پاکستان میں 1000 کلومیٹر رینج کا دعویٰ کرنے والی نئی ’ریو‘ گاڑیوں پر ٹیکس چھوٹ کا فیصلہ متنازع کیوں بنا؟

    • مصنف, عمر دراز ننگیانہ
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
  • مطالعے کا وقت: 8 منٹ

پاکستان میں حال ہی میں ہائبرڈ اور الیکٹرک گاڑیوں کے بعد ایسی گاڑیاں مارکیٹ میں آئی ہیں جو ایک ٹینک میں ایک ہزار یا اس سے بھی زیادہ کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنے کا دعویٰ کرتی ہیں۔ ایسی گاڑیوں کو رینج ایکسٹینڈڈ الیکٹرک گاڑیاں (ریو یا آر ای ای وی) کا نام دیا جاتا ہے۔

اس قسم کی گاڑی میں الیکٹرک گاڑیوں کی خصوصیات ہیں کیونکہ گاڑی کو چلانے کے لیے خالصتاً الیکٹرک بیٹریوں کا استعمال کیا جاتا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ ان میں ایندھن سے چلنے والا انجن بھی موجود ہوتا ہے۔ اس انجن کے لیے 40 لیٹر سے زیادہ پیٹرول کی گنجائش والا فیول ٹینک بھی نصب ہوتا ہے۔

تاہم یہ انجن گاڑی کو چلانے میں کوئی کردار ادا نہیں کرتا بلکہ اس ہی کی مدد سے گاڑی کی رینج کو ایکسٹینڈ یعنی بڑھایا جاتا ہے۔ یعنی یہ انجن صرف ان بیٹریوں کو چارج کرنے کے لیے جنیریٹر کا کام کرتا ہے جو گاڑی کو چلاتی ہیں۔

اس قسم کی گاڑی میں ایندھن سے چلنے والے انجن کی موجودگی کے باعث حال ہی میں گاڑیوں کی صنعت کے دو حلقوں کے درمیان ایک تنازع سامنے آیا جو پاکستان میں کسٹمز کے محصولات اور ان کی وجہ سے گاڑیوں کی قیمتوں سے جڑا ہے۔

ایک حلقے کا مؤقف ہے کہ ’آر ای ای وی‘ گاڑیوں کو مکمل الیکٹرک نہیں کہا جا سکتا اور یہ گاڑیاں ہائبرڈ کی کیٹیگری میں آنی چاہییں جبکہ ان گاڑیوں کو درآمد کرنے والے کہتے ہیں کہ یہ الیکٹرک گاڑیاں ہی ہیں۔

حال ہی میں یہ تنازع پاکستانی کسٹمزز کی کلاسیفیکیشن کمیٹی کے سامنے آیا۔ اس کا جائزہ لینے کے بعد کمیٹی نے ان کمپنیوں کے حق میں فیصلہ دیا ہے جو اس قسم کی آر ای ای ویز چین سے درآمد کر رہی ہیں اور ایسی گاڑیوں کو الیکٹرک قرار دیتی ہیں۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اس قسم کی گاڑیوں کو الیکٹرک گاڑیوں کی کیٹیگری ہی میں شمار کیا جائے گا۔ تاہم گاڑیوں کی صنعت سے جڑی بعض کمپنیوں اور تنظیموں کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے گاڑیوں کی مارکیٹ میں بگاڑ پیدا ہو سکتا ہے۔

تاہم سوال یہ ہے کہ کلاسیفیکیشن کے اس فیصلے سے پاکستان میں خاص طور پر نیو انرجی وہیکلز یعنی ہائبرڈ اور الیکٹرک گاڑیوں کی مارکیٹ میں کیسے بگاڑ پیدا ہو گا؟

اور پاکستان میں جہاں الیکٹرک گاڑیوں کی رینج اور چارجنگ کی کم سہولیات کو لے کر تشویش پائی جاتی ہے وہاں کیا اس قسم کی نیو انرجی گاڑیوں کو اپنانے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے؟

مگر پہلے یہ جان لیتے ہیں کہ آر ای ای وی اور پلگ اِن ہائبرڈ گاڑی میں فرق کیا ہے؟

آر ای ای وی اور پلگ ان ہائبرڈ گاڑی میں فرق کیا ہے؟

بنیادی طور پر ان دونوں قسم کی گاڑیوں میں انٹرنل کمبسچن انجن یا ایندھن سے چلنے والا انجن موجود ہوتا ہے۔ دونوں میں فیول ٹینک بھی ہے اور فیول کے جلنے سے گاڑی کے ٹیل پائپ (انجن سے نکل کر سلنسر سے منسلک ہونے والا پائپ) سے گیسوں کا اخراج بھی ہوتا ہے۔

دونوں گاڑیوں میں بیٹریاں بھی موجود ہوتی ہیں اور انھیں بیرونی ذریعے سے چارج بھی کرنا پڑتا ہے۔

فرق صرف یہ ہے کہ پلگ ان ہائبرڈ میں گاڑی کے پہیوں کو انجن ہی چلاتا ہے اور بیٹریاں بیرونی ذریعے یا پلگ کے ذریعے چارج ہوتی ہیں اور پہلے پچاس کلومیٹر تک اس میں گاڑی بیٹری پر چلتی ہے۔

دوسری جانب آر ای ای وی میں گاڑی کے پہیوں کو بیٹریاں چلاتی ہیں۔ جبکہ گاڑی کے اندر موجود انجن صرف ان بیٹریوں کو چارج کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اس کا گاڑی کے پہیوں کو چلانے سے براہ راست تعلق نہیں ہوتا۔

یوں آر ای ای وی کی رینج بڑھ جاتی ہے۔ یعنی جب بیٹری ایک خاص لیول تک خالی ہوتی ہے تو انجن اس کو واپس ایک مخصوص حد تک چارج کر دیتا ہے۔ یوں اس کی رینج زیادہ ہو جاتی ہے۔ لیکن جب انجن چلتا ہے تو ایندھن جلتا ہے اور گیسوں کا اخراج بھی ہوتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ کلاسیفیکیشن کمیٹی کے فیصلے پر اعتراض کرنے والے گاڑیوں کی صنعت کے حلقوں کا کہنا ہے کہ آر ای ای ویز کو ’زیرو امیشن‘ گاڑیوں میں شمار نہیں کیا جا سکتا۔ اور اگر ایسا نہیں ہو سکتا تو پھر ان گاڑیوں کو پاکستان کی آٹو پالیسی میں مکمل طور پر الیکٹرک گاڑیوں کے لیے رکھی گئی محصولات کی چھوٹ سے مستفید نہیں ہونا چاہیے۔

کمیٹی کے فیصلے سے نیو انرجی گاڑیوں کی مارکیٹ میں بگاڑ کیسے پیدا ہو سکتا ہے؟

کمیٹی نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ ’کیونکہ آر ای ای ویز میں گاڑی کو چلانے کے لیے صرف الیکٹرک بیٹریاں کام کرتی ہیں اس لیے ان کو درست طور پر الیکٹرک گاڑیوں کی کیٹیگری میں شمار کیا جائے گا۔‘

یوں درآمد کرنے پر کسٹمز کی محصولات کا تعین کرنے کی غرض سے یہ گاڑیاں ای وی کی کیٹیگری میں شمار ہوں گی۔ اور وہ ’گاڑی میں انجن کے ہوتے ہوئے‘ ان تمام ٹیکسوں کی چھوٹ سے مستفید ہوں گی جو پاکستان کی حکومت نے ’کمبسچن انجن کے بغیر ای وی گاڑیوں‘ کے لیے دے رکھی ہیں۔

رواں پالیسی کے مطابق مکمل طور پر باہر تیار کی گئی اور پھر درآمد کی گئی 50 کلو واٹ سے کم کی گاڑیوں پر 25 فیصد کسٹمز ڈیوٹی اور 12.5 فیصد جنرل سیلز ٹیکس لاگو ہوتا ہے۔

جبکہ دوسری طرف وہ گاڑیاں، جو پارٹس میں درآمد کر کے مقامی طور پر تیار کی جاتی ہیں، ان کو فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی چھوٹ حاصل ہے اور جنرل سیلز ٹیکس صرف ایک فیصد دینا پڑتا ہے۔ مختلف پارٹس کی درآمد پر بھی انھیں محض دس فیصد کے حساب سے محصولات دینا ہوتی ہیں۔

مقامی طور پر سی کے ڈی گاڑیاں تیار کرنے والی ایک مقامی کمپنی کے عہدیدار نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ کمیٹی کے فیصلے کے بعد اب آر ای ای ویز درآمد کرنے والی کمپنی ٹیکسوں کی ان تمام چھوٹوں سے مستفید ہو گی جس کی وہ بنیادی طور پر حقدار نہیں بنتی۔

’اس کے ساتھ زیادہ بڑا نقصان یہ ہو گا کہ اب اسی کیٹیگرائزیشن سے فائدہ اٹھاتے ہوئے لوگ اس قسم کی آر ای ای ویز درآمد کر کے مارکیٹ کو بھر دیں گے۔ اس طرح جو ان گاڑیوں کی مقامی صنعت ہے وہ خسارے میں چلی جائے گی۔‘

اُن کا کہنا ہے کہ پاکستان کی نیشنل الیکٹرک پالیسی واضح طور پر یہ کہتی ہے کہ اس پالیسی اور اس کے تحت دیے جانے والی تمام مراعات ’صرف بیٹری پر چلنے والی ان گاڑیوں پر لاگو ہوں گے جن کے اندر انٹرنل کمسچن انجن نہیں ہوتا اور وہ صرف گاڑی میں موجود بیٹری پر چلتی ہیں۔‘

