آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو, کویت میں متعدد امریکی جنگی طیارے گِر کر تباہ، ایران کا امریکہ سے مذاکرات سے انکار

کویت کی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ ’پیر کی صبح متعدد امریکی جنگی طیارے گِر کر تباہ ہوئے ہیں‘ اور اُن پر سوار پائلٹس محفوظ رہے ہیں۔ دوسری جانب ایران کی جوابی کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے اور پیر کے روز اسرائیل اور خلیجی شہروں بشمول دبئی، ابوظہبی، دوحہ اور کویت پر میزائل اور ڈرونز داغے گئے ہیں جبکہ ایرانی رہنما علی لاریجانی نے مذاکرات کی اطلاعات کو مسترد کیا ہے۔

خلاصہ

  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف فوجی آپریشن اس وقت تک جاری رہے گا جب تک 'تمام اہداف حاصل نہیں کر لیے جاتے۔' جبکہ انھیں مزید امریکی شہریوں کی ہلاکت کا خدشہ ہے
  • فرانس، جرمنی اور برطانیہ نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں اعلان کیا ہے کہ وہ خلیج فارس میں اپنے اور اپنے اتحادیوں کے مفادات کا دفاع کرنے کے لیے تیار ہیں اور اگر ضرورت پڑی تو ایران کے خلاف دفاعی کارروائی بھی کرنے کا پورا حق رکھتے ہیں۔
  • برطانوی وزیرِاعظم کیئر سٹارمر نے کہا ہے کہ امریکہ برطانیہ کے فوجی اڈوں کو دفاعی کارروائی کے لیے استعمال کرسکتا ہے
  • ایرانی رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کی امریکی و اسرائیلی حملوں میں ہلاکت کے بعد ملک بھر میں 40 روزہ سوگ اور سات دن کی عام تعطیل کا اعلان کیا گیا ہے۔ ایران نے مقبوضہ علاقوں اور امریکی اڈوں پر تاریخ کی سب سے 'تباہ کن' فوجی کارروائی شروع کرنے کا عندیہ دیا ہے
  • اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی دفاعی قیادت کو ختم کر دیا گیا ہے اور مارے جانے والوں میں ایرانی وزیر دفاع عزیز نصیر زادہ، سکیورٹی امور کے مشیر علی شامخانی اور پاسدران انقلاب کے کمانڈر محمد پاکپور بھی شامل ہیں

لائیو کوریج

  1. قبرص میں برطانوی فوجی اڈے کو ’ایرانی ڈرون نے نشانہ بنایا‘

    قبرص کے صدر نکوس کرسٹوڈولائیڈس کا کہنا ہے کہ جنوبی قبرص میں برطانوی فوجی اڈے پر ایرانی ڈرون حملہ کیا گیا۔

    ان کے مطابق دیر رات کے وقت ایران کے بغیر پائلٹ والے شاہد ڈرون نے ایکروتیری میں فوجی اڈے کو نشانہ بنایا جس میں معمولی نقصان ہوا۔

    صدر نے کہا ہے کہ وہ یورپی رہنماؤں اور دیگر ممالک کے رہنماؤں کے ساتھ ’مسلسل رابطے‘ میں ہیں۔ وہ مزید کہتے ہیں کہ قبرص ’کسی بھی فوجی کارروائی کا حصہ بننے کا ارادہ نہیں رکھتا۔‘

    یہ بیان اس تازہ اعلان کے بعد سامنے آیا ہے جو برطانوی وزارتِ دفاع کی جانب سے جاری کیا گیا تھا۔ اس میں کہا گیا تھا کہ ایکروتیری اڈے سے اہلکاروں کے اہلِ خانہ کا انخلا کیا جا رہا ہے۔

  2. ’گذشتہ 48 گھنٹوں میں ایران میں موجود 650 پاکستانی شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا‘

    ایران میں تعینات پاکستانی سفیر مدثر ٹیپو نے کہا ہے کہ گذشتہ 48 گھنٹوں کے دوران ایران بھر سے تقریباً 650 پاکستانی شہریوں کو محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ محفوظ مقام پر منتقل کیے گئے پاکستانیوں میں زیادہ تر طلبہ ہیں۔

