آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
’پراسرار حقیقت‘: سائنسدانوں کے نزدیک کائنات کے خاتمے کے تین ممکنہ طریقے کیا ہو سکتے ہیں؟
- مصنف, اندرے بیئرنیتھ
- عہدہ, بی بی سی برازیل
- مطالعے کا وقت: 7 منٹ
ایک تاریک، سرد اور تنہائی میں آنے والی کسی حد تک بے رنگ موت۔۔۔
ایک شدید تر اور پرتشدد انجام۔۔۔
یا شاید ایک ایسا اختتام جس کے بعد ایک نئی شروعات ہو۔۔۔
یہ وہ نمایاں نظریات ہیں جو سائنسدانوں کے مطابق ہماری کائنات (اگر مستقبل بعید میں یہ کبھی ختم ہوئی تو) کے ممکنہ انجام کی تصویر پیش کرتے ہیں۔
ہماری کائنات کی تقدیر کیا ہو گئی؟ یہ سائنس کو درپیش سب سے پراسرار اور مشکل ترین سوالات میں سے ایک ہے۔ ماہرین خود اعتراف کرتے ہیں کہ اس موضوع پر سوالات زیادہ ہیں اور جوابات انتہائی کم۔
لیکن یہ سمجھنے کے لیے کہ ہماری کائنات کس طرح ختم ہو سکتی ہے، پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ اس کا آغاز کیسے ہوا تھا۔
کائنات ایک پراسرار حقیقت
کائنات سب کچھ ہے۔ ناسا کے مطابق ہماری کائنات میں خلا، مادہ (یعنی ہر وہ چیز جو جگہ گھیرتی ہے اور جس کا وزن ہوتا ہے)، توانائی اور حتیٰ کہ ٹائم یعنی وقت بھی شامل ہے۔
مگر یہ کیسے وجود میں آئی، اس بارے میں ماہرینِ فلکیات نے ایک نظریہ پیش کیا ہے جسے ’بِگ بینگ تھیوری‘ کہا جاتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس تھیوری کے مطابق تقریباً 13.8 ارب سال پہلے کائنات ایک نہایت گرم اور کثیف حالت میں تھی اور یہ تب سے مسلسل پھیل رہی ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ پھیلاؤ جاری رہا اور بالآخر کہکشائیں، ستارے اور سیارے وجود میں آئے۔ اور کائنات کے پھیلاؤ کا سلسلہ آج بھی بدستور جاری ہے۔
لیکن بنیادی طور پر ہم کائنات کے اصل کے بارے میں بہت کم جانتے ہیں۔
برازیل کی فیڈرل یونیورسٹی آف سانتا کاتارینا سے منسلک فزکس کے پروفیسر الیگزینڈر زابوت کے مطابق ’ہمارا کام ایسے ہے جیسے ہم ایک پورے دریا کے بہاؤ اور رویے کو دیکھ رہے ہوں، مگر اس میں سے گزرنے والے پانی کے ہر ذرے یعنی مالیکیول کا باریک بینی سے مطالعہ نہ کر رہے ہوں۔‘
کائنات کے ممکنہ انجام پر سائنسی نظریات: بِگ فریز یعنی انتہائی سرد، تاریک موت
برطانیہ کی رائل آبزرویٹری گرینچ کے مطابق اگر کائنات کا پھیلاؤ جاری رہا تو اس میں موجود توانائی اِس قدر بکھر جائے گی کہ کہکشائیں ایک دوسرے سے دور ہوتی جائیں گی اور بالآخر نئے ستارے بننا بند ہو جائیں گے جبکہ موجودہ ستارے ختم ہو جائیں گے۔
اُن کے مطابق کھربوں سال بعد کائنات مزید تاریک ہو جائے گی اور بالآخر یہ ایک انتہائی سرد، تاریک اور تقریباً خالی حالت تک پہنچ جائے گی۔