ان کا موقف ہے کہ حکومت کی اپنی پالیسی کو دیکھتے ہوئے آر ای ای ویز کو مراعات سے فائدہ دینا غیر منصافانہ ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جن کمپنیوں نے آر ای ای وی چین سے درآمد کی ہیں انھوں کسٹمز کلیئرنس کے وقت گڈز ڈیکلیئریشن یعنی درآمدی اشیا کی درست شناخت ظاہر نہیں کی۔

ان کا کہنا ہے کہ چین سے جب سے گاڑیاں ایکسپورٹ کی گئی تھیں تو ان کو ’پلگ ان ہائبرڈ‘ کی کیٹیگری میں رکھا گیا تھا جبکہ پاکستان پہنچنے پر انھیں ای وی کیٹیگری میں ظاہر کیا گیا۔

وہ کہتے ہیں کہ ’اگر حکومت آر ای ای ویز کو الیکٹرک تصور کر رہی ہے اور مراعات دے رہی ہے تو پھر پلگ ان ہائبرڈ گاڑیوں کو بھی الیکٹرک تصور کیا جانا چاہیے کیونکہ دونوں امیشنز (اخراج) کے حوالے سے ایک جیسا کام کرتی ہیں۔ انھیں بھی یہی مراعات ملنی چاہییں۔‘

کیا پاکستان میں نیو انرجی گاڑیوں کی مانگ میں اضافہ ہو گا؟

پاکستان میں نیو انرجی گاڑیوں، خاص طور پر الیکٹرک گاڑیاں، کو اپنانے میں تاحال جھجھک پائی جاتی ہے۔ یہ ہچکچاہٹ خاص طور پر اس لیے بھی نمایاں ہے کہ پاکستان میں ان گاڑیوں کی چارجنگ کا نظام تاحال زیادہ بڑے پیمانے پر نہیں بن پایا۔

اس لیے صارفین کے لیے ان کی رینج اور ری چارجنگ کو لے کر خدشات پائے جاتے ہیں۔ تو سوال یہ ہے کہ ایک ہزار کلومیٹر تک چلنے والی آر ای ای ویز کو اگر درآمدات پر ٹیکسوں میں چھوٹ ملتی ہے اور ان کی قیمت کم ہوتی ہے تو کیا پاکستان میں صارفین کا رجحان اس طرف ہو گا۔

کیا ان گاڑیوں کو اپنانے میں ہچکچاہٹ ختم ہو گی اور زیادہ لوگ ان کو خریدیں گے؟

گاڑیوں کی ویب سائٹ پاک ویلز کے سربراہ سنیل منج سمجھتے ہیں کہ اس سے الیکٹرک گاڑیوں کو اپنانے کی شرح میں کوئی خاطر خواہ فائدہ نہیں ہو گا۔

ان کا کہنا ہے کہ پلگ ان ہائبرڈ اور آر ای ای وی دونوں میں محض نام کا فرق ہو گا۔ ’ایک یعنی آر ای ای وی الیکٹرک وہیکل کے نام پر چل رہی ہو گی اور دوسری پلگ ان ہائبرڈ کے نام سے۔ باقی دونوں میں پیٹرول ڈلتا ہے اور دونوں کو چارج کرنا پڑتا ہے۔‘

تاہم ان کے خیال میں دونوں قسم کی گاڑیوں میں سے ماحول کے لیے نقصان دہ گیسوں کا اخراج تو ہوتا ہی ہے اس لیے ان میں سے ایک کو الیکٹرک قرار دینے سے حکومت کی نیو انرجی کی حوصلہ افزائی کرنے کی پالیسی کو کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔

سنیل منج کہتے ہیں کہ یہ دونوں اگر ایک ہی قسم کی گاڑیاں ہیں تو صرف آر ای ای وی کی درآمدات پر ٹیکسوں کی چھوٹ دینے سے مقامی سطح پر گاڑیاں تیار کرنے والی کمپنیوں کو نقصان ہو گا۔

’ایک ہی قسم کی دونوں گاڑیوں میں سے ایک کو ڈیوٹی پر بڑی چھوٹ دینے اور دوسری کو نہ دینے سے حکومت کو کیا فائدہ ہو گا یہ سمجھ سے بالاتر ہے۔ اور یہ حکومت کی اپنی مقامی صنعت کو فروغ دینے کی پالیسی کے لیے بھی نقصان دہ ہو گا۔‘

ان کے خیال میں اگر چھوٹ کے ذریعے پاکستان میں ای وی کی اپنائیت کو بڑھانا مقصد ہے تو پھر پلگ ان ہائبرڈ گاڑیوں کو بھی الیکٹرک کی کیٹیگری میں شمار کر کے دونوں کو مساوی سطح پر ٹیکس کی چھوٹ دی جانی چاہیے تھی۔