’بچپن سے ہی کھیلنے کا شوق تھا‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بی بی سی ہندی سروس کے سنجیو شریواستو نے ہندوستان میں کرکٹ کے سب سے مقبول کپتانوں میں سے ایک سورو گانگولی سے ایک خاص ملاقات کی اور ان سے ان کے کھیل، ذاتی زندگی، آئی پی ایل ،اور شاہ رخ خان کی ٹیم میں کھیلنے کے تجربے کے بارے میں بات کی ۔ س: سورو آپ کو شروع سے ہی پرنس یا مہاراجہ کہا جاتا ہے کیا واقعی بچپن سے ہی آپ کا راجکماروں والا اسٹائل تھا؟ ج: نہیں ایسا نہیں ہے۔ بچپن میں یا ابھی بھی میرا ایسا کوئی مہاراجہ والا اسٹائل نہیں ہے ۔ دراصل یہ سارے خطاب جیفری بائیکاٹ کی دین ہیں۔ س: آپ ایک بائیں ہاتھ کے بلے باز ہیں۔ آپ کو بائیں ہاتھ کے بلے بازوں میں کون پسند ہیں؟ ج: میرے خیال سے دنیا کے سب سے بہترین بائیں ہاتھ کے بلے باز گیری سوبرز ہیں۔ حالانکہ میں نے انہیں بلے بازی کرتے نہیں دیکھا۔ لیکن ویسٹ انڈیز کے برائن لار بے مثال ہیں۔ وہ جادو گر ہیں۔ آپ جب انکی بلے بازی دیکھ رہے ہوتے ہیں تو آپ کو لگتا ہے کہ کاش میں بھی ایسا کھیل پاتا۔ س: ویسٹ انڈیز کی بات کررہے ہیں تو یہ بتائیں کہ وہاں کے جب لمبے چوڑے گیند باز طوفانی گیند بازی کرتے ہیں تو کیا ڈر لگتا ہے؟
ج: دیکھئے ہم لوگ اس کی پریکٹس کرتے ہیں اور کچھ دن بعد اس کی عادت پڑ جاتی ہے۔ شعیب اختر، بریٹ لی، ڈیل اسٹین 90 میل فی گھنٹے کی رفتار سے گیند بازی کرتے ہیں۔ ان سبھی کو کھیلنے کے لیے پریکٹس اور تکنیک کی ضرورت ہوتی ہے۔ آپ کو میدان میں اس سوچ کے ساتھ جانا ہوتا ہے کہ اس بالر کو کھیلنا ہے چاہے بھلے ہی چوٹ لگ جائے۔ س: آپ نے 1992 میں عالمی کرکٹ میں کریئر شروع کیا۔ ویسٹ انڈیز کے ساتھ ایک میچ کھیلا اور پھر ایک لمبے وقت تک ٹیم کا حصہ نہیں رہے۔ پھر ساڑھے تین برس بعد نمبر آیا۔ کیسا لگا تھا؟ ج: دیکھئے تب میری عمر سترہ برس کی تھی۔ واپس بنگال چلا گیا وہیں کے لیے کھیلتا تھا۔ سوچتا ہی نہیں تھا کہ ٹیم میں نہیں لیا گیا ہوں۔پھر جب بھارتیہ ٹیم میں ليا گیا تو سیدھا لارڈس میں سنچری سے کھاتا کھولا۔ پھر اسکے بعد سفر چلتا رہا اور آج تک جاری ہے۔
س: سورو گانگولی کو پہلی بار یہ احساس ہوا کہ وہ ایک بڑے اسٹار بن گئے ہیں؟ ج: میں اصل میں اسٹارڈم کے بارے میں نہیں سوچتا۔ 1996 میں مجھے احساس ہوگیا تھا کہ مجھ میں عالمی کرکٹ کھیلنے کی صلاحیت ہے۔اب 12 برس بعد 100 ٹیسٹ اور 300 ون ڈے کھیلنے کے بعد بھی رن بنانے کے بارے میں سوچتا ہوں۔ میرے لیے کرکٹ روزگار نہیں بلکہ یہی سوچتا ہوں کے ملک کے لیے کھیلنا ہے۔ س: اچھا کبھی اپنی زندگی کے بارے میں سوچتے ہیں اور پیچھے مڑکر دیکھتے ہیں کہ کتنا لمبا سفر طے کیا۔ کیا کامیابی اور ناکامیاں رہیں؟ ج: سچ بتاؤں تو میں آگے دیکھنے والا آدمی ہوں۔ یہ خوشی ہے کہ ملک کے لیے کچھ کرسکا۔ س: آپ کو ’ کم بیک مین‘ کے طور پر جانا جاتا ہے۔ایک بار لگنے لگا تھا کہ سورو کی کیا واپسی ہوگی۔ کوچ کے تنازعے کے بعد آپ کے کرکٹ کرئیر پر سوالیہ نشان لگے تھے۔ کیا سوچتے ہیں اس بارے میں؟ ج: اس وقت تک میں نے کافی کچھ حاصل کرلیا تھا۔ 100 ٹیسٹ میچيز کھیل لیے تھے۔ گیارہ سال کا کرکٹ کرئیر ہوچکا ہے۔ ملک سے باہر بھی میری کپتانی میں ہم نے سیریز جیتی تھی۔ تو امید تھی کہ ہمیشہ تو اچھا ہی ہوا ہے آگے بھی اچھا ہی ہوگا۔
س: آپ کی شاندار واپسی ہوئی تھی۔ لیکن ان دنوں کبھی ڈر لگتا تھا یا یقین کمزور ہوا تھا کہ اس طرح سے کرکٹ سے باہر جانا پڑا تھا؟ ج: میں خراب کرکٹ کھیلنے کی وجہ سے کرکٹ سے باہر نہیں ہوا تھا۔ اس لیے ڈر نہیں لگتا تھا۔ لیکن دل میں یہ خیال ضرور آتا تھا کہ مجھے کرکٹ سے ایسے باہر نہیں ہونا تھا۔ میں کبھی مایوس نہیں ہوا کیونکہ خاندان والوں، شائقین اور میڈیا کا سپورٹ تھا۔ س: آپ چھ برس تک کپتان رہے۔ بھارتیہ ٹیسٹ کپتانوں میں سب سے کامیاب کپتان رہے۔ آپ کی کپتانی میں ٹیم نے سب سے زیادہ میچ جیتے ہیں؟ ج: میرا ماننا ہے کہ جیت ہمیشہ پوری ٹیم کی وجہ سے ہوتی ہے۔کپتان کا معاون کم ہی ہوتا ہے۔ آپ ڈریسنگ روم میں جاکر دیکھئے آپ کو پتہ چلے گا یہ کھلاڑی کتنے اچھے دل کے ہوتے ہیں ان کو صرف ایک جنون ہوتا ہے کہ انہیں ٹیم کو جتانا ہے۔ س: ٹیم میں سب سے اچھا دوست کون ہے؟ ج: سبھی، سچن، ڈریوڈ، سہواگ، ہربھجن، کمبلے، سبھی میرے اچھے دوست ہیں۔ س: اچھا یہ بتائیے کہ ہربجھن کو کیا ہوگیا ہے کافی متنازعہ ہوگئے ہیں وہ؟
ج: ہربجھن تھوڑے غصے والے ہیں۔ لیکن دل کے بہت اچھے انسان ہیں۔ وہ ایک ایسے دوست ہیں جو ضرورت میں کسی بھی وقت آپ کی مدد کریں گے۔ س: سوالوں کا رخ بدلتے ہیں۔ سنا ہے کرکٹ ٹور کے دوران ہوٹل کے کمرے میں جاتے ہی آپ سب سے پہلے اپنی اہلیہ اور بیٹی کی تصویر لگاتے ہیں؟ ج: ہاں یہ تو صحیح ہے۔ پر اب سب کی تصویریں موبائیل میں ہی ہوتی ہیں۔ س: اچھا یہ بتائے کہ آئی پی ایل کے بارے میں کیا خیال ہے؟ ج: یہ ایک انٹرٹینمنٹ ہے اور سفر بہت کرنا پڑتا ہے۔ اصل کرکٹ تو ٹیسٹ کرکٹ ہے۔ س: اور آپ کی کولکاتہ نائٹ رائڈئرز کی ٹیم کے مالک شاہ رخ خان کے بارے میں کیا کہنا ہے؟ ج: وہ ٹیم کے ساتھ بہت زیادہ شامل ہوتے ہیں۔ میں انہیں 2003 سے ہی اچھی طرح جانتا ہوں۔ ہماری پوری ٹیم انہیں بہت پسند کرتی ہے اور ہمیں بہت انکرج کرتے ہیں۔ |
اسی بارے میں پریمیئر لیگ میں بالی وُڈ کی چمک دمک19 April, 2008 | کھیل انڈیا: کوچ اور اب منیجر کے مسائل16 June, 2007 | کھیل گانگولی کرکٹ نہ چھوڑیں: گواسکر26 February, 2006 | کھیل سورو گانگولی کے مداحوں کا احتجاج16 December, 2005 | کھیل چیپل اورگنگولی میں وقتی سمجھوتہ 27 September, 2005 | کھیل گانگولی پر چھ ون ڈے کی پابندی12 April, 2005 | کھیل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||