اس مفروضے کو ’بِگ فریز‘ یا ’ہیٹ ڈیتھ‘ کہا جاتا ہے۔ اس نظریے کے مطابق بالآخر کائنات کے تمام ایٹم حرارتی توازن (یعنی ہر جگہ ایک ہی درجہ حرارت) کو پا لیں گے جس کے نتیجے میں سب کچھ رُک جائے گا۔
برازیل کی یونیورسٹی آف ساؤ پالو کے فزکس انسٹیٹیوٹ سے منسلک پروفیسر راؤل ابرامو کے مطابق ’ہر چیز اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ کائنات بتدریج سرد، خالی اور مزید پھیلتی چلی جائے گی۔ کہکشائیں ایک دوسرے سے مزید دور ہوتی جائیں گی، ستارے ختم ہو جائیں گے۔ اور یہ ہماری کائنات کا ایک ایسا آخری مرحلہ ہو گا جہاں پوری کائنات بنیادی طور پر ایک قبرستان کی مانند ہو گی۔‘
’بِگ رِپ‘ یا ‘گریٹ رَپچر‘
اگر آپ کو کائنات کے خاتمے سے متعلق اوپر بیان کیا گیا ’بِگ فریز‘ کا تصور ہضم کرنا مشکل لگے تو ایک اور مفروضہ موجود ہے، جو اس سے بھی کہیں زیادہ شدید ہے۔ یہ مفروضہ اس خیال پر مبنی ہے کہ کائنات کا پھیلاؤ 'ڈارک انرجی' کی وجہ سے تیزی سے بڑھ رہا ہے۔
رائل میوزیمز گرینچ کے مطابق اگر پھیلاؤ کا یہ سلسلہ ایسے ہی جاری رہا تو کائنات اتنی تیزی سے پھیل سکتی ہے کہ کششِ ثقل کسی بھی چیز کو ایک ساتھ رکھنے کے قابل نہیں رہے گی (یعنی کشش ثقل ختم ہو جائے گی یا بگاڑ کا شکار ہو جائے گی)۔
اس نظریے کو ’بِگ رِپ‘ یا ’گریٹ رَپچر‘ کہا جاتا ہے۔ ناسا کے مطابق کششِ ثقل وہ قوت ہے جو کسی سیارے یا جسم کو اپنے مرکز کی طرف کھینچتی ہے۔ یہی قوت زمین کو اس کی موجودہ شکل میں رکھتی ہے، انسانوں کو زمین پر قائم رکھتی ہے، سیاروں کو سورج کے گرد مدار میں رکھتی ہے اور ستاروں، نظامِ شمسی، کہکشاؤں اور کہکشانی جھرمٹوں کو آپس میں باندھے رکھتی ہے۔
دوسری طرف ’ڈارک انرجی‘ زیادہ پراسرار ہے اور اس کا اثر بالکل الٹ دکھائی دیتا ہے۔ پروفیسر الیگزینڈر زابوت کے مطابق ’ہم ابھی تک نہیں جانتے کہ یہ (ڈارک انرجی) کس چیز سے بنی ہے، لیکن یہ معلوم ہے کہ یہ ایک قسم کی ضدی قوت پیدا کرتی ہے، تقریباً اینٹی گریویٹی کی نوعیت کی۔‘
ناسا کے مطابق ڈارک انرجی کائنات کو تیزی سے پھیلنے پر مجبور کر رہی ہے۔ ناسا کا کہنا ہے کہ کائنات کا تقریباً 68.3 فیصد سے 70 فیصد تک حصہ ڈارک انرجی پر مشتمل ہے۔ ڈارک انرجی 1990 کی دہائی کے آخر میں دریافت ہوئی تھی۔
یہ اتنی دیر تک دریافت اس لیے نہ ہو سکی کیونکہ انسانی پیمانے، سیاروں اور حتیٰ کہ کہکشاں کی سطح پر کششِ ثقل اس پر غالب رہی ہے۔ ڈارک انرجی صرف بہت بڑے، بین کہکشانی پیمانے پر نمایاں ہوتی ہے۔
پروفیسر زابوت وضاحت کرتے ہیں کہ ’جتنا زیادہ کائنات بڑھتی ہے اور حجم حاصل کرتی ہے، اتنی ہی زیادہ ڈارک انرجی سے جڑی ہوئی ضدی قوت بڑھتی ہے۔ ممکن ہے کہ جیسے جیسے کائنات کا سائز بڑھتا ہے، ڈارک انرجی چھوٹے پیمانوں پر بھی نظر آنے لگ جائے۔‘
ناسا کے مطابق غیر مستحکم ڈارک انرجی ایک ’بِگ رِپ‘ کا باعث بن سکتی ہے، جہاں کائنات اتنی شدت سے پھیلتی ہے کہ ستارے، سیارے اور ایٹم تک ’کھل‘ جائیں۔
زابوت کہتے ہیں کہ ’اسی لیے اس نظریے کا انگریزی نام دوہرا مطلب رکھتا ہے۔ اسے بگ رِپ کہا جاتا ہے، جس کا مطلب ہے بڑا شگاف یا ٹوٹ پھوٹ ہے۔ لیکن ’رِپ RIP‘ کا مطلب ’ریسٹ اِن پیس‘ بھی ہے۔‘
دی بِگ کرنچ
کائنات کے انجام کے بارے میں مزید خوفناک امکانات بھی سامنے آئے ہیں۔ اگر ڈارک انرجی کمزور پڑ جائے اور بالآخر اپنی قوت کو الٹ دے، تو کششِ ثقل کائنات کو ایک ہی نقطے میں سمیٹ لے گی۔ ناسا کے مطابق یہ صورتحال ’بِگ کرنچ‘ کہلاتی ہے، جہاں کائنات اندر ہی اندر بڑے دھماکے کے بعد ختم ہو جائے گی۔
ایک اور نظریہ یہ تجویز کرتا ہے کہ کائنات اس موقع پر دوبارہ سکڑ کر ایک نقطے میں سمٹ سکتی ہے، اور پھر ایک نئے ’بِگ بینگ‘ کے ذریعے ایک نئی کائنات جنم لے سکتی ہے۔ اس نظریے کو ’بِگ باؤنس‘ کہا جاتا ہے، جو یہ تصور پیش کرتا ہے کہ ہماری موجودہ کائنات اور مستقبل کی کائناتیں سکڑنے اور پھیلنے کے ایک نہ ختم ہونے والے چکر میں پھنس سکتی ہیں۔
برازیل کی یونیورسٹی آف ساؤ پالو کے پروفیسر راؤل ابرامو کے مطابق ’یہ ایک بالکل غیر معمولی ماڈل ہے، جس کے لیے ہمارے پاس کوئی ڈیٹا یا ثبوت موجود نہیں ہے۔‘
تو کیا یہ ممکن ہے کہ ہم اندازہ لگا سکیں کہ ہماری کائنات کب ختم ہو گی؟ پروفیسر راؤل ابرامو وضاحت کرتے ہیں ’نہیں، ہمارے پاس کوئی اشارہ نہیں کہ مستقبل میں کوئی اس نوعیت کی بڑی تباہی یا اتنے بڑے پیمانے پر (موجودہ کائنات کا) انہدام ہو گا۔‘
پروفیسر الیگزینڈر کہتے ہیں ’کچھ سائنسی اندازے ہمارے کائنات کے اس نوعیت کے انجام کو کھربوں سال بعد بتاتے ہیں، جبکہ دیگر اس سے بھی زیادہ طویل مدت کا ذکر کرتے ہیں۔‘
اگر کائنات کی موجودہ عمر کم از کم 13.8 ارب سال ہے، تو اسے ایک کھرب سال کی عمر تک پہنچنے کے لیے ابھی بھی 986.2 ارب سال باقی ہیں!
نیدرلینڈز کی ریڈباوڈ یونیورسٹی کی ایک حالیہ تحقیق میں تجویز کیا گیا ہے کہ کائنات سائنسدانوں کے ابتدائی خیالات سے زیادہ تیزی سے زوال پذیر ہے۔ محققین نے حساب لگایا ہے کہ ہماری کائنات کے آخری ستاروں کی باقیات کو ختم ہونے میں تقریباً 10^78 سال لگ سکتے ہیں — یعنی 1 کے بعد 78 صفر۔
انسانی نسل شاید اس انجام کو دیکھنے کے لیے موجود نہ ہو۔ ہماری زمین کا وجود یہ سب ہونے سے شاید کہیں پہلے ختم ہو جائے گا۔
پروفیسر ابرمو وضاحت کرتے ہیں ’سچ یہ ہے کہ ہم ابھی بھی کاسمولوجی کے بارے میں بہت کم جانتے ہیں۔ آج کے دور میں دستیاب محدود آلات کائنات کو درستگی سے ناپنے کے عمل کو مشکل بنا دیتے ہیں۔‘
اور یہی صورتحال مزید مفروضاتی نظریات کے امکانات پیدا کرتی ہے۔ مثال کے طور پر ’ملٹی ورس‘، یعنی یہ مفروضہ کہ ایک سے زیادہ کائناتیں موجود ہیں۔