BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 23 February, 2009, 15:24 GMT 20:24 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’فلمی صنعت کے لیے نئی شروعات‘

اے آر رحمن
ہندوستان میں تخلیق کاروں اور فنکاروں کی کمی نہیں
اکیاسیویں آسکرز میں بھارتی فنکاروں کی کامیابی کو بھارتی فلمی صنعت کے لیے ایک نئی شروعات سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔

بالی وڈ کے شومین سبھاش گھئی کا کہنا ہے کہ ’سلم ڈاگ ملینئیر‘ نے انہیں ایک نئی راہ دکھائی ہے۔ یہ فلم ایک مثال بن کر سامنے آئی ہے۔

گھئی کے مطابق’ہمیں ہندوستانی کہانیوں کو بین الاقوامی ناظرین کے ذہن کو مد نظر رکھ کر فلمیں بنانی چاہیں۔ فلموں میں سرمایہ کاری کرنے والے بڑے مالیاتی اداروں ہالی وڈ سٹوڈیو کو ساتھ لے کر فلمیں بنانی چاہیں تو ہم کامیاب ہوں گے کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ ہندوستان میں تخلیق کاروں اور فنکاروں کی کمی نہیں اور یہ بات ثابت ہوئی ہے اے آر رحمان گلزار اور رسول پھوکٹی کے کام سے‘۔

گھئی کو توقع ہے کہ فلمی صنعت میں شامل نئی نسل کے جوان ہدایت کار تیکنیکی فنکار جو وقت کی ضرورت کو سمجھتے ہیں آئندہ آسکر لانے میں وہ کامیاب ہوں گے۔

فلم میں اے آر رحمن کی موسیقی کے اس وقت دنیا بھر میں چرچے ہیں۔ انہیں دو شعبوں میں آسکر ایوارڈ ملا ہے ایک جے ہو اور دوسرا اوریجنل موسیقی کے لیے۔

سلم ڈاگ ملیئنیر کے نغمے کے لیے گلزار کو بھی ایوارڈ ملا ہے

’جے ہو‘ میں گیت کے بول گلزار کے ہیں۔ گلزار نے لیکن انتہائی ایمانداری کے ساتھ کہا ’ دراصل یہ آسکر انہیں ان کے نغموں کے بول کے نہیں بلکہ رحمن کی موسیقی کے لیے دیا گیا ہے کیونکہ وہ یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہالی وڈ میں ہندی نغموں کی اپنی کوئی پہچان نہیں ہے یہ تو رحمن کی موسیقی کا جادو تھا کہ انہیں بھی ساتھ میں یہ اعزاز مل گیا۔‘

اداکارہ سیما بسواس کا خیال ہے کہ ایک فلم کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ ایک وقت میں تمام خوبیاں اس میں موجود ہوں۔ بسواس کے مطابق ایسا نہیں ہے کہ ہماری انڈسٹری نے اچھی فلمیں نہیں دی ہیں ہم نے حال ہی میں ’رنگ دے بسنتی‘ دی عامر نے فلم ’لگان‘ بنائی جو آسکر میں پانچ بہترین غیر ملکی فلموں کے زمرے میں نامزد بھی ہوئی انہوں نے پرانے دور کی فلمیں کاغذ کے پھول اور تیسری قسم کی مثال دی انہوں نے ستیہ جیت رے کی فلموں کا حوالہ دیا۔

سیما کا کہنا تھا کہ ہمارے فلمساز دراصل ہندوستانی ناظرین کو ذہن میں رکھ کر فلمیں بناتے ہیں اور اگر آسکر ایوارڈ چاہیے تو انہیں عالمی سطح کے ناظرین کو ذہن میں رکھ کر فلمیں بنانی چاہئیں۔

 یہ بات قابلِ غور ہے کہ ’سلم ڈاگ ملیئنیر‘ بھلے ہی ممبئی کی جھگی جھوپڑی اور اس میں رہنے والوں کی کہانی کے گرد گھومتی ہے اور ہندوستانی بچوں نے اس میں کام بھی کیا ہے لیکن پھر بھی فلم کا سکرین پلے اور ہدایت میں تو مغربی فنکاروں کا کمال ہے۔ فلم کو پروڈیوس بھی ہالی وڈ کمپنی’فوکس سرچ لائٹ‘ نے کیا ہے ۔ اگر اسے دوسرے معنوں میں لیا جائے تو سچائی یہ ہے کہ صرف اس فلم کی موسیقی، نغمہ اور ساؤنڈ مکسنگ کو چھوڑ کر یہ فلم بالی وڈ نہیں بلکہ مغرب کی کوششوں کا نتیجہ تھی۔

بالی وڈ کی زیادہ تر فلمیں آج کل ہالی وڈ کی فلموں کا چربہ ہوتی ہیں اور وہ بھی ناکام نقل۔گھئی نے اس کا اعتراف بھی کھلے دل کے ساتھ کر لیا۔انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس کہانیوں کی کمی نہیں ہے لیکن اس کے باوجود ہم ہالی وڈ کی فلموں کی ناکام نقل کرتے ہیں جبکہ ہمارے پاس تخلیق کاروں اور فنکاروں کی کمی نہیں ہے۔اس لیے اب ضرورت ہے کہ ہم ان کی فلموں کی نقل کرنے کے بجائے ان کی تیکنیک کو اپنائیں۔

