افغان مہاجرین کی رضاکارانہ واپسی کا آغاز

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
پاکستان میں اقوام متحدہ کا ادارہ برائے مہاجرین این ایچ سی آر نے پاکستان میں قانونی طور پر مقیم افغان پناہ گزین کی رضاکارانہ واپسی کےلیے کام کا آغاز کر دیا ہے اور ان خاندانوں کو نقد رقوم دینے کا فیصلہ کیا ہے جو اپنی مرضی سے وطن واپس جانا چاہتے ہیں۔
یو این ایچ آر کی طرف سے منگل کو خیبر پختونخوا کے مقامی اخبارات میں ایک اشتہار شائع کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ایسے مہاجرین جو رضاکارانہ طورپر اپنے وطن جانے کا فیصلہ کر چکے ہیں ان کی محفوظ اور باوقار وطن واپسی کے لیے تعاون کیا جائے گا۔
اشتہار کے مطابق ایسے افغان مہاجرین جن کے پاس پروف آف رجسٹریشن یا پی او آر کا کارڈ موجود ہو اور جس کی میعاد اس سال کے آخر میں ختنم ہو رہی ہے، ان کو افغانستان واپسی پر یو این ایچ سی آر کی جانب سے دو سو امریکی ڈالر کی امداد دی جائے گی۔ اشتہار میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر ایک گھرانہ چھ یا زائد افراد پر مشتمل ہو تو انھیں 1200 امریکی ڈالر امداد ملے گی۔
اقوام متحدہ کے ادارے کی طرف سے اس سلسلے میں ملک کے مختلف شہروں میں ہیلپ لائنز بھی قائم کر دی گئی ہیں جہاں سے اس پروگرام کے تحت وطن واپس جانے والے مہاجرین کو معلومات فراہم کی جائیں گی۔

ادھر دوسری طرف خیبر پختونخوا کے گورنر سردار مہتاب احمد خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں غیر قانونی طورپر مقیم افغان شہریوں کی ڈاکومنٹیشن کے لیے نادرا، افغان کمشنریٹ اور افغان حکومت مل کر کوئی مناسب اور قابل عمل طریقۂ کار وضع کریں گے۔
گورنر نے پیر کو گورنر ہاؤس پشاور میں پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے نو رکنی افغان وفد سے ملاقات کی جس کی سربراہی افغان وزیر برائے مہاجرین سید حسین علیمی بلخی کر رہے تھے۔ اس موقعے پر خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک، وفاقی وزیر ریاست و سرحدی امور لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبد القادر بلوچ، آئی جی پولیس اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔
گورنر سردار مہتاب احمد خان نے کہا کہ پاکستان میں غیر قانونی طورپر مقیم مہاجرین کے خلاف کارروائیوں کا آغاز سکیورٹی کی موجودہ صورت حال کے پیش نظر کیا گیا ہے، تاہم مہاجر کارڈ یا قانونی دستاویزات رکھنے والے افغان شہریوں کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی جائے گی۔
افغان وزیر نے پاکستان کی طرف سے کئی دہائیوں تک لاکھوں مہاجرین کی مہمان نوازی کرنے پر حکومت پاکستان اور عوام کا شکریہ ادا کیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
خیال رہے کہ پشاور میں آرمی پبلک سکول پر طالبان حملے کے بعد سے ملک بھر میں غیر قانونی طورپر رہنے والے افغان باشندوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائیوں کا آغاز کیا گیا ہے۔ ان کارروائیوں کے نتیجے میں ہزاروں افغانیوں کو گرفتار یا ملک بدر کیا گیا ہے جبکہ کئی افغان خاندان رضاکارانہ طورپر بھی اپنے ملک واپس جانے کی تیاریاں کر رہے ہیں۔

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ گذشتہ تین دہائیوں کے دوران یہ پہلی مرتبہ ہے کہ حکومت کی طرف سے غیر قانونی افغان باشندوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائیاں کی جا رہی ہے۔ پاکستان میں اس وقت ایک اندازے کے مطابق تقریباً 15 لاکھ کے قریب مہاجرین قانونی طور پر مقیم ہیں جبکہ غیر قانونی طور پر رہنے والے افغان شہریوں کی اس سے کہیں زیادہ بتائی جاتی ہے۔
یہ امر بھی اہم ہے کہ پاکستان میں قانونی طورپر مقیم افغان شہریوں کو اس سال کے آخر تک یہاں رہنے کی اجازت دی گئی ہے جبکہ اس سلسلے میں یو این ایچ سی آر، حکومت پاکستان اور افغانستان کے مابین ایک معاہدہ بھی موجود ہے۔
تاہم پاکستان کی طرف سے افغان مہاجرین کے خلاف جاری حالیہ کارروائیوں سے لگتا ہے کہ اس معاہدے میں مزید توسیع کا امکان نظر نہیں آتا۔







