آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو, امریکہ کا ایرانی میزائل سائٹس کو 5000 پاؤنڈ وزنی طاقتور بموں سے نشانہ بنانے کا دعویٰ، اسرائیل کے بیروت پر نئے فضائی حملے

امریکی فوج کا کہنا ہے کہ انھوں نے آبنائے ہرمز کے ساتھ واقع ایرانی میزائل سائٹس پر زیرِ زمین بنکرز کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھنے والے طاقتور بموں کے ذریعے نشانہ بنایا ہے۔ دوسری جانب لبنانی حکومت کے مطابق اب تقریباً دس لاکھ لوگ اس تنازع کے باعث بے گھر ہو چکے ہیں اور 800 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

خلاصہ

  • ایران نے سکیورٹی چیف علی لاریجانی اور بسیج ملیشیا کے کمانڈر غلام رضا سلیمانی کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے
  • ایرانی فوج کے سربراہ نے علی لاریجانی کی اسرائیلی فضائی حملے میں ہلاکت کے بعد امریکہ اور اسرائیل کو 'مناسب وقت پر فیصلہ کن' جوابی کارروائی کی دھمکی دی ہے
  • علی لاریجانی کی ہلاکت پر اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا ایرانی عوام کے لیے پیغام: 'جشن منائیں، ہم اوپر سے دیکھ رہے ہیں'
  • صدر ٹرمپ کی نیٹو ممالک پر کڑی تنقید: ' ہمیں نیٹو ممالک کی مدد کی ضرورت نہیں اور نہ ہی ہمیں اس کی خواہش ہے '
  • اقوامِ متحدہ کی میناب میں لڑکیوں کے سکول پر مبینہ امریکی حملے کی تحقیقات کے لیے رسائی کی کوششیں جاری

لائیو کوریج

  1. اسرائیل کا ایرانی وزیر برائے انٹیلیجنس اسماعیل خطیب کو ہلاک کرنے کا دعویٰ

    اسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے ایک حملہ میں ایرانی انٹیلیجنس کے وزیر اسماعیل خطیب ہلاک ہو گئے ہیں۔

    اسرائیل کاٹز کا ایک بیان میں کہنا تھا کہ ’گذشتہ رات ایران کے وزیرِ برائے انٹیلیجنس اسماعیل خطیب کا بھی خاتمہ کر دیا گیا تھا۔‘

    ایران نے تاحال اس اسرائیلی دعوے کی تصدیق یا تردید نہیں کی ہے۔

    سنہ 2021 میں ایران کے سابق صدر ابراہیم رئیسی نے اسماعیل خطیب کو وزیر برائے انٹیلیجنس مقرر کیا تھا۔

    انھوں نے متعدد سینیئر علما سے فقہ کی تعلیم حاصل کی تھی، جن میں آیت اللہ علی خامنہ ای بھی شامل تھے۔

    اسماعیل خطیب وزارتِ انٹیلیجنس اور رہبرِ اعلیٰ کے دفتر میں بھی متعدد اعلیٰ عہدوں پر کام کر چکے تھے۔

    امریکی محکمہ خزانہ نے سنہ 2022 میں ان پر ایران کی وزارتِ انٹیلی جنس کے سربراہ ہونے کی حیثیت سے ’امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف سائبر سرگرمیوں میں ملوث‘ ہونے کے الزام میں پابندیاں عائد کی تھیں۔

    کہا جاتا ہے کہ اسماعیل خطیب نے 1979 کے انقلاب کے بعد 1980 میں پاسدرانِ انقلاب میں شمولیت اختیار کی تھی۔

  2. بیروت: اسرائیلی حملے میں المنار ٹی وی کے ڈائریکٹر اپنی اہلیہ سمیت ہلاک

    حزب اللہ سے منسلک المنار ٹی وی کے ڈائریکٹر محمد شرعی اور ان کی اہلیہ بیروت میں ایک اسرائیلی حملے میں ہلاک ہو گئے ہیں۔

    چینل سے جاری بیان کے مطابق محمد سرعی ادارے کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں شامل تھے اور وہ اپنے گھر میں اپنی بیوی کے ہمراہ ہلاک ہوئے، جبکہ اس حملے میں ان کے بچوں سمیت کئی افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

    چینل کا کہنا ہے کہ محمد شرعی ادارے کے سب سے معروف میزبانوں میں سے ایک تھے۔

  3. امریکہ نے ایران میں کس بنکر بم کا استعمال کیا؟, کرس پارٹرج، تجزیہ کار

    امریکہ کی طرف سے پانچ ہزار پاؤنڈ (2270 کلوگرام) کے بَنکر بسٹر کا استعمال اس بات کا ثبوت ہے کہ واشنگٹن کا خیال ہے کہ ایران نے اپنے بہت سے ہتھیار زمین کی گہرائی میں چھپا رکھے ہیں۔

    امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے یہ واضح نہیں کیا کہ آبنائے ہرمز کے قریب ایرانی ساحلی پٹی پر میزائل مراکز پر کون سے بم استعمال کیے گئے ہیں۔

    تاہم بنکر بسٹر بموں کی دو اقسام زیادہ مشہور ہیں: جی بی یو 28 لیزر گائیڈڈ بم یا پھر جی بی یو 72 ایڈوانسڈ 5-کے پینیٹریٹر۔ قوی امکان کا کہ امریکہ نے ایران میں جی بی یو 72 کا استعمال کیا ہو۔

    سنہ 2021 میں میں پہلی بار آزمایا جانے والا یہ بم ایک درست نشانہ لگانے والا ہتھیار ہے، جو سیٹلائٹس اور اینرشیل نیویگیشن سسٹم کی مدد سے اپنے ہدف تک پہنچتا ہے۔

    اس کی آزمائش کے وقت امریکی فضائیہ کا کہنا تھا کہ جی بی یو 72 کو ’گہرائی میں موجود سخت اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے تیار کیا گیا ہے، اسے لڑاکا اور بمبار طیاروں دونوں میں نصب کیا جا سکتا ہے۔‘

    حجم میں بڑے ہونے کے باوجود جی بی یو 72 کو ایف 15 ای سٹرائیک ایگل طیارے میں بھی نصب کیا جا سکتا ہے، جس کے سبب عسکری منصوبہ سازوں کو بی ون یا دیگر بمبار طیاروں پر انحصار نہیں کرنا پڑتا۔

    امریکہ اور اسرائیل دونوں نے ایران کے میزائل اور ڈرون انفراسٹرکچر پر حملے کیے ہیں، لیکن ایران کے ہتھیار اب بھی ایک بڑا خطرہ ہیں۔

    گذشتہ روز پاسدارانِ انقلاب نے کہا تھا کہ اس نے تل ابیب کو خرمشہر فور اور قدر میزائلوں سے نشانہ بنایا ہے۔

  4. ایران میں اسرائیل کے لیے جاسوسی کرنے کے الزام میں ایک شخص کو سزائے موت, غنچے حبیبی آزاد، بی بی سی فارسی

    ایرانی میڈیا پر نشر ہونے والی اطلاعات کے مطابق ملک میں آج ایک ’اسرائیلی جاسوس‘ کو سزائے موت دی گئی ہے۔

    پاسدارانِ انقلاب سے منسلک خبر ایجنسی تسنیم کے مطابق قریش کیوانی نامی شخص کو گذشتہ برس جون میں اسرائیل اور ایران جنگ کے دوران اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کو ’حساس مقامات‘ سے متعلق معلومات اور تصاویر فراہم کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی ایجنسی نے سنہ 2023 میں پہلی مرتبہ قریش سے رابطہ کیا تھا جب انھوں نے سویڈن میں انٹرنیٹ پر ایک اشتہار پر کلک کیا تھا۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بعد میں انھیں موساد کے ایک افسر نے بھرتی کیا اور چھ یورپی ممالک اور تل ابیب میں دو سال کی تربیت کے بعد انھیں ایران میں کارروائیاں انجام دینے کے لیے بھیجا گیا تھا۔

  5. گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ایرانی حملوں میں 192 افراد زخمی: اسرائیلی وزارتِ صحت

    اسرائیل کی وزارتِ صحت کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ایران کی جانب سے ہونے والے حملوں میں 192 افراد زخمی ہوئے اور انھیں ہسپتال منتقل کیا گیا۔

    وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ زخمیوں میں سے چار کی حالت ’درمیانی نوعیت‘ کی ہے، جبکہ 177 افراد کو ’معمولی زخم آئے ہیں جن کا اعلاج جاری ہے۔ تاہم باقی 11 افراد کی حالت کے بارے میں وضاحت سے کُھ نہیں بتایا گیا ہے۔

    وزارت کی جانب سے جاری بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ تنازع کے آغاز سے اب تک 3727 افراد کو زخمی ہونے کے بعد ہسپتال داخل کیا جا چکا ہے۔

  6. اسرائیلی دفاعی افواج کا جنوبی لبنان کو دوبارہ خالی کرنے کے حکم

    اسرائیلی دفاعی افواج نے جنوبی لبنان کے ان رہائشیوں کے لیے ایک اور انخلا کا حکم جاری کیا ہے جو زہرانی دریا کے جنوب میں رہتے ہیں اور یہ وہ علاقہ ہے کہ جو سرحد سے تقریباً 40 کلومیٹر دور ہے۔

    ایکس پر ایک بیان میں آئی ڈی ایف کے ترجمان آویخائی ادرعی نے کہا کہ ’حزب اللہ کی پر تشدد سرگرمیاں ہمیں اس علاقے میں ان کے خلاف بھرپور کارروائی کرنے پر مجبور کر رہی ہیں اور ہمارا آپ کو نقصان پہنچانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔۔۔‘

    "بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’آپ کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ہم آپ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ فوری طور پر زہرانی دریا کے شمالی علاقے کی طرف منتقل ہو جائیں۔ زہرانی دریا کے جنوب میں رہنا آپ اور آپ کے خاندان کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔‘

    یہ بیان لبنان میں رات بھر اور آج صبح ہونے والے اسرائیلی حملوں کے سلسلے کے بعد سامنے آیا ہے۔

  7. کویت، قطر اور بحرین کا میزائل و ڈرون حملوں کو ناکام بنانے کا دعویٰ

    خلیج کے دیگر ممالک میں بھی صورتحال کشیدہ رہی۔ کویت انتظامیہ کے مطابق اس کے فضائی دفاعی نظام نے بدھ کی شب میزائل اور ڈرون حملوں کو روکنے کے لیے کارروائی کی۔

    اسی دوران بحرین میں حکام کی جانب سے سائرن بجنے کی اطلاعات سامنے آئیں اور شہریوں کو فوری طور پر محفوظ مقامات پر پناہ لینے کی ہدایت جاری کی گئی۔

    قطر کی وزارتِ دفاع کے مطابق، بدھ کی صبح اس کے فضائی دفاعی نظام نے قطر کی سرزمین کو نشانہ بنانے والے ایک میزائل حملے کو بھی ناکام بنایا۔

  8. سعودی عرب کا ڈرون ناکارہ بنانے کا دعویٰ

    سعودی عرب کی وزارتِ دفاع نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس نے ایک ڈرون کو مار گرایا ہے جو اس کے سفارت خانوں کے لیے مختص علاقے کی جانب جا رہا تھا۔

    اسی دوران، آج صبح دبئی اور عراق کے شہر بغداد میں دھماکوں کی بھی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں، کیونکہ ایران خلیجی ممالک پر اپنے حملوں کو دوبارہ شروع کر رہا ہے۔

    دبئی میں بی بی سی کی نامہ نگار آزادہ موشیری کہ کہنا ہے کہ بدھ کے روز مقامی وقت کے مطابق صبح 10 بج کر 10 منٹ پر ہماری ٹیم کے فونز پر اُس وقت ایک اور الرٹ آیا، جس میں آنے والے میزائل کے خطرات کی اطلاع دی گئی کہ جب ہم بالکونی پر ٹی وی کے لیے لائیو جانے کے لیے تیاری کر رہے تھے۔

    اس الرٹ کے تقریباً 10 سیکنڈ بعد ہی ہم نے دو شدید نوعیت کے دھماکوں کی آوازیں سنی۔

    دبئی معمول سے کافی حد تک خالی دکھائی دے رہا تھا مگر جب ہم شہر کی جانب نظر ڈالی تو دیکھا کہ تعمیراتی کاموں میں مصروف مزدور اپنا کام جاری رکھے ہوئے تھے اور گاڑیاں بھی سڑکوں پر رواں دواں ہیں۔

    یہ فون الرٹس اور دھماکوں کی آوازیں اب ان رہائشیوں کے لیے معمول بن چکی ہیں، جو یہاں اس ساری صورت حال کے باوجود موجود ہیں۔

    متحدہ عرب امارات نے جنگ کے آغاز سے اب تک 2000 سے زائد میزائل اور ڈرونز کا سامنا کیا ہے۔

    یو اے ای کی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ انھوں نے ان میں سے زیادہ تر حملوں کو ناکام بنایا اور یہ آوازیں دراصل ان کے فضائی دفاعی نظام کی ہیں جو ملک کی حفاظت کر رہا ہے۔

    لیکن جس چیز کی حفاظت کرنا زیادہ مشکل ہے وہ دبئی کا یہاں آنے والوں کو ایک محفوظ ماحول فراہم کرنے کا وعدہ ہے۔

    دبئی کے میڈیا آفس کے مطابق حکام کا کہنا ہے کہ انھوں نے حالیہ حملوں کو ناکام بنایا اور کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی ہے۔

  9. کسی فرد کی موجودگی یا غیر موجودگی سے ایران کے سیاسی ڈھانچے پر اثر نہیں ہوگا: عراقچی کا لاریجانی کی ہلاکت پر ردِعمل

    ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے ایران کے سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی کی ہلاکت پر ردِعمل میں کہا کہ ’اسلامی جمہوریہ ایران کا ایک مضبوط سیاسی ڈھانچہ ہے اور کسی فرد کی موجودگی یا غیر موجودگی اس کے ڈھانچے پر اثر نہیں ہوتی۔‘

    عراقچی نے خبر رساں ادارے الجزیرہ کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ ’ہمارے پاس (رہبرِ اعلیٰ) سے زیادہ اہم رہنما کوئی نہیں تھا اور جب اُنھیں ہلاک کر دیا گیا تب بھی نظام نے اپنا کام جاری رکھا اور فوراً ان کی جگہ ایک متبادل مقرر کر دیا گیا، اگر کوئی اور فرد بھی ہلاک ہو جائے تو یہی سلسلہ دہرایا جائے گا۔‘

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’اگر وزیرِ خارجہ (یعنی انھیں بھی) کو بھی کسی دن نشانہ بنایا جائے اور وہ ہلاک ہو جائیں تو ایسے میں بھی اُن کی جگہ کسی کو لینی ہوگی۔‘

    انھوں نے خلیج فارس کے جنوبی ممالک پر ایران کے حملوں کے بارے میں کہا کہ ’ہم نے خود کو صرف دشمنوں کے سرکاری اڈوں تک محدود نہیں رکھا، جہاں بھی امریکی افواج کی موجودگی تھی، جہاں بھی ان کے ادارے موجود تھے، وہ نشانہ بنائے گئے۔ ان میں سے بعض مقامات شہری علاقوں کے قریب ہو سکتے ہیں لیکن یہ ہماری غلطی نہیں یہ غلطی امریکہ کی ہے۔‘

  10. ایران کے نظریاتی اور سکیورٹی ڈھانچے کے معمار علی لاریجانی کی موت کیا معنی رکھتی ہے؟

    اسرائیلی فضائی حملے میں علی لاریجانی کی ہلاکت نے اسلامی جمہوریہ ایران کے سب سے تجربہ کار اور بااثر پالیسی سازوں میں سے ایک اہم شخصیت کو ایک انتہائی نازک وقت پر منظرنامے سے ہٹا دیا ہے۔

    لاریجانی فوجی کمانڈر نہیں تھے، لیکن ایران کی سٹریٹجک پالیسی سازی میں ان کا کردار مرکزی حیثیت رکھتا تھا۔ سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل میں بطور سیکریٹری وہ جنگ، سفارتکاری اور قومی سلامتی کے اہم فیصلوں کے کلیدی حیثیت کے حامل تھے۔

    ان کی آواز پورے نظام میں وزن رکھتی تھی، خاص طور پر جب بات امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ ایران کی کشیدگی سے متعلق ہو۔ 28 فروری کو سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد لاریجانی نے سخت لب و لہجہ اختیار کیا اور واضح کیا کہ ایران طویل جنگ کے لیے تیار ہے۔

