امریکہ: پھانسیوں میں کمی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی میں ملزموں کو پھانسی کا حکم سنانے اور اس حکم پر عمل درآمد میں کمی واقع ہوئی ہے۔ امریکہ میں جاری کیے جانے والے اعداد وشمار کے مطابق 2004 میں کم ملزموں کو پھانسی کا حکم سنایا گیا۔ ان اعداد و شمار کے مطابق بارہ امریکی ریاستوں میں عدالتوں نے ایک سو پچیس ملزموں کو پھانسی کا حکم سنایا جبکہ انسٹھ مجرموں کو پھانسی چڑھا دیا گیا۔ یہ تعداد پچھلے چار سالوں کے مقابلے میں کم ہے۔ امریکہ بیورو آف جسٹس رپورٹ کے معاون مصنف ٹریسی سنیل کے مطابق امریکہ میں کم پھانسی دینے کی وجہ ملک میں قتل کے واقعات میں ریکارڈ کمی کا نتیجہ ہے۔ امریکہ میں پھانسی کی سزا کے ایک حمایتی مائیکل رشفورڈ کے خیال میں امریکہ میں مجرموں کو پھانسی کی سزا دینے کی وجہ سے ملک میں قتل کرنے کے رجحان میں کمی ہوئی ہے۔ ان اعداد و شمار کے مطابق 2004 میں امریکی ریاست ٹیکساس میں 23 لوگوں کو پھانسی دی گئی جبکہ اوہائیو میں سات، اوکلوہاما میں چھ، ورجینیا میں پانچ، نارتھ کیرولینا میں چار، ساوتھ کیرولینا میں چار، الباما ، فلوریڈا، جورجیا اور نیوڈا، میں دو جبکہ آرکنساس اور میری لینڈ میں ایک مجرم کو پھانسی دی گئی امریکہ میں موت کی سزا کی مخالفت کرنے والی تنظیم ڈیتھ پینلٹی انفارمیشن سنٹر کے مطابق امریکہ میں ججوں میں مجرموں کو پھانسی دینے کا رجحان بڑھ رہا ہے اور یہ اعداد و شمار اسی رجحان کی عکاسی کرتے ہیں۔ | اسی بارے میں سزائےموت ملنی چاہیے: امریکہ23 April, 2005 | آس پاس سری لنکا: سزائے موت بحال21 November, 2004 | آس پاس سزائے موت کا ’ریکارڈ‘05 April, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||