میں ایسے 21 ہزار افغانی شہری ہیں جو پاکستان کا شناختی کارڈ حاصل کر چکے ہیں۔‘

پشاور سکول پر حملے کے بعد تشکیل دیے گئے قومی ایکشن پلان میں بھی افغان پناہ گزینوں کو واپس بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا تھا جبکہ سندھ حکومت بھی تحریری طور پر وفاق کو یہ درخواست کر چکی ہے۔ صوبائی حکومت کا یہ موقف رہا ہے شہر میں دہشت گردی اور جرائم میں افغان پناہ گزین بھی ملوث ہیں۔
نوجوان عبدالصمد کا کہنا ہے کہ ’ہر قوم میں اچھے برے لوگ ہوتے ہیں، مجرم تو مجرم ہے، حکومت کا حق ہے کہ اس کو پکڑے۔ یہاں سکون ہے، یہ پرامن اسلامی ملک ہے، ہم یہاں ہی رہنا چاہتے ہیں۔‘

حکومت پاکستان سے معاہدے کے مطابق پناہ گزین کو رضاکارانہ طور پر واپس بھیجا جا سکتا ہے لیکن 2015 کے بعد اگر حکومت پاکستان نے توسیع نہ کی تو یہ معاہدہ غیر فعال ہو جائے گا۔
کمشنر غصنفر علی آغا کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے فیصلہ کر لیا ہے کہ یہ واپس جائیں تو انھیں بھیجا جائے گا کیونکہ یہاں قانون بھی موجود ہیں تھانے اور جیل بھی۔
ان کا کہنا تھا کہ غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف کارروائی صرف وفاقی حکومت کی نہیں ہر صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے کیونکہ ان کے پاس پولیس اور فارن ایکٹ موجود ہے جس کے تحت ایسے غیر ملکیوں کو گرفتار کر کے پاکستان سے بے دخل کیا جا سکتا ہے۔







