کویت میں تین امریکی لڑاکا طیارے کس نے اور کیسے تباہ کیے؟

مطالعے کا وقت: 4 منٹ

مشرقِ وسطیٰ میں شدید کشیدگی کی نئی لہر سنیچر کو اس وقت شروع ہوئی جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملے کرنے کا اعلان کیا۔

ان حملوں کے ردِعمل میں نہ صرف ایران نے اسرائیل پر حملہ کیا بلکہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ کے متعدد اتحادیوں پر بھی میزائل اور ڈرون سے حملے کیے۔

سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت، بحرین اور خطے کے دیگر ممالک ایران کے ان حملوں کی مذمت کر رہے ہیں اور تہران کو خبردار کر رہے ہیں کہ وہ اپنے دفاع کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔

ان میں سے متعدد ممالک میں امریکی فوجی اڈے یا اہلکار موجود ہیں۔ ایسے میں پیر کو یہ خبریں چلنا شروع ہوئیں کہ کویت میں تین امریکی طیارے تباہ ہوئے ہیں۔

جنگ کے ماحول میں لوگوں کا گماں یہی تھا کہ شاید یہ طیارے کسی ایرانی حملے میں تباہ ہوئے ہیں، لیکن ایسا نہیں ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے تصدیق کی ہے کہ اس کے تینوں ایف 15 ای طیارے کویت میں ’دوستانہ فائرنگ کے واقعے‘ میں تباہ ہوئے ہیں۔

یہ واقعے کیسے پیش آیا اس کی تفصیلات بعد میں، لیکن پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ کویت کا اس معاملے پر کیا کہنا ہے۔

کویتی حکومت کا مؤقف

کویت کی وزارتِ دفاع نے پیر کو ایک بیان میں متعدد امریکی طیاروں کے تباہ ہونے کی تصدیق کی تھی۔

اس کا ایک بیان میں کہنا تھا کہ اس واقعے میں جہازوں کے عملے کو کوئی نقصان نہیں پہنچا اور انھیں طبی معائنے کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا گیا تھا۔

کویتی وزارتِ دفاع نے مزید کہا تھا کہ اس کی جانب سے اپنے امریکی اتحادی سے طیارے گِرنے کی وجوہات کے حوالے سے تعاون کیا جا رہا ہے۔

تاہم لگتا ہے کہ یہ تحقیقات اب مکمل کرلی گئی ہیں اور سینٹکام نے اس پر ایک تفصیلی بیان جاری کر دیا ہے۔

سینٹکام کا کیا کہنا ہے؟

سینٹکام کا کہنا ہے کہ اس کے تین ایف 15 ایف ای سٹرائیک ایگل طیارے، جو ایران میں آپریشن ایپک فیوری سے متعلق ایک آپریشن میں حصہ لے رہے تھے، کویت میں ’دوستانہ فائرنگ کے واقعے‘ میں گِر کر تباہ ہوئے ہیں۔

سینٹکام کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’لڑائی کے دوران، جس میں ایرانی جہازوں، بیلسٹک مزائلوں اور ڈرونز سے لڑائی بھی شامل تھی، کویت کے فضائی دفاعی نظام نے غلطی سے امریکی فضائیہ کے طیارے مار گرائے۔‘

تاہم سینٹکام کے مطابق اس واقعے میں عملے کے چھ اراکین محفوظ رہے اور ان کی حالت مستحکم ہے۔

سنٹکام نے موجودہ آپریشن میں کویتی دفاعی فورسز کی مدد پر شکریہ بھی ادا کیا ہے۔

ایف 15 سٹرائیک ایگل طیارے کی کیا خصوصیات ہیں؟

امریکی فضائیہ کی ویب سائٹ کے مطابق ایف 15 سٹرائیک ایگل لڑاکا طیارہ فضا سے فضا اور فضا سے زمین پر ہونے والے آپریشن میں حصہ لینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

یہ طیارہ نہ صرف نچلی پروازیں کر سکتا ہے بلکہ ہر موسم میں دن اور رات میں اپنے مشنز سر انجام دے سکتا ہے۔

امریکی فضائیہ کی ویب سائٹ پر موجود معلومات کے مطابق اس لڑاکا طیارے میں طویل فاصلے تک دشمن کو نشانہ بنانے کی صلاحیت ہے اور اس میں اے پی جی 70 ریڈار سسٹم نصب ہے جو زمین پر موجود اہداف کو دور سے پہچان لیتا ہے۔