آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
’جب رخصتی کے وقت بینڈ باجا تھا تو واپسی پر کیوں نہیں؟‘: ایک باپ کی اپنی بیٹی کو پُرتشدد سسرال سے بچانے کی کہانی
- مصنف, گیتا پانڈے
- عہدہ, سوشل افیئرز ایڈیٹر
- مطالعے کا وقت: 8 منٹ
انڈیا میں ایک مختصر تشہیری فلم نے لوگوں کے دل جیت لیے ہیں۔ اس خطے میں بیٹی کے سسرال میں رہنے کو ہی اچھا سمجھا جاتا ہے، چاہے اس کے ساتھ بدسلوکی ہی کیوں نہ ہو رہی ہو لیکن یہ مختصر فلم اسی روایتی خیال کو چیلنج کرتی ہوئی نظر آتی ہے۔
ساڑھے تین منٹ پر مبنی فلم بینڈ باجا بٹیا (شادی کا بینڈ اور بیٹی) ایک درد ناک کہانی ہے ایسے باپ کی جو اپنی بیٹی کو اُس کے پرتشدد سسرال سے واپس لینے جاتا ہے اور بغاوت کی نشانی کے طور پر شادی کے جشن والے بینڈ کو بھی اپنے ساتھ لے جاتا ہے۔
اس فلم کی شروعات ایک باپ سے ہوتی ہے، جس کا کردار بالی وُڈ کے معروف اداکار گجراج راؤ نے ادا کیا ہے، جو اپنی بیٹی سوربھِی کی طرف سے آنے والی ایک فون کال وصول کرتا ہے۔
فون اُٹھا کر وہ کہتے ہیں: ’دوبارہ؟‘ ان کے چہرے کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے جیسے انھوں نے کوئی تکلیف دہ بات سنی ہو۔
یہ بات سن کر اس شخص کو دوست اور خاندان والے روایتی مشورے دیتے ہیں: ’وہ بیٹی کا گھر ہے، یہی اس کی تقدیر میں لکھا ہے‘ یا پھر ’بیٹی کو ایڈجسٹ ہونے کو کہو۔‘
ایک اور مشورہ یہ دیا جاتا ہے: شادی کے بعد نوک جھونک ’ بڑی بات نہیں‘ ہوتی یا ’ایک بار بچہ ہو جائے گا تو چیزیں خود ہی ٹھیک ہو جائیں گی۔‘
گجراج راؤ نے بی بی سی کو بتایا: ’انڈیا میں کہا جاتا ہے کہ دلہن پالکی میں بیٹھ کر شوہر کے گھر داخل ہوتی ہے اور وہاں سے صرف موت کے بعد ہی نکلتی ہے۔ یہ مانا جاتا ہے کہ باپ کی ذمہ داری اُس دن ختم ہو جاتی ہے جس دن وہ اپنی بیٹی کو شادی کے بندھن میں باندھ دیتا ہے۔‘
لیکن گجراج راؤ کا کردار بیٹی کی تکلیف پر آنکھیں بند نہیں کرتا اور جب وہ اپنی بیٹی کو بچانے جاتا ہے تو وہ اس موقع کو ایک جشن میں بدل دیتا ہے: جب رخصتی کے وقت بینڈ باجا تھا تو بیٹی کی واپسی پر کیوں نہیں؟
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
گجراج راؤ کہتے ہیں: ’یہ باپ کے لیے شرمندگی کی بات نہیں ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ اپنی بیٹی کو اُسی شان و شوکت کے ساتھ واپس خوش آمدید کہے، جس کے ساتھ اُس نے اسے رخصت کیا تھا۔ اس کی واپسی کا جشن منا کر وہ اپنا فخر ظاہر کرتا ہے کہ وہ اپنی بیٹی کے درد اور اذیت کو ختم کر رہا ہے۔‘
جب زخمی اور پریشان بیٹی بھاگ کر اپنے باپ سے گلے لگتی ہے تو فلم کا پیغام نہایت واضح ہو جاتا ہے: ’بیٹی کا اپنے باپ اور گھر سے رشتہ کبھی ختم نہیں ہوتا۔‘
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ہر تین میں سے تقریباً ایک انڈین عورت گھریلو تشدد کا شکار ہوتی ہے، کبھی بدسلوکی کا سامنا کرتی ہے اور کبھی تو جہیز کے تنازعات پر نئی دلہنوں کا قتل تک سرخیوں میں نظر آتا ہے۔
صرف سنہ 2023 میں ہی 6,150 سے زیادہ خواتین جہیز کے معاملے پر قتل ہوئیں، جبکہ پولیس نے شوہروں یا ان کے خاندانوں کی جانب سے بدسلوکی پر ملک میں 133,676 مقدمات درج کیے۔
آگاہی کی مہم چلانے والوں کا کہنا ہے کہ بہت سی خواتین ایسی شادیوں میں اس لیے پھنسی رہتی ہیں کیونکہ ان کے والدین کی طرف سے انہیں کم ہی تعاون ملتا ہے۔ اسی لیے ایک عام باپ کی جانب سے اپنی بیٹی کے ساتھ یکجہتی کا یہ خاموش اظہار لوگوں کے دلوں کو چھو گیا ہے، جس نے آن لائن لاکھوں ناظرین کو متوجہ کیا ہے اور اسے وسیع پیمانے پر سراہا جا رہا ہے۔
سوشل میڈیا پر صارفین نے اسے ’2026 کی بہترین تشہیری فلم‘ اور ’ایک انقلابی خیال جس کا وقت آخرکار آ پہنچا ہے‘ قرار دیا ہے۔ بہت سے لوگوں نے کہا کہ اس فلم نے انھیں رُلا دیا۔
ایک انسٹاگرام صارف نے لکھا: ’دنیا کو ایسے مزید باپوں اور والدین کی ضرورت ہے۔‘
بہت سی خواتین نے ایسے جذباتی قصے شیئر کیے جن میں ان کے والد مشکل لمحات میں ان کے ساتھ کھڑے رہے، جبکہ بعض باپوں نے اپنی بیٹیوں کو یہ یقین دہانی کروائی کہ انھیں ہمیشہ ان کی حمایت حاصل رہے گی۔
گجراج راؤ، جو بالی وڈ کے بہترین اداکاروں میں سے ایک ہیں اور ہٹ فلم ’بدھائی ہو‘ میں اپنے کردار کے لیے خاص طور پر پسند کیے جاتے ہیں، کہتے ہیں کہ اس فلم پر آنے والا ردِعمل بے حد شاندار رہا ہے۔
وہ کہتے ہیں: ’یہ میری زندگی میں پہلی بار ہوا ہے کہ ایئرپورٹ پر میرے اردگرد 15 سے 20 لوگ جمع ہوگئے اور مجھے گھیر کر بتانے لگے کہ انہیں یہ فلم کتنی پسند آئی۔ لوگوں نے اسے قبول کیا ہے اور کھلے دل سے سراہا ہے۔‘
ڈائریکٹر پروسِت روئے، جو ایک چھوٹی بیٹی کے والد ہیں، خود کو ’گرل ڈیڈ‘ قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ انھوں نے یہ فلم ’پرانے نظریات اور فرسودہ اقدار‘ کو چیلنج کرنے کے لیے بنائی ہے۔
’گھریلو تشدد عام ہے، لیکن والدین اس میں مداخلت نہیں کرتے کیونکہ وہ یہ سوچ کر گھبراتے ہیں کہ 'لوگ کیا کہیں گے؟' ہم اپنی بیٹیوں سے کہتے رہتے ہیں کہ برداشت کرو اور کبھی کبھار تب تک بہت دیر ہو جاتی ہے۔ میں صرف معاشرے کے سامنے ایک آئینہ رکھ رہا ہوں تاکہ وہ سمجھ سکیں کہ انہیں کیوں ایسا قدم اٹھانا چاہیے۔‘
روئے کہتے ہیں کہ انھوں نے اس کہانی کا انتخاب اس لیے کیا کیونکہ انہیں یہ متاثر کن لگی اور انھیں ’یقین تھا کہ ہم اس کے ذریعے والدین اور رشتہ داروں کو بیٹیوں کی حمایت کرنے کی ترغیب دے سکتے ہیں۔ یہ ایک ضروری گفتگو ہے اور یہ فلم اسے جنم دے سکتی ہے۔‘
یہ فلم حقیقی زندگی کے ان چند واقعات کی بھی عکاسی کرتی ہے جن میں والدین نے فرسودہ روایت کو چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا اور اپنی بیٹیوں کو ناخوشگوار شادیوں سے نجات دلائی۔
اس نوعیت کا پہلا واقعہ اکتوبر 2023 میں انڈین ریاست جھارکھنڈ سے رپورٹ ہوا تھا، جہاں پریم گپتا نامی تاجر نے اپنی بیٹی ساکشی کو گھر واپس لانے کے لیے شادی کا بینڈ کرائے پر لیا تھا۔
بیٹی کی شادی کو ایک سال ہوا تھا اور گپتا نے بی بی سی کو بتایا کہ ابتدا میں انھوں نے بھی اپنی بیٹی کو یہی مشورہ دیا تھا کہ وہ سمجھوتا کرے۔
انھوں نے کہا کہ: ’انڈیا میں والدین اپنی بیٹیوں سے کہتے ہیں کہ شادی کے بعد تمہارا تعلق اپنے شوہر اور اُس کے خاندان سے ہے۔ تمہیں ان ہی کے ساتھ جینا اور مرنا ہے۔ باقی لوگوں کی طرح میں بھی اسی فکر میں تھا کہ لوگ کیا کہیں گے۔‘
لیکن جیسے جیسے بیٹی کا رشتہ بگڑتا گیا، گپتا فکر مند ہونے لگے کہ کہیں وہ ڈپریشن میں نہ چلی جائے اور خود کو نقصان نہ پہنچا لے۔
’ایک باپ کی حیثیت سے مجھے لگا کہ میں اسے تنہا نہیں چھوڑ سکتا۔ ہم نے ناوراتری کے پہلے دن کا انتخاب کیا، یہ نو روزہ ہندو تہوار ہے جس میں دیوی درگا کی پوجا کی جاتی ہے۔ اسے نئے کام شروع کرنے اور اہم قدم اٹھانے کے لیے مبارک وقت سمجھا جاتا ہے۔ ہم یہ پیغام دینا چاہتے تھے کہ ہم درست کام کر رہے ہیں۔‘
ساکشی کہتی ہیں کہ وہ جانتی تھیں کہ ان کے والد انھیں گھر لے جانے آ رہے ہیں، لیکن جب انھوں نے قریب سے بجتا ہوا جشن کا بینڈ سُنا تو وہ اداس ہو گئی تھیں۔
’میری شادی ٹوٹ چکی تھی اور میں اپنے سسرال سے واپس جا رہی تھی۔ میں نے سوچا کہ یہ بینڈ کسی اور کی شادی کی بارات کا حصہ ہوگا۔ جب مجھے پتا چلا کہ یہ میرے لیے ہے تو میں واقعی حیران رہ گئی۔‘
اس وقت کی ایک وائرل ویڈیو میں دکھایا گیا تھا کہ ساکشی مسکراتی ہوئی اپنا سوٹ کیس گھسیٹتے ہوئے اپنے سابق شوہر کے گھر سے باہر آ رہی ہیں، جبکہ پس منظر میں بینڈ باجا بج رہا تھا اور آتش بازی ہو رہی تھی۔ انہوں نے بی بی سی کو بتایا: ’میرے والد نے مجھے نئی زندگی دی۔‘
گپتا کہتے ہیں: ’میں نے یہ سب اپنی بیٹی کی مسکراہٹ کے لیے کیا۔ میں نے یہ اس کی خوشی کے لیے کیا۔ مجھے کبھی خیال بھی نہیں تھا کہ یہ ویڈیو وائرل ہو جائے گا۔ میرا مقصد کوئی مثال قائم کرنا نہیں تھا، لیکن میرا ماننا ہے کہ میں نے ایسا کر دکھایا ہے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ چند مزید والدین نے ان کے اس عمل کی پیروی کی ہے۔
گجراج راؤ کہتے ہیں کہ بینڈ باجا بٹیا کے ذریعے وہ اپنا پیغام مرکزی دھارے تک پہنچانا چاہتے ہیں، اس امید پر کہ ایک دن ایسا وقت آئے گا جب والدین کا اپنی بیٹیوں سے یہ کہنا معمول بن جائے گا کہ اُن کا ہمیشہ کے لیے ایک گھر ہے اور وہاں رہنا اُن کا حق ہے۔
وہ کہتے ہیں: ’مجھے معلوم ہے کہ یہ بہت لمبا سفر ہے اور چیزیں پل بھر میں نہیں بدلیں گی۔ ہماری کوشش سمندر میں ایک قطرے کے برابر ہے، مگر کم از کم یہ ایک کوشش تو ہے۔‘
’لوگوں کو روایت کو چیلنج کرنے کے لیے حوصلے کی ضرورت ہوتی ہے اور شاید ہماری فلم انھیں اس کی ترغیب دے سکے۔ شاید یہ خاندانوں کے لیے ایک رہنما چراغ کا کام کر سکے کہ وہ اپنی بیٹیوں کی مدد کریں۔‘