آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
چاند پر شہر، جسے ’10 سال سے کم عرصے میں مکمل کیا جا سکتا ہے‘
- مصنف, لوئس باروچو
- عہدہ, بی بی سی ورلڈ سروس
- مطالعے کا وقت: 8 منٹ
’چاند پر ایک شہر جسے 10 سال سے بھی کم عرصے میں مکمل کیا جا سکتا ہے،‘ یہ وہ منصوبہ ہے جو حال ہی میں ایلون مسک نے پیش کیا ہے۔
سماجی رابطے کی سائٹ ایکس، ٹیسلا اور سپیس ایکس کے سربراہ اور دنیا کے امیر ترین شخص نے حال ہی میں ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ان کی کمپنی سپیس ایکس نے اپنی توجہ مریخ پر شہر بسانے سے ہٹا کر چاند پر شہر بنانے کی طرف منتقل کر دی ہے۔
لیکن مسک نے ارادہ کیوں بدلا؟ اور ہم اس شمسی شہر کے بارے میں کیا جانتے ہیں؟
مریخ پر چاند کو فوقیت
اس ’شہر‘ کا ابھی تک کوئی باقاعدہ یا تفصیلی نقشہ موجود نہیں بلکہ یہ محض ایک سوچ ہے جسے مسک نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر شیئر کیا ہے۔
انھوں نے ایک مستقل انسانی بستی قائم کرنے کا ذکر کیا ہے جو چاند پر موجود وسائل کا استعمال کرتے ہوئے بتدریج پھیل سکے گی اور یہ سب چاند پر بار بار بھیجے جانے والے راکٹوں کی بدولت ممکن ہوگا۔
اپنی پوسٹ میں مسک نے کہا کہ یہ ہدف ’10 سال سے بھی کم عرصے میں حاصل کیا جا سکتا ہے، جبکہ مریخ کے لیے 20 سال سے زیادہ کا عرصہ درکار ہوگا‘ ۔
مسک نے وضاحت کی کہ مریخ کا سفر صرف اسی صورت میں ممکن ہوتا ہے جب ’سیارے ہر 26 ماہ بعد ایک قطار میں آتے ہیں‘۔
اس کے برعکس، بقول ان کے ’ہم ہر 10 دن بعد چاند کے لیے راکٹ روانہ کر سکتے ہیں اور اس کے سفر کا وقت صرف دو دن ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’اس کا مطلب ہے کہ ہم مریخ کے مقابلے میں چاند پر شہر کی تعمیر کا کام کہیں زیادہ تیزی سے مکمل کر سکتے ہیں۔‘
سپیس ایکس کا مشن اب بھی مریخ پر شہر بسانے کے مسک کے دیرینہ خواب کو پورا کرنا ہے اور انھوں نے ’ایکس‘ پر لکھا کہ وہ ’تقریباً پانچ سے سات سالوں میں ایسا کرنا شروع کر دیں گے‘ لیکن فی الحال ’اولین ترجیح انسانی تہذیب کے مستقبل کو محفوظ بنانا اور چاند تک کا راستہ تیز تر ہے۔‘
مسک کے مداحوں اور فالوورز نے فوری طور پر اس چاند کے شہر کے خاکے بنانا اور شیئر کرنا شروع کر دیے، جن میں سے کچھ نے مسک کے اے آئی (AI) ٹول ’گروک‘ (Grok) کا استعمال کیا۔
مسک کے یہ ریمارکس ’وال سٹریٹ جرنل‘ کی رواں ماہ کی ایک رپورٹ کی بازگشت ہیں، جس میں کہا گیا تھا کہ سپیس ایکس نے سرمایہ کاروں کو بتایا ہے کہ وہ چاند کے مشن کو ترجیح دے گی اور مریخ کا سفر بعد میں کیا جائے گا، جبکہ مارچ 2027 میں چاند پر ایک بغیر انسان کے لینڈنگ کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔
یہ تبدیلی مسک کے مریخ پر طویل مدتی فوکس کے بالکل برعکس ہے۔
پچھلے سال تک وہ یہ کہہ رہے تھے کہ کمپنی 2026 کے آخر تک مریخ پر بغیر انسانوں کے ایک مشن بھیجنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
گذشتہ سال جنوری میں ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ کے جواب میں انھوں نے کہا تھا کہ ’نہیں، ہم سیدھے مریخ جا رہے ہیں۔ چاند صرف توجہ بھٹکانے کا ایک ذریعہ ہے۔‘
