وِپرو کے مالک عظیم پریم جی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کی سرکردہ سافٹ ویئر کمپنی ’وِپرو‘ کے مالک عظیم پریم جی انفرادی طور پر ہندوستان کے دوسرے سب سے امیر شخص ہیں لیکن ان کے لیے یہ اہمیت کا حامل نہیں ہے۔ پریم جی آج بھی بہت مہنگی کار کا استعمال نہیں کرتے اور ہوائی جہاز کے ایکونومی کلاس میں ہی سفر کر تے ہیں۔ان کی رہائش گاہ کہیں اور نہیں بلکہ بنگلور میں وِپرو کے مرکزی دفتر کے احاطے میں ہی واقع ہے۔ وِپرو کے اقدار میں رشوت نہ دینا بھی شامل ہے اور اس کے سبب اسے ابتدائی دور میں اس کی قیمت بھی چکانی پڑی تھی۔ اپنے والد کےخوردنی کی تیل کے کاروبار سے انہوں نے بزنس کی شروعات کی اور آج پچیس ارب ڈالر کی گلوبل آؤٹ سورسنگ کی ایک عظیم کمپنی کے مالک ہیں۔ آج یہ کمپنی دنیا کی نامی کمپنی آئی بی ایم اور ایکسنچیور کو زبردست ٹکر دے رہی ہے۔ بی بی سی سے ایک خصوصی بات چیت میں پریم جی نے کہا کہ دولت کے ساتھ ساتھ ان پر اپنے ملازم، گراہک اور پورے معاشرے کے تییں ذمہ داری بھی آئي ہے۔ پریم جی کا خیال ہے کہ ان کی ’تجارتی کامیابی نے حسد پیدا کر نے کے بجائے ہندوستان کی نئی نسل کو زیادہ پیشہ ور ہونے کے لیے حوصلہ افزائی کی ہے۔‘ وہ کہتے ہیں: ’میری دولت پر جس طرح لوگوں کی توجہ جاتی ہے میں نے سوچا تھا کہ میرے تئیں لوگوں میں نفرت پیدا ہوجائے گی۔ لیکن ہوا اس کے برعکس اور میری کامیابی نے کئی لوگو ں میں اور زیادہ دولت پیدا کر نے کے لیے حوصلہ بخشا۔‘ پریم جی مانتے ہیں کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونیکیشن کے میدان میں دو وجوہات سے ہندوستان آگے رہا ہے۔ ایک وجہ یہ ہے کہ یہاں حساب میں ماہراور قابل ورک فورس موجود ہے اور دوسری یہ کہ یہاں عالمی زبان انگریزی جاننے اور بولنے والے لوگوں کی تعداد کافی ہے۔
پریم جی کا کہنا ہے کہ بڑھتے مطالبات کو پورا کرنے کے لیے ہندوستان کے کالجز بہتر اور باصلاحیات انجینئیر پیدا کرنے کے قابل ہیں۔ اس وقت چار لاکھ گریجویٹ ہربرس فارغ ہو تے ہیں۔ یہ تعداد دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔ پریم جی کا دعویٰ ہے کہ ہندوستانی آئی ٹی پروفیشنلز غیرملکی کمپنیوں کے بجائے ہندوستانی کمپنیوں میں کام کرنا پسند کرتے ہیں کیوں کہ کریئر کے لحاظ سے یہاں مواقع زیادہ ہیں۔ آنے والے وقت میں وِپرو کا منصوبہ جاپان اور مشرق وسطی کے ممالک میں کمپنی کی توسیع کرنا ہے۔ پہلے ہی سے کمپنی کے گیارہ ہزار ملازم بیرون ملک کام کررہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں: ’اگر آپ چاہتے ہيں کہ ہندوستان بھی عالمی بازار میں حصہ دار بنے تو اس کے لیے اسے بھی ترقی یافتہ ممالک کی طرح پیش آنا پڑے گا۔‘ جس ملک سے پریم جی کو زیادہ کمپیٹیشن دکھائی دیتا ہے وہ ملک ہے چین۔ دنیا میں سب سے بڑے سافٹ ویئر کے بازار چین میں وِپرو نے پہلے ہی قدم رکھ دیا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ اگر چین نے ایک بار اپنے لوگوں کو انگریزی کی تربیت دینی شروع کردی تو ہندوستان کے لیے وہ صحیح معنوں میں ایک بڑا چیلنج ہوگا۔ |
اسی بارے میں استاد بھارت میں شاگرد سات سمندر پار27 March, 2006 | انڈیا وپِرو کے منافع میں زبردست اضافہ22 April, 2005 | نیٹ سائنس انفوسِس: پیسے کے عوض تصفیہ11.05.2003 | صفحۂ اول امریکی خبریں اب بنگلور سے02 February, 2007 | انڈیا انفوسس کا زبردست کاروبار 13 April, 2004 | انڈیا برطانوی بھارتیوں کو سہولت19 April, 2005 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||