BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 25 December, 2007, 13:05 GMT 18:05 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
محاصرہ ختم ہونے کے بعد مظاہرے

فائل فوٹو
مسجد میں موجود تین محصور جنگجو کو پولیس نے ہلاک کردیا تھا۔
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر کے جنوبی ضلع کولگام کی مسجد میں محصور تین مقامی جنگجوؤں کی ہلاکت کے بعد مشتعل باشندوں اور پولیس کے مابین تصادم ہوا، جس میں کئی افراد کو معمولی چوٹیں آئیں ہیں۔

عینی شاہدین کے مطابق منگل کی صبح جب پولیس نے پالنہ گاؤں، جہاں یہ واقعہ پیش آیا، کا محاصرہ اُٹھالیا تو لوگوں کی بڑی تعداد مسجد کے گرد جمع ہوگئی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ مسجد میں بارود کی موجودگی کے خدشہ سے لوگوں کو اندر داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی۔ اس پر لوگ مشتعل ہوگئے اور ہند مخالف نعرے بازی کرنے لگے۔ پولیس کے مطابق مسجد کی دیواروں پر گولیاں لگئیں جبکہ کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ گئے ہیں ۔

مشتعل ہجوم کو منتشر کرنے کے لئے پولیس نے ہوا میں فائرنگ کی اور اشک آور گولے داغے جس کے نتیجہ میں کئی افراد زخمی ہوگئے۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ ہلاک شدہ جنگجوؤں شیراز احمد، اشفاق اور مدثرکی نماز جنازہ میں ہزاروں لوگوں نے شرکت کی۔

جنگجوؤں کی طرف سے مسجد میں تیس گھنٹے تک یرغمال رکھے گئے پانچوں شہریوں کو بحفاظت نکالا گیا ہے۔ ان میں سے اٹھارہ سالہ عادل احمد نجار نے بی بی سی کو بتایا ’اتوار کی دوپہر گاؤں کا محاصرہ ہوا۔ اس دوران جنگجوؤں نے فائرنگ کرتے ہوئے محاصرہ توڑ کر نکلنے کی کوشش کی، لیکن وہ نکل نہیں پائے اور مسجد میں چھپ گئے۔ شام کو پولیس کے ایک ڈی ایس پی نے پانچ لوگوں کو جمع کیا۔ ان میں میں بھی تھا۔ ہمیں کہا گیا کہ اندر جاکر جنگجوؤں کو ہتھیار ڈالنے پر آمادہ کریں۔ مجبوراً ہم سب اندر گئے، لیکن ہمیں جنگجوؤں نے یرغمال بنالیا۔‘

عادل کا کہنا ہے کہ کھانا مہیا کرنے کے بہانے پولیس نے تین یرغمالی شہریوں کو چھڑوا لیا جبکہ دو شہری پولیس کی آخری کارروائی میں باہر نکل آئے۔

عادل نے آنکھوں دیکھا واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا، ’ہم کلمہ پڑھتے رہے ۔ ایسا لگتا تھا کہ ہم مرنے والے ہیں۔ آخر پر ہم دو ہی بچے تھے۔ رات کے گیارہ بجے پولیس اور فوج نے ہوا میں فائرنگ کی۔ جنگجوؤں نے ہمیں نچلی منزل میں چھوڑ کر دوسری منزل کے مناروں پر مورچہ سنبھالا۔ پھر پولیس نے مسجد کے اندر اشک آور گیس کے گولے پھینکے۔ کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا، ہم نکل آئے۔ اس دوران دو جنگجوؤں نے بھی بھاگنے کی کوشش کی لیکن پولیس نے انہیں مسجد کے صحن میں گولیاں مار کر ہلاک کردیا۔ اور تیسرا جنگجو ایک مختصر تصادم کے بعد مارا گیا۔‘

پولیس حکام کا کہنا ہے پالنہ نامی اس گاؤں کا محاصرہ اُٹھا لیا گیا ہے اور نقل مکانی کر جانے والے کنبے واپس گھروں کو لوٹ رہے ہیں۔

لیکن مسجد کے بالکل قریب رہنے والے ماسٹر عبدالاحد کا الزام ہے کہ پولیس اور فوج نے ان کے گھر کو خانہ تلاشی کے بہانے لوٹ لیا ہے۔ پانچ لڑکیوں کے باپ ماسٹر عبدل کا کہنا ہے ’الماری میں دس ہزار کی نقدی تھی وہ بھی نہیں ہے اور لڑکیوں کی شادی کے لئے جو زیور اکھٹا کیا تھا وہ بھی غائب ہے۔‘

اس حوالے سے جموں کشمیر پولیس کے ڈی آئی جی برائے جنوبی کشمیر ہیمنت کمار نے بتایا کہ، ’یہ سرار غلط ہے۔‘

پیر کے روز پولیس نے ضلع کولگام کی ایک مسجد میں شدت پسندوں کی موجودگی کے سبب مسجد کو محاصرے میں لے لیا تھا۔ منگل کے رو پولیس نے محصور تین جنگجوؤں کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔

فائل فوٹوتینوں جنگجو ہلاک
مسجد میں جنگؤوں کیخلاف کارروائی
عائشہانصاف کا انتظار
جنسی استحصال کا شکار عائشہ کو انصاف چاہیئے
’یوم شہداء‘
بھارت کے زیرانتظام جموں و کشمیر میں تقریبات
اسی بارے میں
کشمیر: محصور جنگجو ہلاک
24 December, 2007 | انڈیا
کشمیر: میجر سمیت چھ ہلاک
09 November, 2007 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد