سری لنکا: سزائے موت بحال | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سری لنکا نے جمعہ کو ایک ہائی کورٹ جج کے قتل کے بعد ملک میں موت کی سزا کو دوبارہ بحال کر دیا گیا ہے۔ سری لنکا میں پچھلے تیس سالوں میں کسی مجرم کو پھانسی کی سزا نہیں دی گئی ہے۔ ہائی کورٹ کے جج ایم بی پتیا کے قتل کے ایک روز بعد ملک کی صدر چندریکا کمارا ٹنگا نے اعلان کیا ہے کہ زنا، قتل اور منشیات کی سمگلنگ جیسے جرائم کے لیے موت کی سزا دی جائے گی۔ سری لنکا میں سن انیس سو چھہتر سے سزائے موت معطل تھی۔ ملک کی صدر چندریکا کوماراٹنگا نے سزائے موت کی بحالی کا فیصلہ اعلی حکام کے ساتھ ایک ہنگامی اجلاس کے بعد کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس فیصلے پر عمل درآمد فوری طور پر شروع کیا جائے گا۔ جج ایم بی پتیا کو جمعہ کو اس وقت ان کے گھر کے باہر قتل کر دیا جب وہ اپنی گاڑی سے اتر رہے تھے۔ اس حملے میں ان کا محافظ کوہلاک کر دیا گیاتھا۔ جج ایم بی پتیا نے اپنے کیرئر میں اور فیصلوں کے علاوہ تامل ٹائیگر کے رہنما پربھارکن کو دو سو سال قید کی سزا سنائی تھی۔ البتہ پولیس نے اس امکان کو رد کر دیا کہ جج ایم بی پتیا کو تامل ٹائیگرز نے ہلاک کیا ہے۔ ۔ پولیس کو شبہ ہے کہ جج کا قتل منشیات کا کاروبار کرنے والے گروہوں کی کارستانی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||