مزاحمت کاروں سے بات ہو سکتی ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کے صدر جلال طالبانی نے کہا ہے کہ اگر مزاحمت کار چاہتے ہیں تو وہ ان سے بات چیت کرنے کے لیے تیار ہیں۔ مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں ایک قومی مصالحتی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ تمام عراقیوں کے ذمہ دار ہیں اور ’مجرموں‘ سمیت سب کی بات سننا چاہتے ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ صدام حسین کے حامیوں اور مذہبی شدت پسندوں کے لیے عراق کی سیاست میں کوئی کردار نہیں ہے۔ واضح رہے کہ کچھ اطلاعات میں کہا جا رہا تھا کہ عراقی حکومت اور مزاحمت کارروں کے درمیان رابطے ہو رہے ہیں لیکن اب ان اطلاعات کی تردید کر دی گئی ہے۔ امریکہ کے وزیر دفاع ڈونلڈ رمسفیلڈ نے اس سال جون میں کہا تھا کہ امریکی حکومت عراقی حکومت اور مزاحمت کارروں کے درمیان مسلسل رابطے کراتی رہی ہے۔ عراقی حکومت نے اس کی فوری طور پر تردید کر دی تھی۔ قاہرہ میں اتوار کو عرب لیگ کے تعاون سے ہونے والی کانفرنس کے بارے میں فوری طور پر واضح نہیں ہو سکا کہ وہاں عراقی صدر کیا منصوبہ پیش کرنا چاہتے ہیں تاہم انہوں نے کہا کہ ’ اگر وہ لوگ جو خود کو عراقی مزاحمت کار کہتے ہیں مجھ سے ملنا چاہتے تو میں انہیں خوش آمدید کہتا ہوں۔‘ اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے صدر جلال طالبانی نے کہا کہ مزاحمت کارروں کے ساتھ بات چیت کا مطلب یہ نہیں کہ وہ ان کی بات ماننے جا رہے ہیں۔ ادھرغیرمصدقہ اطلاعات میں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ قاہرہ کانفرنس کے دوران صدر طالبانی نے حکومت مخالف عراقی نمائندوں سے ملاقات بھی کی ہے۔ قاہرہ میں بی بی سی کے نامہ نگار این پینل کا کہنا ہے کہ صدر طالبانی پر عراق کے اندر اور مغربی ممالک کی طرف سے عراق میں جاری پرتشدد کارروائیوں میں کمی کی غرض سے مزاحمت کارروں سے ڈیل کرنے کے لیے دباؤ پایا جاتا ہے۔ | اسی بارے میں عراق میں خود کش حملے، 70 ہلاک18 November, 2005 | آس پاس عراق:دس فیصد غیرملکی جنگجو18 November, 2005 | آس پاس امریکی فوجیوں سمیت 53 ہلاک 19 November, 2005 | آس پاس ’عراقی سیکورٹی سنبھالیں‘15 November, 2005 | آس پاس برطانوی فوج: عراق سے اگلے برس واپس13 November, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||