جموں کشمیر میں تشدد میں کمی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے وزیر دفاع اے کے اینٹنی نے کہا ہےکہ ریاست جموں و کشمیر میں ہونے والے تشدد کے واقعات میں پہلے کے مقابلے پچاس فیصد کمی آئی ہے لیکن سرحد پار سے در اندازی کا سلسلہ جاری ہے۔ جنوبی بھارت کے شہر کوچی میں صحافیوں سے بات چیت کے دوران وزیر دفاع نے کہا کہ تشدد میں کمی تو آئی ہے لیکن گزشتہ تین برسوں کی جنگ بندی کے باوجود سرحد پار سے جاری ملیٹنسی تشویش کا سبب ہے۔ مسٹر انٹنی کا کہنا تھا کہ: ’پاکستان اور چین کے ساتھ ہم کوئی ٹکراؤ نہیں چاہتے اور ہم تمام مسائل کو پر امن طور پر حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن اس کام میں پریشانیاں تو ہیں۔‘ مسٹر اینٹنی بحریہ کی ایک تقریب میں حصہ لینے کے لیے کوچی گئے تھے۔
چین کے ساتھ سرحدی تنازعہ پر ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اس کے حل کے لیے تمام کوششیں ہورہی ہیں اور چین اور بھارت کے خصوصی نمائندے اس سلسلے میں اب تک بات چیت کے گیارہ دور مکمل کر چکے ہیں۔ ’اگر کچھ سنگین قسم کی بات ہوتی ہے تو دونوں جانب کی بارڈر سکیورٹی فورسز کے افسران آپس میں یا سفارتی سطح پر حل کرلیتے ہیں۔‘ ہندوستان اور چین کے درمیان سرحد کو لیکر اختلافات ہیں۔ مسٹر اینٹنی کا کہنا تھا ’سرحد کے متعلق ایک نظریہ ہمارا ہے اور دوسرا چین کا، ہم یہ مانتے ہیں کہ پورا اروناچل پردیش ہمارا ہے لیکن چین کو اس پر اعتراض ہے۔‘ دونوں ملک سرحدی تنازعہ کے حل کے لیے کافی دنوں سے بات چیت کر رہے ہیں لیکن خاص پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔ |
اسی بارے میں فوجی مداخلت کی سالگرہ پر احتجاج27 October, 2007 | انڈیا فوج کو عمارتیں چھوڑنے کا حکم29 October, 2007 | انڈیا وزیراعظم کے فنڈ سے پیسہ غائب24 October, 2007 | انڈیا حراستی قتل پر پرتشدد مظاہرے20 October, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||