تاہم، مسک کی ایک لمبی تاریخ ہے کہ وہ الیکٹرک گاڑیوں اور سیلف ڈرائیونگ ٹیکنالوجی جیسے منصوبوں کے لیے ایسی پرجوش ٹائم لائنز مقرر کردیتے ہیں جو مقررہ وقت پر مکمل نہیں ہو پاتیں۔
یہ ہو گا کیسے؟
برطانیہ کی یونیورسٹی آف سرے میں سپیس ایپلی کیشنز، ایکسپلوریشن اور انسٹرومینٹیشن کے سینیئر لیکچرار ڈاکٹر سنگ وو لم، چاند پر بیس بنانے کے سپیس ایکس کے منصوبے کو انتہائی پُرعزم تو قرار دیتے ہیں، لیکن اسے سائنس فکشن نہیں سمجھتے۔
انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ بنیادی تصور یعنی چاند کی مٹی کو آکسیجن، پانی اور تعمیراتی مواد بنانے کے لیے استعمال کرنا ان صنعتی طریقوں پر مبنی ہے جو ہم پہلے سے زمین پر استعمال ہو رہے ہیں۔
ڈاکٹر لم وضاحت کرتے ہیں کہ اصل چیلنج یہ ہے کہ آیا یہ سسٹم چاند کے کٹھن ماحول میں قابلِ اعتماد طریقے سے کام کر سکتا ہے، جس میں انتہائی درجہ حرارت، باریک گرد و غبار، کم کششِ ثقل اور محدود بجلی جیسے عوامل شامل ہیں۔
انھوں نے مزید کہا کہ ان پر بھروسہ کرنے سے پہلے ضروری ہے کہ چاند کی سطح پر ان کا مناسب تجربہ کیا جائے۔
وہ لکھتے ہیں کہ ’سرکاری خلائی ادارے عام طور پر احتیاط سے کام لیتے ہیں کیونکہ وہ عوامی فنڈنگ اور طویل سیاسی چکروں پر منحصر ہوتے ہیں، جس سے نئے آئیڈیاز کی جانچ کی رفتار محدود ہو جاتی ہے۔‘
ان کے بقول ’سپیس ایکس مختلف انداز میں کام کرتی ہے۔ اگر اس کا نیا راکٹ سسٹم منصوبہ بندی کے مطابق کام کرتا ہے، تو یہ چاند پر آلات زیادہ کثرت سے اور کم قیمت پر بھیج سکے گا، جس سے ترقی کی رفتار تیز ہو جائے گی۔‘
انڈیا کی جی ڈی گوئنکا یونیورسٹی میں سینٹر فار ایرو سپیس اینڈ انرجی سٹڈیز کے ڈائریکٹر ڈاکٹر اوگر گون کا کہنا ہے کہ ابتدائی انسانی بستیوں کے لیے چاند کو مریخ پر ایک بڑی برتری حاصل ہے: ’تیز رفتار رسد اور ہنگامی ردِعمل۔‘
انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اگر کچھ غلط ہو جاتا ہے اور آپ کی وہاں بستی موجود ہے، تو آپ فوری طور پر دوسرا مشن بھیج سکتے ہیں۔‘
انھوں نے نشاندہی کی کہ زمین سے یہ سفر عام طور پر دو سے تین دن لیتا ہے۔
اس کے باوجود، ڈاکٹر لم خبردار کرتے ہیں کہ ایک حقیقی معنوں میں خود کفیل چاند کا شہر اب بھی طویل مدتی ہدف ہے۔
’زمین سے غذائی اجزا لائے بغیر خوراک اگانا اور ایک ایسا نظام بنانا جہاں ہر چیز ری سائیکل ہو، کہیں زیادہ پیچیدہ کام ہے۔ اس میں ممکنہ طور پر دہائیاں لگیں گی۔ لہٰذا یہ تصور ممکن تو ہے لیکن یہ مرحلہ وار ہوگا، ایک دم نہیں۔‘
امریکی ریاست انڈیانا کی یونیورسٹی آف نوٹری ڈیم میں سول اینڈ انوائرمنٹل انجینئرنگ اور ارتھ سائنسز کے پروفیسر کائیو نیل، جو چاند پر انسانی مہم جوئی پر تحقیق کرتے ہیں، اس بات سے اتفاق کرتے ہیں۔
انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ جب تک ہم وسائل کی تلاش کی ایک جامع مہم نہیں چلاتے جس سے یہ ثابت ہو کہ چاند پر معاشی طور پر نکالنے کے قابل وسائل موجود ہیں، ہمیں اس وقت تک یہ اندازہ نہیں ہو سکتا کہ خود رو شہر کہاں بسایا جائے جہاں وسائل تک رسائی اور ان کا حصول ممکن ہو۔
ڈاکٹر لم کا ماننا ہے کہ یہ بات حقیقت پسندانہ ہے کہ اگلے 10 سالوں میں ایک چھوٹی قمری چوکی اپنی ضرورت کی کچھ آکسیجن تیار کرنا اور ممکنہ طور پر پانی نکالنا شروع کر دے۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ ایک بڑی کامیابی ہوگی۔