    پاکستانی سفیر کے مطابق ’ہم ہر اُس پاکستانی شہری کی رہنمائی کر رہے ہیں اور انھیں سہولت فراہم کر رہے ہیں جو پیچیدہ سکیورٹی صورتحال کے دوران مختلف مسائل پر ہماری مشاورت چاہتا ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’ہم ایرانی حکومت، بالخصوص ایران کے بارڈر حکام اور آذربائیجان کے بارڈر حکام کے شکر گزار ہیں جنھوں نے ایک پیچیدہ آپریشن کی تکمیل میں ہمارے ساتھ بھرپور تعاون کیا۔‘

  3. ایران میں حملوں کے نتیجے میں 555 افراد ہلاک: ہلال احمر

    ایرانی ہلال احمر کا کہنا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے 130 سے زیادہ شہروں میں حملوں کے بعد 555 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

  4. امریکی و اسرائیلی حملوں میں ایران میں 555 افراد ہلاک ہوئے ہیں: ہلال احمر

    ایران میں ہلال احمر کا کہنا ہے کہ امریکی و اسرائیلی حملوں کے آغاز کے بعد سے اب تک ایران میں 555 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

    ہلال احمر کے مطابق امریکی و اسرائیلی حملوں میں ایران کے 130 سے زیادہ شہروں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

  5. حزب اللہ کے اسرائیل پر تازہ حملے جنھوں نے لبنان کو مشکل میں ڈال دیا ہے, لينا سنجاب، بیروت سے نامہ نگار برائے مشرقِ وسطیٰ

    اسرائیل پر حزب اللہ کے حالیہ حملوں کو مسلح گروہ اور لبنان دونوں کے لیے خودکشی کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔

    یہ کارروائی ملک کو اسرائیل کے ساتھ ایک ایسی جنگ میں گھسیٹ رہی ہے جس ہار لبنان کی ہو گی۔

    ملک ابھی تک اس طویل جنگ کے اثرات سے باہر نہیں آیا ہے جس نے 18 ماہ قبل حزب اللہ کو اپاہج کر دیا تھا، اور ان کے بہت سے مضبوط اڈے تباہ کر دیے تھے۔

    یہاں کے لوگ محسوس کرتے ہیں کہ حزب اللہ نے ایرانی مفادات کو قومی مفادات پر ترجیح دی ہے۔ اس کے نتیجے میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والے لوگ حزب اللہ کے پیروکار ہیں جن کے گھر، گاؤں اور قصبے نشانے پر ہیں۔

    ایک بار پھر، وہ اپنے گھروں سے بھاگنے اور سڑکوں پر پناہ لینے پر مجبور ہیں۔

  6. ایران کے خلاف فوجی کارروائی میں شامل نہیں ہوں گے: جرمن وزیر خارجہ

    جرمنی کا کہنا ہے کہ اس کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائی میں حصہ نہیں لیا جائے گا تاہم وہ اردن اور عراق کے فوجی اڈوں پر اپنے فوجیوں کے دفاع پر غور کرے گا۔

    جرمن وزیر خارجہ نے سرکاری ریڈیو کو بتایا کہ وفاقی حکومت کا اس تنازع میں شمولیت کا ’کوئی ارادہ نہیں۔‘ انھوں نے کہا کہ ’ہمیں پاس ضروری فوجی وسائل نہیں ہیں۔‘

    تاہم ان کا کہنا ہے کہ یہ ممکن ہے کہ حملے میں صورت میں جرمن فوجی اپنا دفاع کریں۔

    جرمن مسلح افواج کے مطابق جن اڈوں پر جرمن فوجی تعینات ہیں وہاں بھی حملے کیے گئے ہیں۔

    گذشتہ دنوں عراق کے اربیل اور اردن کے الازراق اڈوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

    جرمنی کی سرکاری ایجنسی کے مطابق وہاں فوجی محفوظ رہے تھے۔

  7. سعودی عرب میں ایرانی ڈرون حملے کے بعد سب سے بڑی آئل ریفائنری بند

    بلومبرگ کے مطابق سعودی عرب میں واقع راس تنورہ آئل ریفائنری کے قریب ایرانی ڈرون حملے کے بعد آرامکو نے وہاں اپنی کاروباری سرگرمیاں معطل کر دی ہیں۔

    یہ سعودی عرب میں موجود سب سے بڑی ریفائنری ہے اور یومیہ ساڑھے پانچ لاکھ بیرل پراسیس کر سکتی ہے۔

    بلومبرگ نے حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ خلیج فارس میں واقع پلانٹ پیر کی صبح بند کیا گیا اور آرامکو کی جانب سے نقصان کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ مقام پر آگ کو قابو کر لیا گیا ہے۔

    ادھر روئٹرز کے مطابق آرامکو نے اس واقعے پر تبصرہ نہیں کیا تاہم شعبے کے ذرائع کا کہنا ہے کہ پلانٹ کو حفاظتی اقدام کے طور پر بند کیا گیا ہے۔

    خیال رہے کہ پیر کو عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

    2019 میں بھی ایران نے سعودی عرب میں تیل کی تنصیبات پر حملے کیے تھے۔

  8. کویت میں متعدد امریکی جنگی طیارے گِر کر تباہ: وزارت دفاع

    کویت کی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ پیر کی صبح ملک میں متعدد امریکی جنگی طیارے گِر کر تباہ ہوئے ہیں۔

    اس کا کہنا ہے کہ جہازوں کے عملے کو کوئی نقصان نہیں پہنچا اور انھیں طبی معائنے کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

    کویتی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ اس کی جانب سے اپنے امریکی اتحادی سے طیارے گِرنے کی وجوہات کے حوالے سے تعاون کیا جا رہا ہے۔

    اس کے مطابق طیارے گِرنے کی وجوہات کے بارے میں تحقیقات جاری ہیں۔

    امریکی چینل سی این این کے مطابق گذشتہ روز کویت میں واقع علی السلیم ہوائی اڈے کے قریب ایف 15 جنگی طیارہ گِر کر تباہ ہوا تھا۔

  9. آیت اللہ خامنہ ای کی ہلاکت کے خلاف انڈیا کے زیرانتظام کشمیر میں احتجاجی مظاہروں کے بعد کرفیو نافذ، موبائل انٹرنیٹ سروسز معطل, ریاض مسرور، بی بی سی اردو، سری نگر

    سنیچر کی صبح سحری کے وقت جب تہران میں ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کی امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملے میں ہلاکت کی تصدیق ہو گئی تو انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے سرینگر اور دوسرے کئی اضلاع میں لوگ سینہ کوبی کرتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے۔

    یہ مظاہرے شیعہ اکثریتی ضلع کارگل کے علاوہ کشمیر کے سرینگر، پلوامہ، بارہمولہ، پانپور اور دوسرے قصبوں میں ہوئے، جہاں سے لوگوں کی بڑی تعداد سرینگر کے تجارتی مرکز لال چوک پہنچی، اور یہاں تاریخی گھنٹا گھر کے سامنے ایران کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔

    مظاہروں میں سُنی مسلمانوں کی بھی اچھی خاصی تعداد موجود تھی۔ گھنٹا گھر کے سامنے ہزاروں شعیہ اور سُنی مسلمانوں نے ایک ساتھ نماز ظہر ادا کی۔ لوگوں نے خامنہ ای کے بڑے بڑے پوسٹرز اور سیاہ پرچم اُٹھا رکھے تھے۔ امریکہ اور اسرائیل کے خلاف شدید نعرے بازی کے دوران نوجوانوں نے خامنہ ای کی یاد میں کشمیری زبان میں لکھا گیا مرثیہ بھی پڑھا۔

    حالانکہ یہ مظاہرے پرامن طور پر ہی منتشر ہوگئے، تاہم وزیرتعلیم سکینہ یتو نے پیر اور منگل کے روز تمام تعلیمی اداروں میں چھٹی کا اعلان کیا اور سبھی امتحانات اور انٹرویوز کو ملتوی کر دیا گیا۔

    وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے ایکس پر اپنے پیغام میں پولیس اور انتظامیہ سے اپیل کی کہ سوگوار عوام کو اپنے جذبات کا اظہار کرنے کی اجازت دی جانی چاہیے، اور ان کے خلاف طاقت کا استعمال نہیں ہونا چاہیے۔ انھوں نے لوگوں سے بھی اپیل کی کہ مظاہروں کے دوران کسی بھی طرح کی بدامنی سے گریز کیا جائے۔

    سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے اپنے تفصیلی ردعمل میں کہا کہ ’آج کا دن تاریخ کا سب سے رنجیدہ اور شرمناک دن ہے کیونکہ ایک طرف امریکہ اور اسرائیل ایران کے مقبول رہنما آیت اللہ خامنہ ای کے قتل پر جشن منا رہے ہیں اور دوسری طرف کئی مسلم ممالک نے ضمیر پر مفاد کو ترجیح دی ہے۔ تاریخ اُن لوگوں کو فراموش نہیں کرے گی جنھوں نے حق کی لڑائی لڑی اور مظلوموں کی مدد کی۔ خدا ایرانیوں کو حوصلہ دے اور ظلم اور ناانصافی پر انھیں فتح سے نوازے۔‘

    ایک درجن سے زیادہ شعیہ اور سُنی جماعتوں کے اتحاد ’متحدہ مجلس علما‘ کے سربراہ میرواعظ عمرفاروق نے پرامن مظاہروں کی اپیل کرتے ہوئے پیر کے روز عام ہڑتال اور پرامن مظاہروں کی اپیل کی ہے۔ انھوں نے کہا، ’یہ وقت ہے کہ مسلم اُمت مسلکی اختلافات سے اوپر اُٹھ کر اتحاد کا مظاہرہ کرے۔ ہم لوگوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ یہ ہڑتال کرتے ہوئے اتحاد، احترام اور مکمل امن کا مظاہرہ کریں۔‘

    تاہم انتظامیہ نے پیر کے روز کشمیر کے سبھی اضلاع میں ’سکیورٹی پابندیوں‘ کا اعلان کیا ہے جس کا مطلب کرفیو ہوتا ہے۔ کئی برسوں سے ایسے موقعوں پر حکومت کرفیو لفظ کا استعمال نہیں کرتی۔ موبائل فون انٹرنیٹ کی سروسز بھی معطل ہیں۔

    آیت اللہ خامنہ ای کی ہلاکت پر اس قدر شدید عوامی ردعمل کی وجہ جاننے کے لیے ہمیں 46 برس پیچھے جانا پڑے گا۔

    15 منٹ کی تقریر نے خامنہ ای کو کشمیریوں کا ہیرو بنا دیا‘

    1979 میں ہزاروں میل دُور ایران میں آئے انقلاب اور اس کے نقیب امام خمینی کے متعلق کشمیر کے لوگ صرف اخباروں کی سرخیوں کے ذریعہ متعارف تھے۔ لیکن انقلاب کے ایک سال بعد خمینی نے اپنے خاص معتمدین کو دنیا کے کئی علاقوں میں بھیجا۔ اُن کے دست راست علی خامنہ ای اسی سلسلے میں1980 کے دوران سرینگر پہنچے۔

    یہاں لوگوں کی بڑی تعداد نے ایئرپورٹ پر ان کا استقبال کیا اور اُس وقت کے میرواعظ محمد فاروق (میرواعظ عمر کے والد) کی دعوت پر وہ جمعہ کے روز تاریخی جامع مسجد پہنچے، جہاں انھوں نے 15 منٹ کی تقریر کے دوران مسلکی اتحاد پر زور دیا، امام خمینی کا تعارف کرایا اور انقلاب کے اہداف اور مقاصد بیان کیے۔

    اس دورے کی روداد معروف شیعہ دانشور اور مورخ قلبِ حسین رضوی کشمیری نے اپنی خودنوشتہ سوانح میں درج کی ہے۔

    قلبِ حسین کا 2015 میں انتقال ہوگیا ہے، تاہم ان کی سوانح کشمیر کے سبھی حلقوں میں مقبول ہے۔ وہ لکھتے ہیں، ’فقط 15 منٹ کی تقریر نے خامنہ ای کو کشمیریوں کا ہیرو بنا دیا۔ انھوں نے نہ صرف اتحاد کی اہمیت پر زور دیا بلکہ ایک سُنی مسجد میں جاکر سُنی امام کے پیچھے نماز ادا کی۔ اُس وقت تک شیعہ اور سنی ایک دوسرے کی مساجد میں نماز نہیں ادا کرتے تھے۔ انھوں نے مختصر دورے کے دوران مسلکی رواداری اور بھائی چارے کی ایسی روایت قائم کی جو اب بھی قائم ہے۔‘

    واضح رہے خامنہ ای نے یہ تقریر فارسی میں کی تھی، جس کا بعد میں آغا سید محمد حسین نے کشمیری میں ترجمہ پڑھا تھا۔

    رضوی کے مطابق، خامنہ ای کی آمد سے چند روز قبل انھوں نے دیگر نوجوانوں کے ساتھ مل کر ایک گاڑی پر لاؤڈ سپیکر لگایا اور سرینگر کی بستیوں میں اُن کی آمد کا اعلان کرتے ہوئے لوگوں سے جامع مسجد پہنچنے کی تلقین کی۔