    ایران کے ریاستی میڈیا نے لاریجانی کی موت کی تصدیق کر دی ہے، یہ تصدیق ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب چند دنوں کے اندر اندر امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے کئی اعلیٰ ایرانی حکام اور کمانڈرز کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

  11. بی بی سی کے بیروت میں نامہ نگار نے اسرائیلی بمباری کے بعد کیا دیکھا؟, لبنان میں موجود بی بی سی نیوز کے وائر ڈیوس کا تجزیہ

    یہ لبنان کے دارالحکومت بیروت کے مرکزی علاقے میں حالیہ اسرائیلی فضائی حملے کے بعد کا منظر ہے۔

    ہم صبح تقریباً پانچ بجے دھماکے کی آواز سن کر چونک کر جاگے۔ یہ جنوبی بیروت کا وہ علاقہ نہیں ہے جسے حزب اللہ کا گڑھ کہا جاتا ہے، یہ شہر کا مرکز ہے جہاں کاروباری مراکز اور ہوٹل ہیں اور ہم جس جگہ ٹھہرے ہوئے ہیں وہاں سے کُچھ ہی فاصلے پر یہ وہ مقام ہے کہ جسے آج صبح اسرائیلی فوج کی جانب سے نشانہ بنایا گیا ہے۔

    میرے عقب میں موجود عمارت اب ملبے کے ڈھیر میں بدل چکی ہے۔ اسے حالیہ دنوں میں کئی بار نشانہ بنایا جا چُکا ہے، لیکن آج صبح کے حملے میں یہ مکمل طور پر تباہ ہو گئی ہے۔

    اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ نہ صرف حزب اللہ کے جنگجوؤں اور رہنماؤں کو نشانہ بنا رہا ہے بلکہ ایسے کاروباری مراکز کو بھی جو اس گروہ سے منسلک ہیں اور اس کی فوجی کارروائیوں میں مالی معاونت فراہم کرتے ہیں۔

    رات بھر ملک کے جنوب میں خاص طور پر شہر صور کے قریب شدید فضائی حملے بھی ہوئے، جس کی وجہ سے ہزاروں لوگ نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔

    لبنانی حکومت کے مطابق اب تقریباً دس لاکھ لوگ اس تنازع کے باعث بے گھر ہو چکے ہیں اور 800 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

  12. امریکہ کا آبنائے ہرمز کے قریب ایرانی میزائل سائٹس کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

    امریکی فوج کا کہنا ہے کہ انھوں نے آبنائے ہرمز کے ساتھ واقع ایرانی میزائل سائٹس پر زیرِ زمین بنکرز کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھنے والے طاقتور بموں کے ذریعے نشانہ بنایا ہے۔

    ایکس پر جاری بیان میں امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا کہ امریکی افواج نے ایران کے ساحلی علاقوں میں واقع مضبوط میزائل سائٹس پر ’کامیابی کے ساتھ متعدد 5000 پاؤنڈ وزنی زیرِ زمین اپنے اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھنے والے بموں کا استعمال کیا ہے۔

    امریکی فوج کے مطابق ان مقامات پر موجود ایرانی اینٹی شپ کروز میزائل آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی بحری آمدورفت کے لیے خطرہ بن رہے تھے۔

    ایران کی جانب سے اس آبی گزرگاہ کی بندش کی وجہ سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل متاثر ہوئی جس کی وجہ سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے ہوا ہے۔

    امریکہ کے یہ بڑے بم جنھیں ’بنکر بسٹرز‘ کہا جاتا ہے اُن بموں سے طاقت میں کم ہیں کہ جو اُس نے گزشتہ سال ایران میں تین زیرِ زمین جوہری تنصیبات پر حملے کے دوران استعمال کیے تھے۔

    آبنائے ہرمز کیوں اہم ہے؟

    آبنائے ہرمز ایک اہم سمندری تجارتی راستہ ہے جس کے ذریعے دنیا کا تقریباً 20 فیصد تیل پہنچایا جاتا ہے۔

    تنازع شروع ہونے کے بعد سے خطے میں کئی بحری جہازوں پر حملوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں اور ایران کے نئے رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای نے گذشتہ ہفتے کہا کہ ایران کو آبنائے ہرمز کو بند کرنے کے لیے اپنے ہتھیاروں کا استعمال جاری رکھنا چاہیے۔

