’سرخ لکیر عبور‘: افغان طالبان کے پاکستان کے مختلف شہروں میں ڈرون حملے اسلام آباد کے لیے کیا معنی رکھتے ہیں؟

    • مصنف, اسد صہیب
    • عہدہ, بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
  • مطالعے کا وقت: 9 منٹ

جمعے کو پاکستان کے مختلف شہروں میں افغان طالبان کی جانب سے کیے گئے ڈرون حملوں کو پاکستان کی جانب سے ناکام بنانے کا دعویٰ تو کیا گیا ہے، تاہم ان حملوں میں بچوں سمیت کچھ افراد کے زخمی ہونے کو بعض حلقے تشویش کا باعث قرار دے رہے ہیں۔

پاکستان کے صدر آصف زرداری نے بھی ان حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغان طالبان نے ’سرخ لکیر‘ عبور کی ہے۔

ایکس پر جاری کیے گئے بیان میں صدرِ پاکستان کا کہنا تھا کہ ’ہم اپنے شہریوں کو نشانہ بنائے جانے کو برداشت نہیں کریں گے۔ افغان سرزمین کو پڑوسیوں کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہے۔ ہم اپنے لوگوں کا دفاع کریں گے۔‘

پاکستانی فوج کے ترجمان ادارے ’آئی ایس پی آر‘ کے مطابق 13 مارچ کو افغان طالبان نے چند ڈرونز کے ذریعے راولپنڈی، کوہاٹ اور کوئٹہ میں حملہ کیا، جو اپنے مطلوبہ اہداف تک نہیں پہنچے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق ان ڈرونز کو ’سافٹ اور ہارڈ کِل‘ ٹیکنالوجی کے ذریعے روکا گیا۔ تام ان ڈرونز کے ملبے کے نتیجے میں کوئٹہ میں دو بچے جبکہ کوہاٹ اور راولپنڈی میں ایک، ایک شہری زخمی ہوا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ان حملوں کا مقصد عوام میں خوف پیدا کرنا اور ’ہمیں دہشت گردانہ ذہنیت کی یاد دلاتا ہے جس کے ذریعے افغان طالبان کی حکومت چلتی ہے۔‘

آئی ایس پی آر نے یہ نہیں بتایا کہ کوہاٹ، کوئٹہ اور راولپنڈی میں کن مقامات کو نشانہ بنایا گیا، لیکن سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ عام ڈرونز تھے اور انھیں الیکٹرانک آلات کی مدد سے ناکارہ بنایا گیا۔

دوسری جانب افغان طالبان کی وزارت دفاع نے دعویٰ کیا تھا کہ افغان فورسز نے جمعہ کی شام فیض آباد کے نزدیک واقع اہم فوجی تنصیب 'حمزہ (کیمپ)' کو نشانہ بنایا ہے۔

وزاتِ دفاع کی جانب سے ایکس پر جاری اس بیان میں مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ ڈرونز کا استعمال کرتے ہوئے وہاں موجود کمانڈ سینٹر اور دیگر اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا جس میں کافی نقصان ہوا ہے۔

کیا افغان طالبان یہ جنگ پاکستان کے بڑے شہروں تک لے آئے ہیں؟ پاکستان کی ریڈ لائن عبور کرنے سے کیا مراد ہے؟ افغان طالبان کیا پاکستان کے بڑے شہروں میں بڑے حملوں کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔ یہ جاننے کے لیے بی بی سی نے سکیورٹی اُمور کے پاکستانی اور افغان ماہرین سے بات کی ہے۔

لیکن اس سے پہلے یہ جان لیتے ہیں کہ افغان طالبان نے کس نوعیت کے ڈرون استعمال کیے۔

عام نوعیت کے ڈرونز

ماہرین کے مطابق یہ کم لاگت والے ڈرونز کمرشل بنیادوں پر آسانی سے دستیاب ہوتے ہیں اور یہ اپنے ساتھ ایک خاص مقدار میں دھماکہ خیز مواد لیجانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

رواں ماہ کے آغاز پر بھی افغان حکومت نے پاکستان کے خلاف ڈرونز استعمال کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

طالبان کی وزارتِ دفاع نے اپنے ایک بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ اس نے پاکستان کے تین شہروں میں کئی مقامات پر ڈرونز کا استعمال کرتے ہوئے ’متعدد فضائی حملے کیے ہیں۔‘ اُن کے مطابق یہ اقدام پاکستانی فضائی حملوں کے جواب میں اٹھایا گیا۔

طالبان حکومت کے پاس چونکہ روایتی فضائیہ نہ ہونے کے برابر ہے اس لیے انھوں نے فضائی حملوں کی غرض سے دھماکہ خیز ڈرونز کا سہارا لیا گیا۔

بی بی سی افغانستان کی فیکٹ چیک ٹیم کو معلوم ہوا تھا کہ ان کارروائیوں میں طالبان کی عبوری حکومت نے پاکستان کے خلاف دو قسم کے ڈرونز استعمال کیے ہیں، جن میں سے کچھ خودکش ڈرونز جبکہ چند کواڈ کاپٹرز (ایسے ڈرون جو چار پروں کی مدد سے اڑتے ہیں) شامل ہیں۔

یوکرین سے تعلق رکھنے والے عسکری اُمور کے ایک ماہر نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی فیکٹ چیک ٹیم سے بات چیت میں دعویٰ کیا کہ ’عین ممکن ہے کہ طالبان حکومت کے پاس ڈرون کے پرزے خود بنانے کی صلاحیت نہ ہو اور اس بات کا امکان ہے کہ یہ پرزے انھوں نے دوسرے ممالک سے خرید کر افغانستان میں انھیں اسمبل (جوڑا) کیا ہو۔‘

’یہ پاکستان کے لیے ایک دھچکہ تھا‘

افغان اُمور کے تجزیہ کار سمیع یوسفزئی کہتے ہیں کے افغان طالبان جو ڈرونز استعمال کر رہے ہیں، نگرانی یا ویڈیوز بنانے کے لیے کام آتے ہیں اور مارکیٹ سے آسانی سے مل بھی جاتے ہیں۔

بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے سمیع یوسفزئی کا کہنا تھا کہ اس نوعیت کے ڈرونز افغان فورسز کے پاس بھی تھے، جو کابل پر قبضے کے بعد اب افغان طالبان کے پاس ہیں۔

سمیع یوسفزئی کہتے ہیں کہ اُن کی اطلاعات کے مطابق افغان طالبان نے ان ڈرونز کو طویل فاصلے تک مار کرنے اور انھیں مزید موثر بنانے کے لیے کچھ ماہرین کی بھی خدمات لی ہیں۔

اُن کے بقول ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ افغان طالبان ایسا میزائل تیار کر رہے ہیں جو 200 سے 300 کلومیٹر تک مار کر سکتا ہے۔

سمیع یوسفزئی کا کہنا تھا کہ یہ ڈرون حملے پاکستان کے لیے ایک دھچکہ تھا۔ بظاہر اس سے پاکستان میں کوئی بڑی تباہی نہیں ہوئی، لیکن یہ افغان طالبان کی دلیری تھی کہ اُنھوں نے نتائج کی پرواہ کیے بغیر پاکستان کے شہروں کو نشانہ بنایا۔

اُن کا کہنا تھا کہ افغان وزیر دفاع نے اسلام آباد کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی تھی، گو کہ ان ڈرونز نے زیادہ نقصان نہیں پہنچایا۔ لیکن یہ اسلام آباد تک تو پہنچ ہی گئے۔

واضح رہے کہ افغانستان میں طالبان حکومت کے وزیر دفاع ملا یعقوب مجاہد نے کہا تھا کہ ’اگر کابل پر حملہ ہو گا تو اس کے جواب میں اسلام آباد پر بھی حملہ ہو گا۔‘

چند روز قبل طلوع نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں ملا یعقوب کا کہنا تھا کہ افغانستان لڑائی نہیں چاہتا ’لیکن اگر وہ (پاکستان) جنگ کو دس سال تک بھی طول دینا چاہتے ہیں تو ہم دس سال تک بھی لڑنے کے لیے تیار ہیں۔ ہمیں کوئی خوف نہیں۔‘

’سوال یہ ہے کہ یہ ڈرونز اسلام آباد تک پہنچے کیسے‘

دفاعی اُمور کے تجزیہ کار ڈاکٹر حسن عسکری رضوی کہتے ہیں کہ پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے ان ڈرونز کو تباہ تو کر دیا، لیکن سوال یہ ہے کہ ڈرونز اسلام آباد تک پہنچ کیسے گئے۔

بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے حسن عسکری رضوی کا کہنا تھا کہ افغان سرحد اسلام آباد سے بہت دُور ہے جبکہ کوئٹہ اور کوہاٹ بھی بارڈر سے بہت دُور ہیں۔ لیکن اس کے باوجود یہ ڈرونز پاکستان کے شہروں تک پہنچ گئے راستے میں ہی ان ڈرونز کو کیوں نہیں روکا گیا۔

اُن کا کہنا تھا کہ یہ بنیادی نوعیت کے ڈرونز تھے، لیکن اس کے باوجود پاکستان کے شہری ان حملوں میں زخمی ہوئے۔

ڈاکٹر حسن عسکری کہتے ہیں کہ افغان طالبان کے پاس اتنی صلاحیت نہیں ہے کہ وہ پاکستان کے اندر کوئی بڑی فوجی کارروائی کر سکیں۔ وہ دہشت گرد گروپس کی پشت پناہی کرتے ہیں یا خودکش حملہ آور اُن کی طاقت ہیں۔

اُن کے بقول روایتی فوج یا ’نان کانٹیکٹ وار فیئر‘ میں افغان طالبان پاکستان کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔

سمیع یوسفزئی کے مطابق جس اعتماد سے افغان طالبان یہ بات کر رہے ہیں کہ وہ پاکستان کی جارحیت کا جواب دیں گے تو ہو سکتا ہے کہ اُن کے پاس اس نوعیت کے تین، چار سو اور ڈرونز ہوں اور وہ مقامی سطح پر انھیں تیار بھی کر رہے ہوں گے۔

سمیع یوسفزئی کہتے ہیں کہ پاکستان کے لیے لمحہ فکریہ ہو گا، اگر انڈیا بھی اس جنگ میں افغان طالبان کی مدد شروع کر دے۔

اُن کے بقول افغان طالبان سے متعلق انڈیا پہلے بہت محتاط تھا، لیکن افغان طالبان کی پاکستان کے خلاف جارحانہ حکمت عملی دیکھ کر انڈیا بھی ان کی مدد کر سکتا ہے، جو پاکستان کے لیے پریشانی کی بات ہو گی۔

’شروع میں انڈیا پاکستان اور افغان طالبان کی مخاصمت کو اُستاد، شاگرد کی لڑائی سمجھتا تھا، لیکن حالیہ عرصے میں جس طرح افغان طالبان پاکستان کے خلاف نبرد آزما ہیں، اس کے بعد انڈیا کو بھی یہ تاثر ملا ہے کہ افغان طالبان، اب کھل کر پاکستان کے خلاف میدان میں آ چکے ہیں۔‘

واضح رہے کہ گذشتہ روز انڈین وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے افغانستان میں پاکستان کے حملوں کو ’جارحیت‘ قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ ان حملوں میں ’عام شہری مارے گئے ہیں۔‘

پاکستان نے اتوار کو انڈین وزارتِ خارجہ کے اس بیان پر شدید ردعمل دیتے ہوئے اسے ’غیر ضروری اور منافقانہ‘ قرار دیا تھا۔

ڈاکٹر حسن عسکری رضوی کہتے ہیں کہ اُنھِیں یہ لڑائی جلد ختم نظر نہیں آتی۔ کیونکہ پاکستان افغانستان کے اندر مزید کارروائیوں کے لیے پرعزم نظر آتا ہے جبکہ دوسری جانب افغان طالبان بھی ڈٹے ہوئے ہیں کہ وہ پاکستان کی کوئی بات نہیں مانیں گے۔

اُن کے بقول اس وقت یہ مشکل نظر آتا ہے کہ پاکستان طاقت کے زور پر افغان طالبان کو کالعدم ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی پر مجبور کر سکے، لہٰذا کسی تیسرے فریق کو درمیان میں آ کر دونوں ممالک کے درمیان اس تنازع کو ختم کرانا ہو گا۔

سمیع یوسفزئی بھی ڈاکٹر حسن عسکری سے اتفاق کرتے ہیں۔ اُن کے بقول افغانستان اور پاکستان کے اندر سے اب آوازیں اُٹھ رہی ہیں کہ اس لڑائی کو ختم ہونا چاہیے۔

اُن کے بقول افغانستان میں لوگ یہ سوال کر رہے ہیں کہ افغانستان کو پہلے ہی بہت سے مسائل کا سامنا ہے، خواتین کی تعلیم اور معیشت کے مسائل ہیں تو ایسے میں ایک ملک کے ساتھ حالت جنگ میں رہنا افغانستان کے مفاد میں نہیں ہے۔ اسی طرح پاکستان میں بھی اس جنگ کو اب زیادہ پذیرائی حاصل نہیں ہے۔

’پی ٹی آئی کے جو لوگ ہیں یا کچھ دیگر سیاسی لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ ٹھیک ہے کہ ٹی ٹی پی ایک مسئلہ ہے، لیکن پاکستان نے جو راستہ اختیار کیا ہے، وہ بھی ٹھیک نہیں ہے اور اس سے شدت پسندی مزید بڑھے گی۔‘

ماہرین کا ماننا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری لڑائی کی وجہ سے ترکی، قطر یا چین جیسے ممالک بھی ثالثی کے لیے آگے نہیں آ رہے، جس کی وجہ سے اس لڑائی کے فوری ختم ہونے کا امکان نظر نہیں آتا۔