| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
باتیں موساوی کی
امریکہ میں گیارہ ستمبر کے حملوں کے ملزم زکریا موساوی نوے کی دہائی کے وسط میں لندن کی ساؤتھ بینک یونیورسٹی میں زیر تعلیم رہے ہیں۔ وہ یونیورسٹی کے بزنس سکول کے طالبعلم تھے۔ روانی سے انگریزی بولنے کی صلاحیت کے باوجود موساوی ایک کم گو طالبعلم اور اپنے کلاس فیلوز میں ایک شرمیلے ساتھی کے طور پر جانے جاتے تھے۔ لیکن اپنے توتلے پن کے باوجود وہ ایک متحرک اور فعال ذہن کے مالک تھے۔ ان کا شمار ایسے طلباء میں ہوتا تھا جو صرف ایک ڈگری کے بجائے تحصیل علم میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔ ساؤتھ بینک یونیورسٹی میں زکریا موساوی کی ایک کلاس فیلو اور بی بی سی روسی سروس کی پروڈیوسر ڈینا نیومین کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی کے دور میں موساوی ایک چھوٹے قد کا شرمیلا سا طالبعلم تھا۔ ’میں نے جب سن انیس سو چورانوے میں ساؤتھ بینک یونیورسٹی بزنس سکول میں بین الاقوامی بزنس میں ایم اے کی کلاس میں داخلہ لیا تو موساوی بھی وہاں پڑھ رہا تھا۔ پہلے سال سٹوڈنٹ کینٹین میں ہماری کئی لمبی ملاقاتیں ہوئیں۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس زمانے میں اس کے کوئی زیادہ دوست نہیں تھے۔ وہ میرے ساتھ گفتگو میں خاصی دلچسپی رکھتا تھا اور اس کا پسندیدہ موضوع سیاست تھا۔‘ ’میرا خیال ہے کہ اسے میرے روسی پس منظر سے زیادہ دلچسپی تھی۔ کیمونزم کی یادیں ابھی تازہ تھیں اور اس وقت لندن میں روسی پس منظر کے کوئی زیادہ افراد بھی نہیں ہونگے۔‘ ڈینا نیومین کے مطابق، زکریا موساوی خاص طور پر اشتراکی نظام کے بارے میں پوچھا کرتا تھا۔ کیا یہ منصفانہ نظام تھا؟ کیا روس میں بھی غریب لوگ ہوتے ہیں؟ کیا اشتراکی نظام میں بھی نسل پرستی ہوتی ہے؟ کیا وہاں سب کو تعلیم حاصل کرنے کے یکساں مواقع ملتے ہیں؟ ’اس کی باتوں سے واضح تھا کہ وہ مغرب کے خلاف ہے۔ اگرچہ وہ بین الاقوامی بزنس کے مضمون میں تعلیم حاصل کر رہا تھا لیکن کھلی منڈی کی تجارت سے اسے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔‘ زکریا موساوی اگرچہ فرانس کا شہری تھا لیکن وہ خود کو مراکشی سمجھتا تھا۔ مسز نیومین کے مطابق، ان دنوں مراکش نژاد زکریا موساوی نوآبادیاتی نظام کے بارے میں بہت تلخی کا اظہار کیا کرتا تھا اور ایک دفعہ کہنے لگا دیکھو مغرب نے ہمارے ساتھ کیا کیا ہے؟ ’تمھارے ساتھ؟ کیا مطلب ہے تمھارا؟‘ ’کہنے لگا میں مراکشی ہوں۔ لیکن تین ماہ بعد جب میری اس سے کافی جان پہچان ہوگئی تو میں نے اس سے پوچھا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ تم مراکش کے شہری ہونے کے باوجود لندن میں پڑھ رہے ہو۔ کہنے لگا میرے پاس فرانسیسی پاسپورٹ ہے اور یہ بات اس نے اس طرح کہی جیسے یہ محضٰ ایک اتفاق ہو۔ میں نے اس سے پوچھا تمھارے پاس فرانسیسی پاسپورٹ کیسے؟ "میں وہاں پر پیدا ہوا تھا اور میں نے وہیں پرورش پائی ہے۔ہاں ہاں میرا خاندان بھی تو وہیں رہتا ہے۔‘ ’میں یہ سن کر حیران رہ گئی۔ اس نے کبھی بھی فرانس کا اس طرح ذکر نہیں کیا تھا کہ وہ اس کا اپنا ملک ہو یا فرانس سے اس کا کوئی لینا دینا ہو۔‘ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||