    خامنہ ای جب سرینگر پہنچے تو گاڑیوں کا ایک طویل کاروان ان کے پیچھے تھا، لیکن جامع مسجد میں ان کی مختصر تقریر ایرانی قیادت اور کشمیریوں کے درمیان جذباتی تعلق کی بنیاد بن گئی۔

    مذہبی، روحانی اور ثقافتی تعلق

    سرینگر کے کئی علاقوں اور بڈگام کی بیشتر بستیوں میں ایران کے رہبر اعلیٰ کے ادارے کو خاص اہمیت حاصل ہے اور یہاں کی شیعہ آبادی عقیدے اور عام زندگی کے مسائل سے متعلق اسی ادارے کو حکم مانتی ہے۔

    بڈگام کے ایک دانشور سید سبط حسن کہتے ہیں: ’خامنہ ای ہمارے لیے کوئی غیرملکی حکمران نہیں، بلکہ ولایت فقیہہ تھے، جس کا مطلب عبادت، تجارت، شادی بیاہ اور تجہیز و تکفین تک کے سبھی معاملات میں ان کی ہی ہدایت پر عمل ہوتا تھا۔ اس لحاظ سے یہ قتل ہمیں یتیم کرنے کے مترادف ہے۔‘

    ایران اور کشمیر کے درمیان روحانی تعلق کی تاریخ وادی میں شعیہ نفوذ سے بہت پرانی ہے۔ چودہویں صدی میں وادی آنے والے ایرانی صوفی بزرگ علما سید شرف الدین بلبل شاہ اور میرسید علی ہمدانی کو کشمیر میں اسلام کے بانیوں کی حیثیت حاصل ہے۔ سید علی ہمدانی کے ساتھ جو 700 ایرانی سادات آئے تھے، وہ پیپر ماشی، شال بافی، قالین بافی، سنگ تراشی، شیشہ گری اور دیگر درجنوں دستکاریوں کے ماہر تھے۔ ان ہی کی وجہ سے کشمیریوں نے ان سبھی دستکاریوں پر مہارت حاصل کی اور دستکاری آج بھی کشمیری معیشت کا اہم حصہ ہے۔

    ایران کے ساتھ ثقافتی تعلق کی ایک اور وجہ فارسی زبان ہے۔ اُنیسویں صدی تک کشمیر کی سرکاری زبان فارسی تھی، اور بعد میں ڈوگرہ مہاراجہ نے ہندووں کے اصرار پر اسے بدل کر اُردو کو سرکاری زبان بنایا تھا۔

    کشمیر کے رہنے والے شاعر ملا طاہر غنی کشمیری فارسی کے عالمی شہرت یافتہ شاعر گزرے ہیں جو ایران کے ادبی حلقوں میں کافی مقبول ہوئے۔ ان کی وجہ سے بڑی تعداد میں ایران کے ادیب اور شاعر کشمیر آئے تھے۔ جن ایرانی شعرا کا انتقال کشمیر میں ہوا، ان کے لیے سرینگر کے ڈل گیٹ علاقے میں ایک مخصوص قبرستان وقف کیا گیا تھا، جو ’مزارِ شعرا‘ کے نام سے مشہور ہے۔

    ’خُمینی نے کہا تھا فرانس نے نکال دیا تو کشمیر جاؤں گا‘

    کیا امام خمینی کے اجداد کشمیری تھے؟ اس سوال پر کشمیر کے ادبی اور دانشور حلقوں میں دہائیوں سے بحث جاری ہے۔

    اس سلسلے میں بڈگام کے شعیہ رہنما آغا سید یوسف موسوی اور خمینی کے درمیان خط و کتابت کا حوالہ دیا جاتا ہے جو 1960 اور 1970 کی دہائیوں میں خمینی کی عراق میں جلاوطنی کے دوران ہوئی تھی۔ سید یوسف کے بیٹے فضل اللہ جو اُن دنوں نجف میں زیرتعلیم تھے، نے دونوں کے درمیان قاصد کا کردار ادا کیا تھا۔ سید یوسف کے ایک اور بیٹے سید باقر کی کتاب ’تجلیات‘ کے مطابق 1978 میں خمینی فرانس کے دارالحکومت پیرس میں تھے کہ ایک صحافی نے انھیں پوچھا کہ اگر فرانس نے انھیں مزید پناہ دینے سے انکار کر دیا تو وہ کہاں جائیں گے، تو خمینی نے جواب دیا، ’فرانس نے نکال دیا تو کشمیر جاؤں گا، کیونکہ عراق میں قیام کے دوران ہی مجھے سید یوسف نے کشمیر آنے کی دعوت دی تھی۔‘

    اس کتاب میں درج ایک اور خط کے مطابق خمینی نے لکھا ہے کہ ’میری تمنا ہے کہ کشمیر جاؤں کیونکہ وہ میری آبائی سرزمین ہے۔‘

    اسی بیان کی وجہ سے کئی حلقے سمجھتے ہیں کہ خمینی دراصل کشمیری تھے، تاہم ابھی تک اس بارے میں کوئی حتمی تاریخی شواہد سامنے نہیں آئے ہیں۔

  10. ایران پر حملے کے لیے امریکہ پر دباؤ نہیں ڈالا: سعودی ترجمان

    واشنگٹن میں سعودی سفارتخانے کے ترجمان فہد ناظر نے اخبار واشنگٹن پوسٹ کی اس خبر کی تردید کی ہے جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ سعودی عرب نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جنگ شروع کرنے پر اُکسایا۔

    نذیر نے ایکس پر کہا کہ سعودی عرب نے ہمیشہ ایران کے ساتھ سفارتی کوششوں کے ذریعے معاہدہ کرنے کی حمایت کی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ رابطوں کے دوران ان پر کوئی دوسری پالیسی اپنانے کے لیے دباؤ نہیں ڈالا گیا۔

    واشنگٹن پوسٹ کی خبر میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسرائیل اور سعودی عرب نے کئی ہفتوں تک ایران پر حملے کے لیے لابی کی تھی۔

  11. ہم امریکہ کے ساتھ مذاکرات نہیں کریں گے: علی لاریجانی

    ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری علی لاریجانی نے ان اطلاعات کو مسترد کر دیا ہے کہ ان کا ملک امریکہ کے ساتھ مذاکرات کرنا چاہتا ہے۔

    امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ایران ’عمان کی ثالثی میں امریکہ کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنا چاہتا ہے۔‘ اس حوالے سے علی لاریجانی نے سوشل میڈیا پر اپنے ایکس اکاؤنٹ پر لکھا: ’ہم امریکہ کے ساتھ مذاکرات نہیں کریں گے۔‘

    اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دی اٹلانٹک سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ تہران نے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے آمادگی کے آثار ظاہر کیے ہیں۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ’وہ بات کرنا چاہتے ہیں اور میں بات کرنے پر راضی ہو گیا ہوں، اس لیے میں ان سے بات کروں گا۔ انھیں یہ کام جلد کرنا چاہیے تھا۔‘

  12. بیروت اور جنوبی لبنان پر اسرائیلی حملوں میں 31 افراد ہلاک: لبنانی وزارتِ صحت

    لبنان کی وزارت صحت کے مطابق بیروت اور جنوبی لبنان پر اسرائیلی حملوں میں 31 افراد ہلاک اور 149 زخمی ہوئے ہیں۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ ابتدائی تعداد ہے۔

    اس سے قبل اسرائیلی فوج نے کہا تھا کہ اس نے لبنان میں حزب اللہ کے اہداف پر نئی کارروائیوں کا آغاز کیا ہے۔

    اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں کہا کہ جن اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے ان میں لبنان کے کئی حصوں میں موجود ہتھیاروں کے ذخائر اور دیگر انفراسٹرکچر شامل ہیں۔

    ان حملوں سے قبل اسرائیلی فوج کی جانب سے لبنان کے 50 سے زائد دیہاتوں کے رہائشیوں کو ’اپنی حفاظت کے لیے‘ علاقوں کو خالی کر دینے کا مشورہ دیا تھا۔

  13. عراق کے اربیل ایئرپورٹ کے قریب تین ڈرونز مار گرائے گئے

    روئٹرز نے عسکری ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ عراق کے اربیل ایئرپورٹ کے قریب تین مسلح ڈرونز کو مار گرایا گیا ہے۔

    اس ہوائی اڈے پر امریکی دستے تعینات ہیں۔

    اے ایف پی نے اس سے قبل اڈے کے قریب دھماکوں کی آوازیں سنی تھیں۔

    گذشتہ دنوں بھی امریکہ نے اس اڈے کے قریب ڈرون حملوں کو ناکام بنایا تھا۔

  14. پاکستان میں امریکی ویزے کے تمام انٹرویوز منسوخ

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے کی جانب سے آگاہ کیا گیا ہے کہ آج (دو مارچ) کے لیے شیڈول تمام ویزا انٹرویوز منسوخ کر دیے گئے ہیں۔

