BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 15 December, 2007, 10:17 GMT 15:17 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کشمیر: آگ زنی کے بعد ہنگامہ آرائی

فائل فوٹو
پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپ میں متعدد افراد زخمی بھی ہوگئے ہیں
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر کے ضلع کپوارہ میں مشتعل مظاہرین نے پولیس اہلکاروں کی طرف سے جمعہ کو آگ زنی کی مبینہ کوشش کے خلاف پرتشدد احتجاج کیا اور اعلیٰ سِول و پولیس افسران کو کئی گھنٹوں تک یرغمال بنایا۔

پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپ میں متعدد افراد زخمی بھی ہوگئے ہیں۔

مقامی پولیس افسر وجے کمار کے مطابق جنگجوؤں کی موجودگی کے بارے میں خفیہ اطلاع ملنے پر تین پولیس اہلکار، تین عارضی ایس پی اوز اور ایک چوکی افسرپر مشتمل ایک ٹیم گشت پر تھی کہ’اچانک مقامی لوگوں نے انہیں گھیر لیا۔ باقی تو بھاگ گئے لیکن اعجاز احمد کو انہوں نے گھیر لیا جسے ہم نے بعد میں چھڑا لیا ہے‘۔

مقامی رہائشی ولی محمد نے بی بی سی کو ٹیلی فون پر بتایا کہ’ فوج نے پچھلے کئی ماہ سے جنگجوؤں کے خلاف آپریشن کے بہانے آگ زنی کا سلسلہ شروع کیا۔ یہ سلسلہ حکومت ہند کی طرف سے اس اعلان کے بعد شروع ہوا جس کے تحت سکولوں اور سرکاری املاک سے فوج نکالنے کی تاریخ طے کی گئی تھی‘۔

ولی محمد کے مطابق مقامی لوگوں نے ٹاٹا سومو میں تیل خاکی اور پرانے کپڑے بھی پائے گئے جس سے لوگوں نے یہ سمجھا کہ پولیس اہلکار آگ زنی کے مشن پر تھے۔

ہم لوگوں کو مظاہرین نے یرغمال بنایا، لیکن ہم نے انہیں یقین دلایا کہ آگ زنی کے پیچھے محرکات کی تفتیش کی جائے گی
کپوارہ کے ڈپٹی کمشنر کاچو اسفندیار خان
اس واقعے کے خلاف جمعہ کو دن بھر لوگوں نے احتجاجی مظاہرے کیے اور اعجاز احمد نامی پولیس اہلکار کو ایک مکان میں قید کرلیا۔ جب ضلع انتظامیہ نے اسے چھڑانے کی کوشش کی تو مظاہرے میں شدت آگئی۔ مظاہرین کے ساتھ مذاکرات کر رہے ڈپٹی کمشنر اور ایس پی وجے کمار کو لوگوں نے کئی گھنٹوں تک یرغمال بنائے رکھا۔

کپوارہ کے ڈپٹی کمشنر کاچو اسفندیار خان نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہم لوگوں کو مظاہرین نے یرغمال بنایا، لیکن ہم نے انہیں یقین دلایا کہ آگ زنی کے پیچھے محرکات کی تفتیش کی جائے گی۔‘

قابل ذکر ہے کہ پچھلے چند ماہ سے کنٹرول لائن کے ساتھ لگنے والے ضلع کپوارہ میں کھیتوں، جنگلوں اور بستیوں میں آگ کی درجنوں وارداتیں رونما ہوئي ہیں۔

مقامی لوگوں کا الزام ہے کہ آگ زنی کی ان وارداتوں میں فوج کا ہاتھ ہے۔گزشتہ ماہ کپوارہ کے ہی لولاب علاقہ میں لوگوں نے ایک فوجی اور ایک پولیس اہلکار کو بستیوں کو نذرآتش کرنے کی مبینہ کوشش کے دوران دبوچ لیا اور حکام کے حوالے کردیا۔ جبکہ کچھ دیگر اہلکاروں نے فرار ہوکر نزیکی فوجی ہیڈکوارٹر میں پناہ لے لی تھی۔

آگ زنی کی مسلسل وارداتوں کے حوالے سے پولیس اور فوج کا کہنا ہے کہ جنگلی علاقوں میں مسلح جنگجوؤں نے کمین گاہیں تعمیر کرلی ہیں اور انہیں وہاں سے کھدیڑنے کے لیے جنگلوں میں آگ کا سہارا لیا جارہا ہے۔ تاہم سماجی حلقوں میں اس آپریشن کو لے کر شکوک اور خدشات پائے جاتے ہیں۔

مقامی روزنامہ اطلاعات نے تیرہ دسمبر کے اداریہ میں لکھا ہے’صاف نظر آتا ہے کہ موسم سرما کے پیش نظر ملی ٹنٹوں کی حمایت اور اعانت ختم کرنے کے لیے آگ زنی (دراصل) کونٹر انسرجنسی اپریشن ہے‘۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد