بھارتی ڈرائیور کی تلاش جاری | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان میں بھارت کے ایک افسر کا کہنا ہے کہ کئی پہلوؤں کو مد نظر رکھتے ہوئے جنوبی صوبے نمروز میں لاپتہ بھارتی شہری کو تلاش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ طالبان مزاحمت کاروں نے سنیچر کو اس شخص کے ساتھ تین اور افغانیوں کو اغواء کرنے کا دعوی کیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ایم رمن کٹی نامی شخص بھارت کی سرکاری بارڈر روڈز تنظیم میں ایک ڈرائیور ہے۔ اس سال مزاحمت کاروں کی جانب سےتشدد کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا جس میں چودہ سو سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔ افغانستان میں بھارت کے سفیر راجیش سود نے بی بی سی کو بتایا کہ کسی شخص نے بھی کابل میں بھارتی سفارت خانے اور نہ ہی حکومت سے اس واقعے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے رابطہ کیا ہے۔ جب ان سے اس معاملے میں طالبان کی شمولیت کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ وہ اس سلسلے میں کسی ممکنات سے صرف نظر نہیں کررہے ہیں۔ گم ہونے والا شخص ان تین سو بھارتی شہریوں میں شامل ہے جو دو سو اٹھارہ کلو میٹر طویل دیلارام موٹر وے کو افغانستان میں قندھار، ہرات اورایران کی سرحد پر واقع زارہ جان سے ملانے والے منصوبے پر کام کر رہے تھے۔ ان میں سے کچھ کا تعلق بھارت کی سرکاری بارڈر روڈز تنظیم سے ہے۔ راجیش سود کا کہنا ہے کہ تراسی ملین ڈالر کے اس منصوبے پر کئی افغان اور ایرانی کام کر رہے تھے۔ طالبان کوجنوبی افغانستان میں انجینئروں کےاغواء جس میں کئی ترک اور بھارتی شامل تھے، کے واقعات کا ذمہ دار ٹہرایا جاتا رہا ہے۔ ستمبر میں فراح صوبے میں برطانیہ کے ایک انجینئر کو اغواء کے بعد قتل کر دیا گیا تھا۔ طالبان کے ترجمان قاری محمد یوسف نے سیٹلائٹ فون کے ذریعے خبر رساں اداروں کو بتایاکہ ان کے جنگجوؤں نے بھارتی شہری کو اغواء کیا ہے۔ انہوں نے اس بارے میں مذید تفصیلات نہیں بتائیں اور ان کے اس دعوے کی آزاد ذرائع سے ابھی تک تصدیق نہیں کی جا سکی ہے۔ افغان وزات داخلہ کے ایک ترجمان نے اس اغواء کی تصدیق کی لیکن اغواء کرنے والوں کے بارے میں کوئی تفصیل نہیں بتائی۔ بھارت کے دارالحکومت دہلی میں وزارت خارجہ کے ایک ترجمان نے بتایا کہ وہ اس بارے میں خبروں سے آگاہ ہیں اور افغان حکام اس معاملے کی تحقیق کر رہے ہیں۔ اگر یہ اطلاعات درست ہیں توبھارت اس کی مذمت کر تا ہے اور ان سب کی رہائی کی درخواست کر تا ہے۔ افغانستان میں اتحادی فوج کے بیس ہزار دستے مزاحمت کاروں کے خلاف مصروف عمل ہیں۔ |
اسی بارے میں طالبان کے ہاتھوں چھ افراد کا قتل03 September, 2005 | آس پاس افغانستان: جیل پر طالبان کا حملہ24 September, 2005 | آس پاس ہلاکتوں پرطالبان کی مذمت 20 October, 2005 | آس پاس ’طالبان حوالے کرنے کاخیرمقدم‘ 27 October, 2005 | آس پاس ’طالبان‘ کارروائیاں: نو ہلاک10 November, 2005 | آس پاس امریکہ: پھانسیوں میں کمی15 November, 2005 | آس پاس مزاحمت کاروں سے بات ہو سکتی ہے‘20 November, 2005 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||