’فلموں میں کبھی دلچسپی نہیں تھی‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بی بی سی ہندی سروس کے سنجیو شریواستو نے بالی ووڈ کی نامور اداکارہ کاجول سے ملاقات کی اور ان سے ان کی اداکاری، ذاتی زندگی، اور حال میں ان کے خاوند اجے دیوگن کی ہدایت میں بننے والی فلم’ یو می اور ہم‘ میں بطور اداکارہ کام کرنے کا تجربہ کاجول سب سے پہلے یہ بتائے کہ جب آپ کی تعریف ہوتی ہے کہ اب ’بیسٹ‘ ہیں، شادی کے بعد کہاں چلی گئیں، جلدی جلدی فلمیں کیوں نہیں کرتی تو کیسا لگتا ہے؟ ج: یہ میری خوش قسمتی ہے۔ اچھا لگتا ہے جب لوگ آپ کے کام کو پسند کرتے ہیں۔ میں کوشش کرتی ہوں کے جہاں تک ہوسکے لوگوں کی امید پر کھری اتر سکوں۔ س: پہلے آپ کی ماں تنوج، آپ کی خالہ نوتن اور نانی شوبھنا سامرتھ بہترین اداکارہ رہیں ہیں اس ماحول کا کیسا اثر رہا؟ ج: سچ کہوں تو ان سب کا کچھ بھی اثر نہیں پڑا مجھ پر۔ میں اپنی ماں کی فلمیں نہيں دیکھتی تھی مجھے انہیں فلموں میں روتا دیکھ کر رونا آتا تھا اور اسی وجہ سے میں نوتن ماسی کی فلمیں نہیں دیکھتی تھی۔ سچ کہیں تو مجھے فلمیں دیکھنے کا شوق ہی نہیں تھا میں صرف کتابیں پڑھتی تھی۔ میں نے سب سے زیادہ فلمیں امیتابھ بچن کی دیکھیں ہیں اور اس وقت کی دیکھی ہوئی فلمیں میں گن سکتی ہوں ۔ کل ملا کر دس یا گیارہ فلمیں دیکھیں ہونگی۔
س: تو آپ کو کتابیں پڑھنا پسند رہا ہے۔ کس طرح کی کتابیں؟ ج: میں صرف ایک طرح کی کتابیں نہیں پڑھتی تھیں۔ کومکس سے لیکر ملز اینڈ بونس، اور تاریخی کتابیں پڑھتی تھیں۔ آج بھی کومکس پڑھتی ہوں۔ میں اپنی معلومات بڑھانے کے لیے نہیں پڑھتی بلکہ پڑھنے میں جو مزا آتا ہے اس کے لیے پڑھتی ہوں۔ س: اچھا یہ بتائیے کہ اجے دیوگن سے پہلی ملاقات کب ہوئی اور کب ہوا پہلا کرش؟ ج: ہم دونوں کے بیچ ’لو ایٹ فرسٹ سائٹ‘ جیسا کچھ بھی نہیں ہوا۔ پہلی ملاقات فلم ’ہل چل‘ کی شوٹنگ پر ہوئی تھی۔ اس کے بات دوستی ہوئی۔ س: آپ کو دیکھ کر لگتا ہے کہ یہ لڑکی بولنا بند کیوں نہیں کرتی اور اجے دیوگن کو دیکھ کر آخر یہ بولتے کیوں نہیں۔ کیوں اصل زندگی میں اجے ایسے ہی ہیں؟ ج: دیکھیئے اجے دیوگن بھلے ہی اصل زندگی میں کم بولنے والے نظر آتے ہوں لیکن سنجیدہ مزاج شخص ہیں۔ جب بولتے ہیں تو گہرائی والی بات بولتے ہیں۔ س: اجے دیوگن کی تھوڑی اور بات کرتے ہیں۔ کبھی خاوند کی طرح سے بات کرتے ہیں۔ ڈانٹتے ہیں آپ کو؟ ج : نہیں کبھی نہیں! مجھے یاد نہیں کہ کبھی انہوں نے مجھ سے چیخ کر بات کی ہو۔ ہم دونوں میں کبھی جھگڑا ہوتا تو جس کی غلطی ہوتی وہ معافی مانگ لیتا ہے۔ س: اب بات کرتے ہیں سکرین جوڑی کی۔ شاہ رخ کے ساتھ آپ کی جوڑی ہٹ رہی ہے کیا وہ آپ کے پسندیدہ ساتھی اداکار ہیں؟