    یو ایس انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن (ای آئی اے) کے اندازوں کے مطابق ہر ماہ تقریباً 3000 بحری جہاز اس راستے سے گزرتے ہیں۔

    2025 میں اس راستے سے روزانہ تقریباً 20 ملین بیرل تیل گزرا۔ یہ سالانہ توانائی کی تجارت میں تقریباً 600 بلین ڈالر کے برابر ہے۔

    یہ تیل صرف ایران سے ہی نہیں آتا بلکہ دوسرے خلیجی ممالک جیسے عراق، کویت، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے بھی آتا ہے۔

    بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے تخمینے کے مطابق 2022 میں آبنائے ہرمز سے بہنے والے تقریباً 82 فیصد خام تیل اور مائع ہائیڈرو کاربن ایشیائی ممالک کی طرف روانہ ہوئے۔

    آبنائے ہرمز دنیا کے سب سے بڑے خام تیل کے ٹینکروں کے لیے کافی گہرا ہے اور اسے مشرق وسطیٰ میں تیل اور گیس کے بڑے پروڈیوسرز اور ان کے صارفین استعمال کرتے ہیں۔

    اقوام متحدہ کے قوانین کے مطابق ممالک کو اپنے ساحلی خطوں سے 12 ناٹیکل میل (13.8 میل) تک سمندری حدود کو کنٹرول کرنے کا حق حاصل ہے۔

    اس کے تنگ ترین مقام پر، آبنائے ہرمز اور اس کی بحری گزرگاہیں مکمل طور پر ایران اور عمان کے علاقائی پانیوں میں واقع ہیں۔

  13. انخلا کے احکامات کے بعد بیروت میں اسرائیلی فوج کی بمباری، چھ افراد ہلاک

    لبنان کے دارالحکومت بیروت کے ایک اور مرکزی مضافاتی علاقے میں اسرائیلی فضائی حملے کی مزید اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔

    ایک عینی شاہد نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ انھوں نے شہر کے بشورہ علاقے میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنیں یہ اس وقت ہوا جب اسرائیلی فوج نے ایک بیان جاری کر کے وہاں ایک عمارت کو خالی کرنے کی ہدایت دی تھی۔

    اسرائیل لبنان کے دارالحکومت بیروت میں حزب اللہ کے اہداف پر حملے کر رہا ہے، جہاں وزارتِ صحت کے مطابق کم از کم چھ افراد ہلاک اور 24 دیگر زخمی ہوئے ہیں۔

    بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ اعداد و شمار ابتدائی ہیں اور متاثرین کی شناخت ’ڈی این اے ٹیسٹنگ کے بعد‘ کی جائے گی۔

    مقامی میڈیا نے پہلے رپورٹ کیا تھا کہ ایک حملہ مرکزی علاقے زقاق البلاط میں ایک رہائشی عمارت پر ہوا، جو سرکاری ہیڈکوارٹر اور متعدد سفارت خانوں کے قریب واقع ہے۔

    اے ایف پی کے مطابق ایک دوسرا حملہ بھی مرکزی بسطہ ضلع میں ہوا، جہاں عینی شاہدین نے کئی دھماکوں کی آوازیں سنیں۔

    واضح رہے کہ لبنان چند ہفتے قبل اس تنازع میں اس وقت شامل ہوا جب حزب اللہ، جو ایک لبنانی شیعہ مسلم سیاسی و عسکری گروہ ہے، نے ایران کے رہبرِ اعلیٰ کی ہلاکت اور اسرائیل کے بار بار حملوں کے ردِعمل میں اسرائیل پر راکٹ اور ڈرون حملے شروع کیے تھے۔

  14. اسرائیل میں تازہ ایرانی میزائل حملے کے بعد کی صورتحال

    اسرائیل، تل ابیب پر ایرانی میزائل حملے کے بعد دو افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

    ایرانی میزائل حملے کے بعد تل ابیب سے موصول ہونے والی چند تصاویر

  15. امریکہ اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ میں آج اب تک کیا ہوا ہے؟

    امریکہ اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ میں گذشتہ شب سے اب تک کیا ہوا ہے:

    • ایرانی سرکاری میڈیا نے سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی کی ایک فضائی حملے میں ہلاک تصدیق کی۔ لاریجانی، رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای کے بعد ہلاک ہونے والے سب سے اعلیٰ ایرانی عہدیدار ہیں۔
    • ایران کے آرمی چیف نے لاریجانی کی ہلاکت کا بدلہ لینے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے ’فیصلہ کن جواب‘ دینے کی دھمکی دی ہے۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایران کی پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ اس نے لاریجانی کی موت کے ’بدلے‘ میں پہلے ہی وسطی اسرائیل پر میزائل داغ دیے ہیں۔
    • اسرائیل میں، تل ابیب پر ایرانی میزائل حملے کے بعد دو افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
    • اسرائیلی فوج لبنان بھر میں حزب اللہ کے اہداف پر حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق لبنان کی وزارتِ صحت کے مطابق، وسطی بیروت پر اسرائیل کے دو حملوں میں کم از کم چھ افراد ہلاک اور 24 دیگر زخمی ہو گئے ہیں۔
    • اقوامِ متحدہ کی ایک ایجنسی کا کہنا ہے کہ ایرانی جوہری بجلی گھر کو بھی اس جانگ کے دوران حالیہ حملوں میں نشانہ بنایا گیا ہے، تاہم کوئی نقصان نہیں ہوا۔
    • امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز کے قریب ایرانی میزائل تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔
    • ڈونلڈ ٹرمپ نے نیٹو اور دیگر اتحادیوں پر تنقید کی ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ کو ایران کی جنگ میں اب ان کی مدد کی ’نہ ضرورت ہے اور نہ خواہش،‘ تاہم اس سے قبل انھوں نے ان سے تعاون کی درخواست کی تھی۔
  16. ایرانی پروجیکٹائل سے آسٹریلیا کے فوجی اڈے کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی ہے: آسٹریلوی وزیرِ اعظم

    آسٹریلیا کے وزیرِ اعظم کی جانب سے اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ ایک ایران کی جانب سے داغے جانہ والا ایک میزائل متحدہ عرب امارات میں آسٹریلیا کے فوجی اڈے کے قریب گرا ہے۔

    وزیرِ اعظم انتھونی البانیزی نے کہا کہ یہ میزال ’آج یعنی بدھ کی صبح نو بج کر 15 منٹ پر متحدہ عرب امارات میں واقع المِنہاد اڈے پر گرا جہاں آسٹریلیا کی کی فوج موجود ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’میں اس بات کی تصدیق کرتا ہوں کہ کوئی بھی آسٹریلوی اہلکار زخمی نہیں ہوا اور سب مکمل طور پر محفوظ ہیں۔‘

    انھوں نے یہ بھی بتایا کہ ’رہائشی بلاک اور طبی سہولت کے مرکز کو معمولی نوعیت کی آگ لگنے سے نقصان پہنچا ہے، یہ آگ اس وقت لگی جب یہ میزائل اڈے کی طرف جانے والی سڑک پر آ کر گرا۔‘

  17. بسیج کے کمانڈر غلام رضا سلیمانی کون تھے؟

    منگل کی شب پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے اس بات کی تصدیق کی گئی کہ بسیج کے کمانڈر غلام رضا سلیمانی ایک اسرائیلی حملے میں ہلاک ہوئے۔

    غلام رضا سلیمانی پاسدارانِ انقلاب کے اعلیٰ عہدیداروں میں شمار ہوتے تھے۔ متعدد فوجی کمانڈروں کی ہلاکت کے بعد جن میں ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے پہلے دن کمانڈر اِن چیف کی ہلاکت بھی شامل ہے سلیمانی کی موت جنگ کی اہم خبروں میں سے ایک ہے۔

    بسیج جو تنظیمی طور پر پاسدارانِ انقلاب کے ماتحت ہے ایران کی حکومتی سکیورٹی قوتوں میں سے ایک ہے اور داخلی مسائل کے انتظام، نیز احتجاج کو دبانے اور کنٹرول کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

    غلام رضا سلیمانی کون تھے؟

    سپاہ نیوز کی ویب سائٹ نے ان کی بسیج کے کمانڈر کے طور پر تقرری کے وقت ان کے پس منظر پر ایک رپورٹ شائع کی تھی۔

