’20 لاکھ سے زائد غیر قانونی افغان مہاجرین‘، آپریشن میں تیزی

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا میں حکام کا کہنا ہے کہ صوبے میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان پناہ گزینوں کے خلاف کارروائیاں تیز کرنے کے لیے رجسٹرڈ افغان پناہ گزینوں کا مکمل ڈیٹا پولیس اور دیگر متعلقہ محکموں کو فراہم کردیا گیا ہے۔
پشاور میں افغان کمشنریٹ کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ تازہ اعداد و شمار کے مطابق صوبہ بھر میں ایک لاکھ 14 ہزار افغان خاندان رجسٹرڈ ہیں۔ جس کےتحت ان کی کُل تعداد چھ لاکھ 39 ہزار بنتی ہے۔
انہوں نےکہا کہ صوبے کے پندرہ اضلاع میں تقریباً سو کے قریب چھوٹے بڑے افغان پناہ گزین کیمپوں میں ہزاروں افغان خاندان رہ رہے ہیں۔ ان کے مطابق رجسٹرڈ کیے جانے والے افغان مہاجرین کا تمام کوائف پولیس اور دیگر متعلقہ اداروں کو فراہم کیے گئے ہیں تاکہ غیر قانونی افغان شہریوں کے خلاف کاروائی تیز کی جاسکے۔
پاکستان بھر میں قانونی طور پر مقیم افغان مہاجرین کی کل تعداد 16 لاکھ بتائی جاتی ہے۔ تاہم غیر قانونی طور پر رہنے والے افغان شہریوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ملک کے مختلف شہروں میں 20 لاکھ سے زیادہ افغان پناہ گزین غیر قانونی طور پر مقیم ہیں۔
حکومتی اداروں کا کہنا ہے کہ غیر قانونی مہاجرین پر مختلف نوعیت کے جرائم میں ملوث ہیں۔
یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقوں میں غیر قانونی طورپر مقیم افغان پناہ گزین کے خلاف بڑے پیمانے پر کاروائیاں شروع کی گئی ہیں۔ ان کاروائیوں میں اب تک ہزاروں غیر قانونی افغان شہریوں کو گرفتار کرکے ملک بدر کیا جا چکا ہے۔
گذ شتہ تین دہائیوں کے دوران یہ پہلی مرتبہ ہے کہ پولیس اور سکیورٹی اداروں کی جانب سے افغان مہاجرین کے خلاف کاروائیوں میں سنجیدگی نظر آرہی ہے۔ افغانیوں کے مرکز کے طورپر مشہور پشاور شہر میں بھی پولیس کی طرف سے افغان طلبا کے کئی غیر قانونی ہاسٹلز اور قیام گاہیں بند کی گئی ہیں۔
پولیس کی طرف سے جاری ان سرچ اور سٹرائیک آپریشینز میں کئی ایسے افغانیوں کو بھی گرفتار کیا گیا ہے جن کے پاس یہاں رہنے کے باقاعدہ دستاویزات موجود تھے۔ تاہم ان قانونی مہاجرین کی گرفتاریوں پر افغان رہنماؤں کی طرف سے تشویش کا اظہار کیا گیا اور اس سلسلے میں مہاجرین کے نمائندوں نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک سے ملاقات بھی کی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی







