کراچی: مجموعی پولنگ پر امن رہی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی شہر میں پولنگ کے دوران حالات نسبتاً پرامن رہے اس لیے کم از کم تشدد سے ووٹ ڈالنے کا عمل متاثر نہیں ہوا۔لیکن انتخابات سے پہلے تواتر سے ہونے والے بم دھماکوں اور خودکش حملوں کی وجہ سے پائی جانے والی بدامنی اور خوف کی فضا قائم رہی۔ خوف کا اثر پولنگ سٹیشنوں پر دیکھنے میں آیا۔ صبح آٹھ بجے جب پولنگ شروع ہوئی تو اس کے بعد سے لیکر دوپہر تک شہر کے مرکزی اور وسطی علاقوں میں بہت کم ووٹرز پولنگ سٹیشنوں تک پہنچے اور بیشتر پولنگ اسٹیشنوں پر ٹرن آؤٹ آٹھ سے دس فیصد تک تھا۔ لیکن دوپہر کے بعد ووٹروں کا ٹرن آؤٹ بڑھنا شروع ہوا جس میں سہ پہر چار بجے کے بعد مزید تیزی آئی اور پولنگ ختم ہونے تک شہر کے وسطی علاقوں میں ٹرن آؤٹ پچیس سے تیس فیصد تک ریکارڈ کیا گیا۔ شہر کے نواحی علاقوں میں ٹرن آؤٹ کی صورتحال کچھ بہتر رہی کیونکہ وہاں صبح سے ہی بڑی تعداد میں پولنگ اسٹیشنوں پر لوگوں کی قطاریں نظر آنا شروع ہوگئی تھیں۔ بعض جگہوں پر ایسا بھی ہوا کہ پولنگ تاخیر سے شروع ہوئی لیکن ووٹروں نے اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے کے لیے پولنگ اسٹیشنوں کے باہر انتظار کیا۔ بیشتر پولنگ اسٹیشنوں پر پولنگ آدھے سے ایک گھنٹہ تاخیر سے شروع ہوئی۔ انتخابی عملے کا کہنا تھا کہ اس کے ذمہ دار پولنگ ایجنٹس ہیں جو تاخیر سے پہنچے۔ بعض پولنگ اسٹیشنوں پر پولنگ ایجنٹوں کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ تو وقت پر پہنچ گئے تھے لیکن پولنگ سٹاف نے اپنی تیاریاں مکمل نہیں کی ہوئی تھیں۔
اس کے علاوہ بعض جگہوں پر پولنگ ایجنٹوں نے یہ بھی شکایت کی کہ ایک ہی عمارت میں پانچ پانچ پولنگ سٹیشنز بنائے گئے جس سے ووٹروں کو اپنا پولنگ بوتھ ڈھونڈنے میں پریشانی کا سامنا کرنا پڑا اور کئی ووٹرز تھک ہار کر ووٹ ڈالے بغیر واپس چلے گئے۔ ایک اور دلچسپ بات جو کراچی کے انتخابات میں بالکل نئی تھی وہ کلفٹن، ڈیفنس اور باتھ آئی لینڈ جیسے پوش علاقوں میں رہائش پذیر لوگوں کا بڑی تعداد میں ووٹ ڈالنے کے لیے گھروں سے باہر نکلنا تھا۔ پچھلے انتخابات میں ان علاقوں میں سیاسی جماعتوں کی کنوینسنگ کے باوجود لوگ بہت کم تعداد میں ووٹ دینے کے لئے باہر نکلتے تھے لیکن ان علاقوں میں قائم پولنگ اسٹیشنوں پر ووٹروں کا غیرمعمولی رش دیکھا گیا۔ ان میں کئی نوجوان لڑکے لڑکیاں ایسے بھی تھے جو پہلی بار ووٹ ڈالنے آئے تھے۔ اس کے علاوہ اس مرتبہ کراچی میں انتخابات میں ایک نیا اور صحت مند رجحان بھی دیکھنے میں آیا کہ پولنگ سٹیشنوں سے فاصلے پر مختلف روایتی حریف جماعتوں نے جو کیمپس لگا رکھے تھے وہ یا تو ایک دوسرے سے متصل تھے یا پھر قریب قریب تھے اور دوسرا ان کیمپوں میں ایک دوسرے کے لیے غصے اور کشیدگی کی فضا نظر نہیں آرہی تھی۔ |
اسی بارے میں ’غلطی سے پولنگ سٹیشن تبدیل‘17 February, 2008 | الیکشن 2008 تھرپارکر کے ارباب 08 June, 2004 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||