س : شاہ رخ میرے بہت اچھے دوست ہیں۔ مجھے ان کے ساتھ کام کرنا پسند ہے۔ وہ اپنے کام کو تین سو فی صد بہتر کرتے ہیں ان سے آپ بہت کچھ سیکھتے ہیں۔ س: چلیے اب بات کرتے ہیں آپ کی فلموں کی، ’دل والے دلہنیا‘ آپ کی ایک سپر ہٹ فلم رہی۔ فلم سائن کرتے وقت لگا تھا کہ یہ فلم اتنی بڑی ہٹ ہوگی؟ ج: نہیں، ایسا احساس نہیں ہوا تھا۔ آپ شاہ رخ، کرن جوہر، آدتیہ چوپڑا کسی سے بھی پوچھ لیجیے کسی کو یہ احساس نہیں تھا کہ فلم اتنی ہٹ ہوگی۔ ایک بات معلوم تھی کہ میں ایک اچھی فلم کرنے جارہی تھی اور مجھے سکرپٹ بہت پسند آیا تھا۔
س: آپ کے کریئر پر اگر نظر ڈالیں تو واقعی بہت کامیاب رہی ہیں آپ اپنی شرطوں پر فلموں میں آئیں، اپنی شرطوں پر ایک بڑی اداکارہ بھی بنیں۔سب کچھ صحیح ہوا ہے، آپ کے ساتھ اور صحیح وقت پر بھی۔ آپ کی ٹائمنگ صحیح تھی یہ سب خود بخود ہوتا گیا؟ ج: میں نے ہمیشہ وہی کیا جو مجھے صحیح لگا۔ جتنے بھی فیصلے کیے ہیں خود کیے ہیں چاہے صحیح ہوں یا غلط اور ان کی ذمہ داری بھی خود ہی لی ہے۔ اگر میں نے کوئی ٹائمنگ نہيں کی اور اگر ایسے سوچتی تو نہ میری شادی ہوئی ہوتی نہ بیٹی اور نہ ہی اتنی فلمیں۔ س: فیصلے دل سے لیتی ہیں یا دماغ سے؟ ج: دونوں سے۔ لیکن بیشتر فیصلے دل سے لیتی ہوں۔ پہلے کوئی چیز دل میں اترنی چاہیے ورنہ چاہے کتنی بھی اچھی ہو مجھے پسند نہیں آتی۔ مان لیجیئے کسی نے کوئی سکرپٹ اچھی نہيں لکھا لیکن مجھے لگتا ہے کہ اس میں دم ہے تو پھر دماغ سے کام لیتی ہوں۔ س: اپنی زندگی کا سب سے خوبصورت لمحہ بتائیے؟ ج: جب میری بیٹی پیدا ہوئی، وہ میرے لیے سب سے خوبصورت لمحہ تھا۔ |
اسی بارے میں راموکی شعلے میں امیتابھ بنے گبر08 October, 2006 | فن فنکار مقبولیت: سانوریا یا اوم شانتی اوم ؟08 November, 2007 | فن فنکار فلم’ایکلویہ‘ آسکر کے لیے نامزد 25 September, 2007 | فن فنکار عائشہ کی راکھی، میرا کی اننگز03 September, 2007 | فن فنکار انشااللہ جلد بری ہو جاؤں گا: سلمان01 September, 2007 | فن فنکار سلمان خان رہا، ممبئی واپس31 August, 2007 | فن فنکار ’ایسے مت چک انڈیا‘25 August, 2007 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||