    سفارتخانے کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’امریکن سٹیزن سروسز اور سفارتخانوں اور قونصل خانوں میں امریکی ویزا کے حصول کے لیے تمام انٹرویوز کو آج کے دن کے لیے منسوخ کر دیا گیا ہے۔‘

  15. قبرص میں ہونے والے ڈرون حملے میں برطانوی فضائیہ کے اڈے کو معمولی نقصان پہنچا ہے: برطانوی وزارتِ دفاع, فرینک گارڈنر، نامہ نگار برائے سکیورٹی امور

    برطانیہ کی وزارت دفاع نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ گذشتہ رات قبرص میں رائل ایئر فورس کے اڈے پر ہونے والے ڈرون حملے میں ایئر بیس کو معمولی نقصان پہنچا ہے۔

    وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ آپریشن معمول کے مطابق جاری ہیں۔

    انھوں نے ان اطلاعات کی بھی تردید کی ہے کہ کچھ عملے کو قبرص سے واپس بھیجا جا سکتا ہے۔

    ڈرون کہاں سے فائر کیا گیا اس بارے میں تحقیقات جاری ہیں۔

  16. کراچی میں مشتعل افراد کی امریکی قونصل خانے پر توڑ پھوڑ کے دوران کیا ہوا؟

    ایرانی رہبر اعلی علی خامنہ ای کی ہلاکت کی تصدیق کے بعد پاکستان کے شہر کراچی میں مشتعل مظاہرین نے امریکی قونصل خانے میں توڑ پھوڑ کی اور اس کے استقبالیہ کو نذر آتش کرنے کی کوشش کی گئی۔

  17. بریکنگ, کویت میں امریکی سفارتخانے کے قریب دھواں اُٹھتے ہوئے دیکھا گیا

    اے ایف پی اور روئٹرز کے مطابق کویت میں امریکی سفارتخانے کے قریب دھواں اُٹھتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔

    روئٹرز کے مطابق اس مقام پر فائر فائٹرز اور ایمبولینسز دیکھی گئی ہیں۔

    امریکی سفارتخانے نے اپنی ویب سائٹ پر لوگوں کو یہ ہدایت جاری کی ہے کہ ’سفارتخانے کی طرف نہ آئیں۔‘

    ’اپنی رہائش گاہ پر سب سے نچلی منزل پر پناہ لیں اور کھڑکیوں سے دور رہیں۔ باہر مت نکلیں۔‘

    امریکہ نے کویت میں اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت دی ہے۔ ’پناہ گاہوں میں جائیں، حملے کی صورت میں سکیورٹی پلان پر نظر ثانی کریں اور مستقبل میں اضافی حملوں کے بارے میں چوکنا رہیں۔‘

  18. ایران کی طرف سے حملوں کا نیا سلسلہ: بحرین، دوحہ اور دبئی میں دھماکوں کی اطلاعات

    بحران کے دارالحکومت منامہ، دبئی، ابو ظہبی اور دوحہ میں پیر کی صبح بھی دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔

    اے ایف پی کے مطابق عراق کے اربیل ایئر پورٹ کے قریب کم از کم دو ڈرون حملوں کو ناکام بنایا گیا۔

    جبکہ سی این این کے مطابق دبئی میں لگاتار دو دھماکے اور جنگی طیاروں کے اڑنے کی آوازیں سنائی دیں۔ قطری دارالحکومت دوحہ میں بھی بظاہر میزائل حملوں کو ناکام بنایا گیا ہے۔

    ادھر اسرائیلی فضائیہ کا کہنا ہے کہ اس کی جانب سے ایران کی طرف سے داغے گئے میزائل حملوں کو ناکام بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

  19. خلیجی ممالک کے بڑے کاروبار خطرے میں, سورنجنا تیواری، بی بی سی

    خلیجی ممالک میں ایرانی حملوں کے بعد کئی ایئرپورٹ بند ہوئے ہیں، بندرگاہوں کے آپریشنز اور مالیاتی منڈیاں بُری طرح متاثر ہوئی ہیں۔ یہ عالمی وبا کے بعد کاروباری سرگرمیوں کو پہنچنے والا سب سے بڑا دھچکا ہے۔

    امورِ ہوا بازی کے تجزیہ کار کا کہنا ہے کہ ’ایران نے تمام وسائل تباہ کرنے کی پالیسی اپنا لی ہے۔ اس نے خلیجی ممالک کے ہوائی اڈوں پر حملے کیے اور ممکنہ طور پر حملے جاری رکھے گا۔‘

