BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 27 November, 2008, 21:55 GMT 02:55 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
یہودی مرکز پر آپریشن کا آغاز، مرنےوالوں کی تعداد 120

اس عمارت میں یہودی مرکز قائم ہے

ممبئی میں بدھ کی رات کو حملوں کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال پر جمعہ کی صبح تک قابو نہیں پایا جا سکا اور شہر کے رہائشی علاقے میں یہودی مرکز میں چھپے دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کے لیے ہیلی کاپٹر کے ذریعے کمانڈوز کو اس عمارت کی چھت پر اتارا گیا۔ دوسری طرف اویبرائے ہوٹل سے مزید ایک درجن سے زائد غیر ملکیوں کو بحفاظت نکال لیا گیا ہے۔
اوبیرائے ہوٹل کے باہر موجود بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے نمائندے صلاح الدین نے اطلاع دی کہ اوبیرائے ہوٹل میں پھنسے غیر ملکیوں کو ہوٹل سے متصل ایئر انڈیا کی عمارت کے ذریعے باہر نکالا گیا۔ اس سے قبل انتالیس افراد کو ہوٹل سے نکالا گیا تھا۔

ممبئی کے جنوبی علاقے میں نریمان کے رہائشی اور تجارتی کمپلیکس میں واقع یہودی مرکز کی عمارت کے اوپر پہلے فوجی ہیلی کاپٹر نے چکر لگایا اور پھر اس پر رسیوں کے ذریعے کمانڈوز کو اتارا گیا۔

اس رہائشی عمارت میں ایک یہودی مرکز قائم ہے جہاں پر دہشت گردوں نے ایک یہودی رباعی اور چند اور لوگوں کو بدھ کی رات سے یر غمال بنا رکھا ہے۔

کمانڈوز کے چھت پر اترنے کے بعد عمارت سے گولیاں چلنے کی آوازیں سنائی دیں۔

اسی دوران پولیس حکام نے کہا ہے کہ تاج ہوٹل میں جاری کارروائی تقریباً مکمل کر لی گئی ہے اور اب وہاں صرف ایک زخمی شدت پسند چھپا ہوا ہے۔

ادھر بھارتی بحریہ نے ممبئی کے شمال کے سمندر میں دو پاکستانی تجراتی جہازوں کو روک لیا ہے جن پر اس واقعے میں ملوث ہونے کا شببہ ظاہر کیا گیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق حملہ آوروں کو برطانوی اور امریکی شہریوں کی تلاش تھی


واضح رہے کہ حکام کا دعوی ہے کہ شدت پسند دو تیز رفتار کشتیوں میں سوار ہو کر ممبئی پہنچے تھے۔

لشکر طیبہ نے اپنے بارے میں اس حملے میں ملوث ہونے کی اطلاعات کے رد عمل میں اس کی تردید کی ہے اور کہا کہ ان کا ان حملوں میں ہاتھ نہیں ہے۔

بدھ کی شام سے جاری ان حملوں میں اب تک ایک سو بیس لوگ ہلاک ہو چکے ہیں اور 287 سے زیادہ زخمی ہیں۔ مرنے والوں میں تین اعلیٰ افسران سمیت چودہ پولیس والے، نو غیرملکی اور پانچ حملہ آور شامل ہیں۔ فوج اور بحریہ کے کئی کمانڈوز بھی زخمی ہوئے ہیں۔

ٹھکانے ’ملک سے باہر‘
 جن لوگوں نے ان حملوں کا منصوبہ بنایا ان کے ٹھکانے ’ملک سے باہر‘ ہیں
بھارتی وزیرِ اعظم منموہن سنگھ

جمعرات کی شام کو ایک بھارتی جنرل نے کہا تھا کہ دس سے بارہ حملہ آور تینوں عمارتوں میں چھپے ہوئے ہیں۔

وزیر اعظم منموہن سنگھ نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جن لوگوں نے ان حملوں کا منصوبہ بنایا ان کے ٹھکانے ’ملک سے باہر‘ ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے ان ’ہمسایہ‘ ممالک کو بھی متنبہ کیا جو ہندوستان مخالف عسکریت پسندوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرتے ہیں۔

