آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
پاکستان یہ سب نہ کرے تو اور کیا کرے؟
- مصنف, وسعت اللہ خان
- عہدہ, صحافی و تجزیہ نگار
- مطالعے کا وقت: 6 منٹ
سانڈوں کی لڑائی میں گھاس نہ کچلی جائے بھلا کیسے ممکن ہے۔ جو غضب ناک بیل ایک دوسرے سے سینگ پھنسائے ہوئے ہیں انھیں تو پوری دنیا دیکھ رہی ہے مگر زیادہ مشکل میں ہم جیسے ملک ہیں جنھیں ’کھاؤں کدھر کی چوٹ، بچاؤں کدھر کی چوٹ‘ کا کھٹن مرحلہ درپیش ہے۔
وقت نے ہمیں اس مقام پر کھڑا کر دیا ہے کہ پانچ گیندیں بیک وقت ہوا میں اچھالنا اور کسی ایک کو بھی گرنے نہ دینا ہمارا شوق نہیں مجبوری ہے۔
ہر ایک کو مطمئن بھی رکھنا ہے اور ماتھے پر شکن ڈالنے کی بھی مہلت میسر نہیں۔ ایک مدت سے اندر ہی اندر جمع ہونے والا غصہ افغانستان پر نکل رہا ہے مگر خلیج میں جاری سر پھٹول کے سبب اس وقت کسی کا بھی دھیان پاک افغان ٹام اینڈ جیری لڑائی کی طرف نہیں۔
اس لڑائی سے بھی بڑا مسئلہ یہ آن پڑا ہے کہ تیل کہاں سے آئے گا۔ مگر نو من تیل ہو نہ ہو رادھا کو تو ناچنا پڑے گا۔
اگر ہماری جین زی کو رادھا کے ناچ کا پس منظر نہیں معلوم تو پھر اس معاملے کو یوں سمجھیے کہ ہماری خارجہ پالیسی گویا ایک ریجنل سپر سٹور ہے۔ کسی بھی گاہک کو خالی ہاتھ یا ناخوش نہیں لوٹایا جا سکتا۔
خوش قسمتی یا بدقسمتی سے یہ سپر سٹور ایسے چوراہے کے نکڑ پر ہے جہاں اس وقت مکمل ٹریفک جام ہے۔ فراری اور گدھا گاڑی میں سے کوئی بھی راستہ چھوڑنے پر آمادہ نہیں۔
امریکہ ایران کا دشمن ہے۔ ایران ہمارا پڑوسی اور امریکہ ہمارا بہت کچھ ہے۔ ایرانی میزائل خلیجی ریاستوں پر گر رہے ہیں مگر ہم نہ چوں کر سکتے ہیں نہ چاں۔
بس زیرِ لب ہی دل کے پھپھولے پھوڑ سکتے ہیں کیونکہ کویت، قطر، متحدہ عرب امارات، بحرین، عمان اور سعودی عرب میں لگ بھگ 35 سے 40 لاکھ پاکستانی ورکرز ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ہمارا آدھا قومی بجٹ انہی محنت کشوں کے بھیجے گئے درہموں اور ریالوں پر زندہ ہے۔
80 فیصد تیل اور ایل این جی بھی خلیج سے کریڈٹ پر آتا ہے۔ بیشتر امداد، ادھار اور قرضوں کا رول اوور بھی یہیں سے ملتا ہے۔ سعودی عرب کو تو ہم لکھت میں حلف نامہ بھی پکڑا چکے ہیں کہ آپ پر کسی نے حملہ کیا تو بھائی آپ کے لیے جان کی بازی لگا دے گا۔
ہمیں کیا معلوم تھا کہ معاہدہ ہوتے ہی دنگا بھڑک اٹھے گا۔ چنانچہ سعودی عرب اب ہماری طرف متوقع نگاہوں سے دیکھ رہا ہے اور ہم تہران کو آنکھوں ہی آنکھوں میں کہہ رہے ہیں کہ ’آغا جان ہماری بے چارگی کا کچھ تو خیال کر۔ تھوڑی سی تو عزت رکھ لے۔ تجھے اقبال لاہوری کی قسم۔‘
معلوم نہیں کہ نئے سپریم لیڈر مجتبی خامنہ ای تک ہماری ہنگامی عرضی پہنچے گی بھی یا نہیں۔
ایران کے شمال مغربی ہمسائے ترکی سے ہمارے جتنے قریبی تعلقات اس وقت ہیں آپ کی سوچ ہے۔ ایران کا مغربی ہمسایہ آذربائیجان بھی چند برس سے ہمارا منہ بولا بھائی ہے۔ جنگ سے ذرا پہلے ہی تو ہم نے ’آذر بھائی جان‘ سے چار بلین ڈالر کے جہازوں کے سودے کا بیعانہ پکڑا ہے اور اب آذربائیجان اور ایران میں بھی گھورم گھوری چل رہی ہے۔
چنانچہ لپاڈکی کے اس ماحول میں یہ بھی تو ایک کرامت ہے کہ ہم اکیلے مسلم محلے دار ہیں جس پر اب تک ایک بھی میزائل نہیں گرا اور نہ ہی کسی ڈرون نے غلطی سے بھی سرحدی لکیر کو پار کیا۔
ہماری ڈپلومیٹک ذہانت اپنی جگہ مگر قسمت کی اپنی اہمیت ہے۔ چنانچہ اپنا دامن آگ سے بچانے کے لیے ہم صبح کسی کی ٹھوڑی چھو رہے ہیں کہ بھائی غصہ تھوک دے، شام گئے کسی کو شانت کرنے کے لیے ٹھنڈا پانی پلا رہے ہیں، رات گئے کسی کے ہاتھ جوڑ رہے ہیں کہ کم ازکم تو تو آپے سے باہر نہ ہو اور کسی کا گھٹنا چھو رہے ہیں کہ بھائی ان سب پاگلوں کے درمیان ایک تو ہی تو سیانا ہے، ذرا سا اور برداشت کر لے۔
ہمسائے کو بھی پرسہ دینا ہے اور اس نے کسی اور پڑوسی کو ڈرون کر دیا تو اس فعل کی مذمت بھی کرنی ہے۔ کبھی ادھر جا تو کبھی ادھر دوڑ، کبھی فلانے کو کال تو کبھی ڈھمکانے کو میسج اور پھر اپنی اتاؤلی جنتا کو بھی روز تسلی، دلاسہ اور ڈانٹ ڈپٹ۔ تم کیوں جاگ رہے ہو، تماشا تھوڑی لگا پڑا ہے، جاؤ جا کے سووؤ۔ ہماری جان پر بنی ہے اور تم پٹرول کی قیمت صرف 55 روپے لیٹر بڑھنے پر ریں ریں کر رہے ہو۔ جانے پانچ سو روپے لیٹر پر کیا کرو گے؟
ہم یہ کتھک بالکل پرفارم نہیں کرنا چاہتے مگر کرنا پڑ رہا ہے۔ کیونکہ اگر موجودہ ایرانی نظام گرتا ہے اور ایک اور عراق، شام، لیبیا یا یمن ہمارے سر پر پینڈولم ہو جاتا ہے تو پھر مشرقی اور مغربی سرحد کے ساتھ ساتھ ہماری تیسری جغرافیائی لکیر بھی غیر محفوظ ہو سکتی ہے۔
اسٹیبلشمنٹ کے لیے یہ تصور کسی ڈراؤنے سپنے سے کم نہیں کہ را اور موساد جیسے کم ظرف ادارے زاہدان میں بیٹھ کر ایٹمی پاکستان کی گردن پر گرم گرم پھونکیں مارنے لگیں۔ انارکی، وار لارڈ ازم اور ٹوٹ پھوٹ کا مطلب ایرانی اور پاکستانی بلوچستان میں ایک بھرپور ممکنہ اودھم ہے۔
ایران سے لاکھوں پناہ گزین بھی ہماری طرف چل سکتے ہیں۔ اگر اس بھگدڑی سے خود کو بچانے کے لیے ہمسائے کا ساتھ دیں تو خلیجی محسن ناراض ہو سکتے ہیں۔ اور پھر ٹرمپ کی زبان کون پکڑے گا اگر اس نے یہ کہہ دیا کہ پچھلے مئی میں پاکستان نے 11 چھوڑ انڈیا کا ایک بھی جہاز نہیں گرایا اور فیلڈ مارشل کو تو میں بہت عظیم آدمی سمجھتا تھا مگر وہ تو ۔۔۔ وغیرہ وغیرہ۔
اور اگر اپنے سب سے پیارے ہمسائے اور دوست چین کی طرف آس بھری نگاہوں سے دیکھیں تو اسے ان دنوں مراقبے اور گیان دھیان سے ہی فرصت نہیں۔ لگتا ہے اس سمے بیجنگ میں دھنیا پی کر وظیفہ جاری ہے۔
اس لیے بھائی اپنی لنگوٹ بچانے کے لیے ہماری جو سمجھ میں آ رہا ہے وہی کر رہے ہیں۔ کسی کو اچھا لگے کہ برا یا کچھ بھی نہ لگے ہماری بلا سے۔
کوئی ذرا بتائے گا کہ ٹرمپ ابھی کتنے اور برس وائٹ ہاؤس میں ہے؟