    دبئی، ابو ظہبی اور دوحہ جیسے شہروں نے کئی دہائیوں کی کوششوں کے بعد تیل اور گیس پر اپنا انحصار کم کیا۔ انھوں نے اپنی معیشتیں ہوا بازی، سیاحت، فنانس اور لاجسٹکس کے شعبوں میں پیداوار بڑھائی جس کے لیے غیر ملکی ملازمین اور سرمایہ کاری نے مواقع پیدا کیے۔

    متحدہ عرب امارات کی حکومت کے مطابق دبئی میں گذشتہ سال دو کروڑ سیاح آئے تھے۔

    ایران نے دبئی مرینا اور پام جمیرا جیسے پُرتعش رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا، فیئرمونٹ دی پام نذر آتش ہوا اور برج العرب کو بھی نقصان پہنچا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اماراتی ریئل اسٹیٹ اور ہوٹل سیکٹر بھی اہداف میں شامل ہیں۔

    سعودی عرب اور قطر شاید تیل کی بڑھتی قیمتوں سے وقتی فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ لیکن تجارت، لاجسٹکس اور سیاحت خاص طور پر متحدہ عرب مارات میں شدید دباؤ سے دوچار ہیں۔

    فضائی حدود کی بندش سے خلیج کا ایشیا، یورپ اور افریقہ کے لیے تجارتی مرکز کا کردار خطرے میں پڑ رہا ہے۔ جبکہ رمضان کے دوران اجتماعی طور پر افطار اور سحری کے انتظامات کو بھی روک دیا گیا ہے۔

  20. لبنان کی سرحد پر حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ: اب تک کی تازہ ترین صورتحال

    ایران پر سنیچر کی صبح سے شروع ہونے والے امریکی اور اسرائیلی حملوں میں اب شدت آ رہی ہے اور حزب اللہ نے بھی اسرائیل میں اہداف کو نشانہ بنانہ شروع کر دیا ہے۔ اس حوالے سے تازہ ترین صورتحال کچھ یوں ہے:

    • اسرائیلی فوج نے لبنان کے 50 سے زائد سرحدی دیہات کے رہائشیوں کو فوری انخلا کا حکم دیا ہے۔ یاد رہے کہ اتوار کی شام سے لبنان میں ایران کی حمایت یافتہ تنظیم حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے۔
    • اس صورتحال کے باعث لبنان میں بڑے پیمانے پر ٹریفک جام دیکھنے میں آ رہا ہے، کیونکہ سرحدی علاقوں سے لوگ اپنے گھروں کو چھوڑ کر نکلنے پر مجبور ہیں۔ ایک مقامی شہری نے بی بی سی کو بتایا کہ حالات ’انتہائی کربناک‘ ہیں۔
    • اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے ایران پر جاری حملوں میں درجنوں افراد کی ہلاکت ہو چکی ہے۔ جبکہ ایک ایرانی میزائل حملے میں اسرائیلی شہر بیت شیمش میں کم از کم نو افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
    • ایشیا پیسیفک کی سٹاک مارکیٹوں میں لسٹڈ ایئرلائنز کے شیئرز گر گئے ہیں، کیونکہ ایران کی جانب سے مشرق وسطیٰ کے مسلم ممالک کے ہوائی اڈوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
    • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے پیش نظر عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے، جب کہ آبنائے ہرمز کے قریب سے گزرنے والے جہازوں پر حملے کیے گئے ہیں۔
    • خلیجی تعاون کونسل کے رکن ممالک نے ایران پر اُن کی خودمختاری کی خلاف ورزی کا الزام لگایا ہے۔ خلیج میں حملوں نے خطے میں کاروباری سرگرمیاں برُی طرح متاثر ہوئی ہیں۔
    • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس واپسی پر ایران سے متعلق صحافیوں کے سوالات کو نظرانداز کیا۔ دوسری جانب نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی ایران کے خلاف امریکی کارروائی پر کوئی بیان نہیں دیا۔
    • امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو منگل کی شام مقامی وقت کے مطابق چار بجےایوانِ نمائندگان اور سینیٹ کے رہنماؤں کو ایران کی صورتحال پر بریفنگ دیں گے۔

    ہم اس صورتحال کی براہِ راست کوریج جاری رکھے ہوئے ہیں۔ مزید اپڈیٹس کے لیے ہمارے ساتھ رہیے۔