ناسا کے سابق خلائی مسافر اور ایم آئی ٹی میں ایروناٹکس کے پروفیسر جیفری ہوفمین کا کہنا ہے کہ ’اگر سپیس ایکس اور بلیو اوریجن (ایمیزون کے بانی جیف بیزوس کی کمپنی) کامیابی سے قمری لینڈر تیار کر لیتے ہیں، تو ہم اب ایک قمری بیس کے لیے لاجسٹک سپلائی کا انتظام کر سکتے ہیں۔‘
انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’لیکن مریخ ابھی بہت دور ہے۔‘
تاہم پروفیسر ہوفمین کا کہنا ہے کہ پائیدار قمری بستیوں کی تعمیر سے حاصل ہونے والا تجربہ بالآخر مریخ پر بیس بنانے کے لیے استعمال کیا جا سکے گا۔
ڈاکٹر گون بھی اس سے اتفاق کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’ایک بار چاند پر بیس قائم ہو جائے تو مریخ تک پہنچنا بہت آسان ہو جائے گا کیونکہ چاند ایک سنگِ میل کے طور پر کام کر سکتا ہے۔‘
مقابلے میں اضافہ
مسک کے یہ تبصرے ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکہ کو اس دہائی میں انسانوں کو دوبارہ چاند پر بھیجنے کے لیے چین کی طرف سے بڑھتے ہوئے مقابلے کا سامنا ہے۔
سنہ 1972 میں ناسا کے اپالو 17 مشن کے بعد سے اب تک کسی نے چاند کی سطح پر قدم نہیں رکھا ہے۔
مسک نے حال ہی میں اعلان کیا ہے کہ سپیس ایکس نے مصنوعی ذہانت کی کمپنی ایکس اے آئی (xAI) کو حاصل کر لیا ہے، جس کی قیادت بھی وہ خود کرتے ہیں۔
اس سودے میں راکٹ اور سیٹلائٹ کمپنی کی مالیت 1 ٹریلین ڈالر اور اے آئی فرم کی مالیت 250 ارب ڈالر لگائی گئی ہے۔
نیویارک میں بی بی سی کی نامہ نگار مشیل فلوری کا کہنا ہے کہ یہ اعلان خلا میں ڈیٹا سینٹرز قائم کرنے کے ان کے عزائم کو بھی تقویت دے سکتا ہے کیونکہ انھیں اے آئی کمپیوٹنگ کی بڑی مقدار کو سنبھالنے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
نامہ نگار کا مزید کہنا ہے کہ سپیس ایکس کے سب سے بڑے شیئر ہولڈر ہونے کے ناطے، مسک سٹاک مارکیٹ میں ممکنہ لسٹنگ سے پہلے اپنے کاروبار کو منظم کر رہے ہیں، کیونکہ اطلاعات کے مطابق وہ سپیس ایکس کو پبلک کرنے (عوام کے لیے شیئرز جاری کرنے) پر غور کر رہے ہیں۔
اس اقدام سے 50 ارب ڈالر تک جمع ہو سکتے ہیں، جو ممکنہ طور پر تاریخ کی سب سے بڑی پبلک آفرنگ ہوگی۔
گذشتہ ماہ مسک نے خلا میں دس لاکھ ڈیٹا سینٹرز قائم کرنے کے منصوبوں کا اعلان کیا تھا، یہ ایک ایسا پروگرام ہے جس کے بارے میں انھیں امید ہے کہ اے آئی کے بڑھتے ہوئے استعمال کی وجہ سے زمین پر موجود سہولیات کی بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے میں مدد ملے گی۔
تاہم کچھ ماہرین اب بھی شکوک و شبہات کا شکار ہیں، وہ خلا کے ویکیوم میں گرافکس پروسیسنگ یونٹس (GPUs) کو ٹھنڈا کرنے کے لیے ہوا کی کمی کو ایک بڑے چیلنج کے طور پر پیش کرتے ہیں، جو اے آئی اور ڈیٹا سے متعلق بھاری کاموں میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔
گذشتہ پیر کو مسک نے ایکس پر ایک صارف کو جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس سال سپیس ایکس کی آمدنی میں ناسا کا حصہ 5 فیصد سے بھی کم ہوگا۔
سپیس ایکس ناسا کے آرٹیمس مون پروگرام میں ایک اہم کانٹریکٹر ہے، جسے خلانوردوں کو چاند پر اتارنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