سزائےموت ملنی چاہیے: امریکہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی حکومت نے کہا ہے کہ وہ عدالت سے زکریا موسوی کے لیے سزائے موت کی درخواست کرے گی جبکہ موسوی کا کہنا ہے کہ وہ اس درخواست کی مخالفت کریں گے۔ اس بات کا اعلان امریکی اٹارنی جنرل البرٹو گونزالز نے کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ اس بات میں اب کوئی شبہ نہیں کہ موسوی دہشتگردی کی سازش میں شریک تھا اور وہ اور اس کے ساتھی 11 ستمبر کو ہزاروں معصوم افراد کی موت کے ذمہ دار ہیں‘۔ موسوی کیس میں ابھی جج نے یہ فیصلہ کرنا ہے کہ اس کیس کا فیصلہ جج کریں گے یا پھر اس کے لیے جیوری کا انتحاب کیا جائے گا۔ مراکشی نژاد فرانسیسی زکریا موسوی نے امریکہ میں حملوں کی سازش کے بارے میں اقرار جرم کرتے ہوئے اپنے اوپر لگے چھ الزامات کو تسلیم کیا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ وہ گیارہ ستمبر کو ہونے والے حملے کے منصوبے میں شامل نہیں تھے لیکن وائٹ ہاوس پر جہاز گرانے کے ایک وسیع تر منصوبے کا حصہ تھے۔ زکریا موسوی پر گیارہ ستمبر کے حملوں کی سازش کے سلسلے میں دہشت گردی، طیارے کے اغوا، طیارے کو تباہ کرنے اور مہلک ہتھیاروں کے استعمال کی سازش کے علاوہ امریکی اہلکاروں کو ہلاک اور املاک تباہ کرنے کی سازش کا الزام لگایا گیا ہے۔ ان پر عائد چھ الزامات میں سے چار پر انہیں سزائے موت مل سکتی ہے۔ زکریا موسوی کے وکلاء نے انہیں اقرار جرم سے باز رکھنے کی کوشش کی تھی اور ان کا مؤقف تھا کہ ان کے مؤکل کی ذہنی حالت درست نہیں ہے۔ مقدمے کے جج نے فیصلہ دیا کہ زکریا موسوی ذہنی طور پر صحت مند ہیں اور ان کا مؤقف سنا جا سکتا ہے۔ زکریا موسوی نے جج سے مخاطب ہو کر کہا کہ کہ اپنے اوپر لگے الزامات کو سمجھتے ہیں اور ’امریکیوں سے کسی نرم رویے کی توقع نہیں رکھتے‘۔ ایک سوال کے جواب میں موسوی نے کہا کہ انہیں اقرار جرم کے لیے امریکی حکومت نے کوئی پیشکش نہیں کی۔ موسوی نے اس سے پہلے سنہ دو ہزار دو میں بھی اقرار جرم کا ارادہ ظاہر کیا تھا لیکن انہوں نے نظر ثانی کے لیے ملنے والے دو ہفتوں کے دوران ارادہ بدل دیا۔ زکریا موسوی کو گیارہ ستمبر کو ہونے والے حملوں سے ایک ماہ قبل گرفتار کیا گیا تھا اور امریکی حکام کا کہنا تھا کہ اگر وہ پکڑے نہ جاتے تو حملہ آوروں میں شامل ہوتے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||