    اس رپورٹ کے مطابق، وہ سن 1964 میں صوبہ چهارمحال و بختیاری کے شہر فارسان میں پیدا ہوئے۔

    اپنی تقرری کے وقت وہ تاریخ میں پی ایچ ڈی کے طالب علم تھے اور ان کا مقالہ ’دورِ اسلام میں ایران کی تاریخ‘ کے موضوع پر تھا، جبکہ انھوں نے کمانڈ اور سٹاف کے کورسز بھی مکمل کیے تھے۔

    غلام رضا سلیمانی سن 1988 میں بسیج میں شامل ہوئے اور ایران عراق جنگ کے دوران درجنوں آپریشنز میں حصہ لیا، جن میں فتح المبین، بیت المقدس، رمضان، محرم اور خیبر شامل ہیں، جہاں انھوں نے بسیج کے کمپنی کمانڈر اور بٹالین کمانڈر کے طور پر خدمات انجام دیں۔

    انھوں نے فوجی درجہ بندی میں ترقی کی اور 44 قمر بنی ہاشم بریگیڈ، 57 ابوالفضل بریگیڈ کے کمانڈر رہے اور بیک وقت لرستان ریجن کے کمانڈر بھی رہے۔ اس کے علاوہ وہ 19 فجر ڈویژن، قرارگاہ قدس، 41 ثارالله ڈویژن اور 41 امام حسین ڈویژن کے بھی کمانڈر رہے۔

  18. ایرانی فوج کے سربراہ کی علی لاریجانی کے قتل پر ’فیصلہ کُن‘ جوابی کارروائی کی دھمکی

    ایرانی فوج کے سربراہ امیر حاتمی نے سکیورٹی چیف علی لاریجانی کی اسرائیلی فضائی حملے میں ہلاکت کے بعد ’فیصلہ کن‘ جوابی کارروائی کی دھمکی دی ہے۔

    حاتمی نے ایک بیان میں کہا کہ ’مناسب وقت اور جگہ پر امریکہ اور خونخوار صیہونی حکومت کو ایک فیصلہ کن اور انتہائی شدید جواب دیا جائے گا۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ لاریجانی اور دیگر ’شہدا‘ کی موت کا بدلہ ہر قیمت پر لیا جائے گا۔

    خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے کہا ہے کہ وہ لاریجانی کی موت کے ’بدلے‘ میں مرکزی اسرائیل پر پہلے ہی میزائل داغ چکی ہے۔

  19. ایک پروجیکٹائل نے ایرانی جوہری بجلی گھر کو نشانہ بنایا ہے: اقوامِ متحدہ

    بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کا کہنا ہے کہ ایران نے اطلاع دی ہے کہ ملک کے جنوب مغرب میں ایک جوہری بجلی گھر کو ایک پروجیکٹائل سے نشانہ بنایا گیا ہے۔

    ایک بیان میں آئی اے ای اے جو جوہری ٹیکنالوجیز کی نگرانی کرنے والا اقوامِ متحدہ کا ادارہ ہے نے کہا کہ ایران نے منگل کی شام بوشہر جوہری بجلی گھر میں پیش آنے والے واقعے کی اطلاع دی۔

    بیان میں کہا گیا کہ ’بجلی گھر کو کوئی نقصان نہیں پہنچا اور نہ ہی عملے کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔‘

    بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی نے تنازع کے دوران زیادہ سے زیادہ تحمل کی اپیل دہرائی ہے تاکہ جوہری ہتھیاروں کے خطرے سے بچا جا سکے۔

  20. بغداد میں امریکی سفارتخانے پر تازہ حملہ

    خبر رساں اداروں کی جانب سے عراقی دارالحکومت میں امریکی سفارت خانے کے کمپاؤنڈ پر نئے حملوں کی اطلاعات سامنے آرہی ہیں۔

    خبر رساں اداروں اے ایف پی اور رائٹرز نے بدھ کی صبح دھماکوں کے حوالے سے خرب دی ہے۔

    اداروں نے سکیورٹی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اے ایف پی کے صحافیوں نے شہر میں سفارت خانے کے قریب دھماکوں کی آوازیں سنیں۔ یہ علاقہ سخت سکیورٹی والے گرین زون میں واقع ہے، جہاں کئی سفارتی مشنز اور بین الاقوامی تنظیمیں موجود ہیں۔