آسکر میں موسیقار اے آر رحمن کو اوریجنل موسیقی کے لیے ایوارڈ دیا گیا۔شاید یہ بالی وڈ کے ان تمام موسیقاروں کے لیے ایک کھلا چیلنج ہے جن پر دوسروں کی موسیقی چرانے کے الزامات لگتے آئے ہیں۔

ایسے وقت میں جبکہ پوری دنیا رحمن کی موسیقی کے گن گا رہی ہے اور جے ہو کا نعرہ لگا رہی ہے فلم انڈسٹری رحمن کی تعریف کرتے نہیں تھک رہے ہیں۔سیما کو رحمن کی موسیقی میں گلزار کے لکھے گیت اور سکھوندر کی آواز کا فلم ' دل سے‘ کا چل چھیاں چھیاں چھیاں۔۔ نغمہ زیادہ پسند ہے

فلمساز راکیش روشن نے رحمن کو ’جینئس‘ قرار دیا۔ گلوکار اور موسیقار عدنان سمیع نے انہیں عظیم موسیقار کے ساتھ عظیم انسان اور زینت امان نے کہا کہ رحمن نے ہندوستان کا سر فخر سے اونچا کر دیا۔

تاہم یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ ’سلم ڈاگ ملیئنیر‘ بھلے ہی ممبئی کی جھگی جھوپڑی اور اس میں رہنے والوں کی کہانی کے گرد گھومتی ہے اور ہندوستانی بچوں نے اس میں کام بھی کیا ہے لیکن پھر بھی فلم کا سکرین پلے اور ہدایت میں تو مغربی فنکاروں کا کمال ہے۔

رسول پھوکتی
سلم ڈاگ ملینئیر کی ساؤنڈ مکسنگ کے لیے آسکر جیتنے والے رسول پھوکتی

فلم کو پروڈیوس بھی ہالی وڈ کمپنی’فوکس سرچ لائٹ‘ نے کیا ہے ۔ اگر اسے دوسرے معنوں میں لیا جائے تو سچائی یہ ہے کہ صرف اس فلم کی موسیقی، نغمہ اور ساؤنڈ مکسنگ کو چھوڑ کر یہ فلم بالی وڈ نہیں بلکہ مغرب کی کوششوں کا نتیجہ تھی۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہندوستانی فلمی صنعت جسے دنیا میں ہر سال سب سے زیادہ فلمیں بنانے کا اعزاز حاصل ہے جس کی ایک فلم کا بجٹ کبھی کبھی اَسی سے سو کروڑ روپیوں تک تجاوز کر جاتا ہے، ایک فلم ایسی نہیں بنا سکتے جسے آسکر ایوارڈ مل سکے؟

نامور ہدایت کار انیس بزمی اس کا اعتراف کرتے ہیں لیکن ان کا کہنا ہے ’ بالی وڈ کا نقشہ ہی الگ ہے یہاں جب تک آپ کی فلم میں کسی بڑے ہیرو اور ہیروئین کا نام شامل نہیں ہو تو پروڈیوسر فلم میں پیسہ لگانا پسند نہیں کرتے۔ پھر ناظرین کی پسند بھی الگ ہے جب تک نامور اور من پسند ہیرو فلم میں نہ ہو لوگ فلم کو دیکھنے کے قابل ہی نہیں سمجھتے ہاں آف بیٹ پکچر دیکھنے والے ناظرین کی تعداد کم ہے۔‘

بزمی کے مطابق اگر یہی فلم (سلم ڈاگ ملینئیر) کسی بالی وڈ ہدایت کار کو بنانے کے لیے دی جاتی تو شاید اسے پانچ کروڑ روپے کا ہی بجٹ مل پاتا جبکہ کسی بھی بڑے نامور اداکار کو نہ لینے کے باوجود مذکورہ فلم ستر کروڑ روپے میں بنی۔

روبینہسلم ڈاگ ملینیئر
جھگی کے بچے امریکہ جانےکی تیاری میں ہیں
بریڈ پٹبینجمن بٹن کیس
بڑھاپے سے بچپن کی طرف لوٹنا ہو تو کیا ہو گا؟
روبینہغریب نگر کا سچ
’سلم ڈاگ ملینیئر‘ اور روبینہ کی جھونپڑ پٹی
مادھوری ڈکشٹستاروں کی محفل
ممبئی میں سلم ڈاگ ملینئر کا پریمیئر
سلم ڈاگ ملینیئر
آسکر کے لیے دس زمروں میں نامزدگیاں
بچن کی سلم ڈاگ ملینیئر پر تنقیدگند اچھالا گیا
امیتابھ بچن کی سلم ڈاگ ملینیئر پر تنقید
اسی بارے میں
ممبئی کی جھوپڑی سے آسکر تک
17 February, 2009 | فن فنکار
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد