آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
دریائے گنگا پر ’افطار پارٹی‘: انڈیا میں 14 مسلمان گرفتار جن پر ’چکن بریانی‘ کھانے کا الزام ہے
- مصنف, شکیل اختر
- عہدہ, بی بی سی اردو، دلی
- مطالعے کا وقت: 5 منٹ
انڈیا کی ریاست اتر پردیش میں ہندوؤں کے مقدس شہر وارانسی (بنارس) میں دریائے گنگا پر ایک کشتی میں افطار کے دوران گوشت کھانے کے الزام میں 14 مسلمانوں کو گرفتار کر کے جیل بھیج دیا گیا ہے۔
یہ گرفتاری حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی نوجوان شاخ کے لیڈر رجت جیسوال کی جانب سے پولیس میں شکایت درج کرانے کے بعد عمل میں آئی ہے۔
کشتی پر سوار مسلم نوجوانوں نے افطار پارٹی کی ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر پوسٹ کی تھی۔
رجت جیسوال نے اپنی شکایت میں الزام لگایا ہے کہ کشتی پر سوار مسلم نوجوانوں نے گوشت کھایا اور اس کی ہڈیاں دریا میں پھینک کر گنگا کے تقدس کو پامال کیا۔
انھوں نے کہا کہ ’ہر روز لاکھوں ہندو عقیدت مند یہاں آتے ہیں اور گنگا کا پانی پیتے ہیں اور گنگا سے اپنی عقیدت کا اظہار کرتے ہیں۔‘
ان کا کہنا ہے کہ ’جس طرح مسلم نوجوانوں نے گنگا میں افطار پارٹی کے نام پر گوشت کھایا ہے وہ ہم ہندوؤں کو قطعی برداشت نہیں ہے۔ ہم اس کی سختی سے مخالفت کرتے ہیں۔ ہم نے افطار کی ویڈیو پولیس کو دی ہے۔ اس میں صاف دکھائی دیتا ہے کہ وہ نان ویج کھا رہے ہیں اور انھوں نے گنگا کے اُس پار جا کر ہڈیاں پھینکی ہیں۔
’اس طرح کی چیزیں ہندو برداشت نہیں کریں گے۔ ہم کاشی (بنارس) پر ایسا کوئی دھبہ نہیں لگنے دیں گے جس سے ہمارے دھرم کا سر نیچا ہو۔‘
یہ واقعہ 16 مارچ کی شام کا ہے۔ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں گنگا میں ایک کشتی پر کئی مسلم نوجوان افطار کرتے ہوئے دکھائے گئے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بنارس کے اسسٹنٹ پولیس کمشنر وجے پرتاپ سنگھ نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ اس ویڈیو سے پتا چلتا ہے کہ ان لوگوں نے افطار میں چکن بریانی کھائی تھی۔ ’ہم نے ویڈیو کی بنیاد پر کشتی پر سوار مسلم نوجوانوں کی شناخت کر لی اور ان کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے بعد اب تک 14 لوگوں کو گرفتار کر لیا ہے۔ ابھی کئی اور لوگوں کو تلاش کیا جا رہا ہے۔‘
ان کے خلاف مذہبی جذبات کو مجروح کرنے، مذہبی تفرقہ پیدا کرنے، مذہبی مقامات میں خلل ڈالنے اور آبی آلودگی پھیلانے جیسے معاملات درج کیے گئے ہیں۔ پولیس نے کشتی کے مالک کے خلاف بھی مقدمہ درج کیا ہے۔
اس دوران شہر کی انجمن انتظامیہ مساجد کے جوائنٹ سکریٹری ایس ایم یاسین نے ایک بیان میں اس واقعے کی سخت مذمت کی ہے۔
انھوں نے کہا کہ افطار ایک خالص مذہبی عمل ہے اور کوئی ’سیر یا پکنک نہیں‘ جبکہ افطار کے فوراً بعد مغرب کی نماز ضروری ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ’اس حرکت کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’یہ خبر بہت تکلیف دہ ہے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ مسلمانوں کو تنگ کرنے کے لیے یہ ایف آئی آر درج کرائی گئی ہے۔ لیکن ان جیسے جاہل لوگوں کی وجہ سے ہی بی جے پی اور ان کے کارکنوں کو موقع ملتا ہے اور وہ انھیں مل گیا ہے۔‘
بنارس شہر شمالی انڈیا میں ہندوؤں کے مقدس ترین مقامات میں شمار ہوتا ہے۔ اسے بھگوان شیو کا مسکن تصور کیا جاتا ہے۔ گنگا ندی کو ہندو ماں مانتے ہیں اور اسے ہندو مذہب میں بہت اہم مقام حاصل ہے۔ دریائے گنگا میں اسنان (نہانے) اور پوجا پاٹھ کے لیے ہر برس لاکھوں ہندو بنارس آتے ہیں۔ ہندوؤں کا عقیدہ ہے کہ مرنے کے بعد جسد خاکی کی راکھ کو گنگا میں بہانے سے مرنے والے کو ثواب ملتا ہے اور اس کی آتما تمام عذابوں سے نجات پا جاتی ہے۔
بنارس میں گنگا کے کنارے عقیدت مندوں کے غسل اور عبادت وغیرہ کے لیے بڑے گھاٹ بنائے گئے ہیں۔ یہاں صبح سورج کے طلوع کے وقت پوجا کے لیے عقیدت مندوں کا ہجوم جمع ہوتا ہے۔
اسی طرح شام میں سورج کے غروب کے وقت ایک گھاٹ پر پجاریوں کی رہنمائی میں روزانہ قدیم ویدوں کے منتر کے ساتھ ہندو دیوی دیوتاؤں کے لیے دعائیہ آرتی کی جاتی ہے۔
اسے دیکھنے کے لیے دور دور سے لوگ آتے ہیں۔ گنگا کے کنارے اور گھاٹوں کے عقب میں چھوٹے بڑے سینکڑوں مندر بھی بنے ہوئے ہیں۔