مہارشٹر کے پولیس سربراہ اے این رائے نے صحافیوں کو بتایا کہ ’تاج ہوٹل میں جن لوگوں کو یرغمالی بنایا گیا تھا، انہیں رہا کرا لیا گیا ہے۔ لیکن کمروں میں ابھی ہوٹل کے مہمان موجود ہیں اور ہمیں ان کی تعداد نہیں معلوم۔‘

ریاست مہارشٹر کے وزیر داخلہ آر آر پاٹل کے مطابق تین مقامات پر کارروائی چل رہی ہے۔ اور وہاں دس سے بارہ حملہ آور ہو سکتے ہیں۔ درجنوں افراد ابھی بھی حملہ آوروں کے قبضے میں بتائے جاتے ہیں۔

حملوں کی ذمہ داری دکن مجاہدین نامی تنظیم نے قبول کی ہے جس کا نام پہلے نہیں سنا گیا ہے۔

کینیڈا کے ایک سفارتکار نے ممبئی میں موجود نامہ نگار صلاح الدین کو بتایا کہ یرغمالیوں میں ان کےملک کے بہت سے شہری شامل ہیں۔

رات سے ہی فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے اور دھماکوں کی آوازیں بھی سنی گئی ہیں

مسٹر پاٹل کے مطابق حملہ آوروں کے بارے میں ’سب پتہ چل گیا ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ یہ سب کے سب سمندر کے راستے ممبئی میں داخل ہوئے تھے۔ پولیس نے ایک کشتی کو قبضہ میں لے کر اس کی تلاشی شروع کر دی ہے۔

نامہ نگار ریحانہ بستی والا کے مطابق تاج ہوٹل میں بدھ کی رات گئے دستی بم کے پھٹنے سے لگنے والی آگ جمعرات کی صبح پھر اچانک بھڑک اٹھی اور ہوٹل کی عمارت سے دھوئیں کے سیاہ بادل ابھی تک اٹھ رہے ہیں۔

پولیس کے مطابق حملے میں اے کے 47 رائفلیں اور دستی بم استعمال کیے گئے ہیں۔

ہوٹلوں میں حملے کے وقت موجود بعض افراد کے مطابق حملہ آوروں کو خاص طور پر برطانوی اور امریکی شہریوں کی تلاش تھی۔

صبح سے فوج اور سکیورٹی فورسز نے جن عمارتوں کو گھیر رکھا ہے ان میں تاج اور اوبیرائے ہوٹلوں کے علاوہ ناریمان بلڈنگ شامل ہے۔

ہندوستانی بحریہ کے وائس ایڈمیرل جے ایس بیدی کے مطابق بحریہ کے ہیلی کاپٹر اور کوسٹ گارڈ دو ایسے جہازوں کا تعاقب کر رہے ہیں جن کے بارے میں شبہہ ہے کہ حملہ آور ان پر سوار ہوکر آئے تھے۔

مہاراشٹر کے پولیس سربراہ کے مطابق تاج ہوٹل کے ایک ایک کمرے کی تلاشی لی جارہی ہے۔ لیکن کمروں میں ابھی لوگ موجود ہیں اس لیے کمانڈوز بہت احتیاط سے کام کر رہے ہیں۔

ممبئی کا نقشہ
ممبئی میں حملے کہاں کہاں ہوئے
برطانوی ارب پتی
ہلاک ہونے سے کچھ دیر قبل انٹرویو
ممبئی حملے
ممبئی میں فائرنگ : تصاویر
آنکھوں دیکھا حال
’ٹکٹ لینے گیا تھا کے فائرنگ شروع ہو گئی‘
دہشت کی رات
گزشتہ رات سے اب تک ممبئی میں کیا ہوا
دنیابھر سے مذمت
ممبئی حملوں کی کئی ممالک نے مذمت کی
بال ٹھاکرے’خود کش تیار کریں‘
ٹھاکرے ہندو خود کش دستے بنانے کے حامی
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد