آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
سندھ کی خواتین فائر فائٹرز: ’ایمرجنسی میں جنس نہیں، صرف ذمہ داری دیکھی جاتی ہے‘
- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
- مطالعے کا وقت: 5 منٹ
’اس میں عورت اور مرد کے لیے الگ سے کوئی کیٹیگری نہیں ہے۔ آگ لگ گئی تو ہمیں ریسکیو کرنا ہے، فائر فائٹنگ کرنی ہے۔‘
یہ کہنا ہے فائر فائٹر کائنات جنید کا جو سندھ کے شہر کراچی میں ریسکیو ادارے 1122 سے وابستہ ہیں۔
ماضی میں آگ بجھانا، تباہ شدہ عمارتوں میں جانا اور ہنگامی حالات میں لوگوں کو بچانا ایسے کام تھے جنھیں روایتی طور پر مردوں کی ذمہ داری تصور کیا جاتا تھا۔
مگر اب یہ تصور آہستہ آہستہ بدل رہا ہے اور کراچی میں اب یہ ذمہ داری خواتین نے بھی اٹھا لی ہے۔
اس سروس کے تحت شہری مفت ہیلپ لائن 1122 پر کال کر کے طبی امداد، حادثے کی صورت میں مدد، آگ بجھانے، پانی میں پھنسے افراد کو نکالنے اور دیگر ہنگامی خدمات حاصل کرسکتے ہیں۔
’اس شعبے تک پہنچنے کا راستہ آسان نہیں تھا‘
ریسکیو میں شامل خاتون فائر فائٹر کائنات جنید بتاتی ہیں کہ اس شعبے تک پہنچنے کا راستہ آسان نہیں تھا۔
وہ بتاتی ہیں کہ ’بھرتی کے لیے پہلے فزیکل اور تحریری امتحان ہوا، پھر انھیں تربیت کے لیے لاہور بھیجا گیا جہاں چھ سے سات ماہ تک عملی مشقیں، فائر فائٹنگ، ریسکیو اور میڈیکل ایمرجنسی کی ٹریننگ دی جاتی ہے۔‘
وہ کہتی ہیں کہ انھیں اندازہ نہیں تھا کہ یہ فیلڈ اتنی مشکل ہے۔ بعد میں تربیت نے انھیں صرف جسمانی نہیں بلکہ ذہنی طور پر بھی مضبوط بنایا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’جب ہم کسی حادثے پر پہنچتے ہیں تو لوگ خوفزدہ ہوتے ہیں، ہر طرف افراتفری ہوتی ہے۔ ہمیں فوراً فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ پہلے کس کو بچانا ہے اور آگ پر کیسے قابو پانا ہے۔‘
کائنات جنید کو اپنے ابتدائی دنوں کی ایک کارروائی آج بھی یاد ہے۔
وہ بتاتی ہیں کہ ’ہماری پہلی بڑی کارروائی کاشف سینٹر میں لگنے والی آگ تھی، عمارت میں لوگ پھنسے ہوئے تھے، خاندان باہر کھڑے رو رہے تھے اور ہمیں بیک وقت لوگوں کو نکالنا اور آگ بجھانا تھا۔ یہ بہت مشکل لمحہ تھا۔‘
کائنات کے مطابق فائر فائٹنگ میں ’ہم ہمیشہ جوڑی کی صورت میں کام کرتے ہیں۔‘
’یہ ایسا کام نہیں جو کوئی ایک شخص اکیلا کر سکے۔‘
کائنات کہتی ہیں کہ ’ابتدا میں لوگوں کے ردعمل عجیب تھے۔ وہ پوچھتے تھے کہ تم کیسے کر لیتی ہو؟ کرتی بھی ہو یا نہیں؟‘
’مگر جب انھوں نے ہمیں کام کرتے دیکھا تو ان کا اعتماد بدل گیا۔ کئی بار ایسا بھی ہوا صرف فیمیل فائر فائٹرز نے ریسپانس کیا اور آگ بجھائی جس پر لوگوں نے خوشی کا اظہار کیا۔‘
انھوں نے بتایا کہ وہ تین سے چار بڑے ریسکو آپریشن میں شریک ہو چکی ہیں جس میں لیاری میں عمارت گرنے کا آپریشن بھی شامل ہے۔
وہ بتاتی ہیں کہ اس آپریشن میں ملبے سے لاشیں نکالی جا رہی تھیں، عام طور پر خواتین خون اور لاشیں دیکھنا پسند نہیں کرتیں لیکن انھوں نے اس کا بھی سامنا کیا۔
ریسکیو 1122 کے سی ای او عابد جلال شیخ کہتے ہیں کہ ’خواتین کی شمولیت نمائشی قدم نہیں بلکہ پالیسی کا حصہ ہے۔‘
سنہ 2022 سے اب تک صرف کراچی میں 2400 سے زائد آگ لگنے کے واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں، جبکہ رواں سال ہی ایک ہزار سے زیادہ واقعات میں ریسکیو نے کارروائی کی۔
وہ کہتے ہیں کہ ’ان میں سے تقریباً 15 سے 20 فیصد واقعات انتہائی شدت کے ہوتے ہیں، خاص طور پر صنعتی علاقوں میں۔ ہماری تربیت میں مرد و خواتین کے درمیان کوئی فرق نہیں رکھا جاتا۔ ہر اہلکار یکساں تربیت سے گزرتا ہے کیونکہ ایمرجنسی میں جنس نہیں دیکھی جاتی، صرف ذمہ داری دیکھی جاتی ہے۔‘
ریسکیو 1122 میں حکام کے مطابق اس وقت تقریباً 1500 اہلکار ہیں جن میں 96 خواتین شامل ہیں، جو نہ صرف کراچی بلکہ حیدرآباد، لاڑکانہ، میرپورخاص میں بھی خدمات انجام دے رہی ہیں۔
ریسکیو 1122 کے سی ای او عابد جلال شیخ کہتے ہیں کہ ’ہراسانی کے حوالے سے ریسکیو میں خصوصی کمیٹیاں قائم ہیں اور پہلی بار صنفی تشدد سے متعلق ایک ڈیسک بھی قائم کیا گیا ہے تاکہ عام شہریوں کی شکایات پر فوری کارروائی ہو سکے۔‘
ماہرین کے مطابق پاکستان میں خواتین کی لیبر فورس میں شمولیت تقریباً 21 فیصد ہے، جو ہم پلہ ممالک کے مقابلے میں کم ہے۔
ریسکیو سروس کے حکام کا ہدف ہے کہ 2028 تک خواتین کا تناسب 30 فیصد تک بڑھایا جائے اور سروس کو مزید اضلاع تک پھیلایا جائے۔