آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
جیکو جے فائیو: ’کم قیمت اور زیادہ فیچرز‘ والی ایس یو وی پاکستانی آٹو مارکیٹ کو کیسے متاثر کر سکتی ہے؟
- مصنف, عبداللہ نیازی
- عہدہ, صحافی
چینی ہائبرڈ ایس یو وی کار جیکو جے فائیو کو منشا گروپ کی ملکیت نشاط موٹرز نے پاکستانی مارکیٹ میں لانچ کیا لیکن مارکیٹ میں موجود اس سیگمنٹ کی دیگر ایس یو ویز کی نسبت اس کی کم قیمت نے سب کو حیران کیا ہے۔
دیکھنے میں تو جیکو جے فائیو ان بہت سی گاڑیوں میں سے ایک لگتی ہے جو 2019 کے بعد سے پاکستانی مارکیٹ میں لانچ ہوئی ہیں۔
نشاط گروپ نے جے فائیو کے دو ویریئنٹ لانچ کیے ہیں۔ پہلا کم فیچرز کے ساتھ کمفرٹ ویریئنٹ ہے جس کی قیمت 66 لاکھ 99 ہزار روپے ہے اور دوسرا پریمیم ورژن ہے جس کی قیمت 76 لاکھ 99 ہزار روپے ہے۔
اس قیمت پر جیکو جے فائیو ہائبرڈ الیکٹرک ایس یو وی کے لیے مارکیٹ میں دستیاب سب سے سستا آپشن ہے۔ جے فائیو ایک بی سیگمنٹ ایس یو وی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ ایک درمیانے سائز کی ایس یو وی ہے تاہم، پاک ویلز کے سنیل مانج کے مطابق جیکو جے فائیو کو زیادہ تر بی سیگمنٹ ایس یو وی سے تھوڑا بڑا ڈیزائن کیا گیا ہے۔
تاہم جے فائیو کی لانچ کے بعد اس بارے میں متعدد سوالات بھی کھڑے ہوئے ہیں۔ ایک تو یہ کہ نشاط موٹرز کیسے اپنے حریفوں سے کم قیمت پر گاڑیاں فروخت کرنے میں کامیاب ہو رہی ہے؟ اور سب سے اہم سوال یہ کہ کیا یہ حکمتِ عملی پائیدار ثابت ہو گی بھی یا نہیں؟
پاکستان کی آٹو مارکیٹ میں قیمتوں کی جنگ
پاکستان میں اس سیگمنٹ میں اس کے قریبی حریفوں میں ہیول کی جولین ہائبرڈ الیکٹرک ایس یو وی ہے جو اس سے 25 لاکھ روپے مہنگی ہے۔ اسی طرح اس کی قیمت ٹویوٹا کرولا کراس اور ہونڈا ایچ آر وی دونوں سے کم ہے، ان دونوں گاڑیوں کی قیمتیں بالترتیب 85 لاکھ روپے اور 89 لاکھ روپے ہیں۔
جیکو کے کمفرٹ ویرینٹ کی قیمت 66 لاکھ 99 ہزار روپے رکھی جو اسے سیڈان کیٹیگری کی گاڑیوں کے پرائس رینج میں بھی رکھتی ہے۔
بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے سنیل منج نے دعویٰ کیا کہ جے فائیو کو اس قیمت پر متعارف کروایا گیا ہے جو سیڈان خریدنے کے ممکنہ خریداروں کو ایس یو وی خریداروں میں تبدیل کر دے گی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے یہ بھی کہا کہ لوگوں کو جے فائیو کی ری سیل ویلیو پر اعتماد ہو گا کیونکہ اسے ایک عرصے سے مارکیٹ میں موجود نشاط گروپ نے متعارف کروایا ہے۔
نشاط موٹرز کے سی ای او حسن منشا نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ پاکستان کی آٹو مارکیٹ میں گذشتہ چند سال سے قیمتوں کی جنگ جاری ہے لیکن جے فائیو کو اس کی موجودہ قیمت پر متعارف کروانے کا فیصلہ سادہ تھا۔
انھوں نے کہا کہ ’ہم نے صرف وہ قیمت دیکھی جو چینی مینوفیکچرر ہمیں دے رہا تھا اور قیمت کا اعلان کرنے سے پہلے اس میں اسمبلی کی اپنی لاگت شامل کی۔ اس میں زیادہ سوچ بچار نہیں کی گئی۔‘
حسن منشا نے یہ بھی کہا کہ ’یہ ایک ابتدائی قیمت تھی‘ اور انھیں دوبارہ جائزہ لینا ہو گا کہ آیا وہ اس قیمت پر فروخت جاری رکھیں گے یا کسی وقت اسے تبدیل کریں گے۔
جے فائیو کو ملنے والا ناقابل یقین ردعمل پاکستان میں گذشتہ چند سالوں میں تمام سیگمنٹس میں چینی کاروں کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کی جانب اشارہ بھی ہے۔ بی وائے ڈی اور چنگان جیسی کمپنیاں پہلے ہی اپنی گاڑیاں مارکیٹ میں کامیابی سے لانچ کر چکی ہیں۔
جے فائیو پہلی گاڑی نہیں ہے جسے جیکو نے متعارف کروایا ہے۔ اس سے پہلے نشاط نے جیکو جے سیون اور جے سکس متعارف کروائی تھیں جو بڑے سائز کی ایس یو ویز ہیں اور ایک مختلف سیگمنٹ میں مقابلہ کرتی ہیں۔
تاہم جے فائیو کے لانچ کے معاملے میں بڑا فرق یہ ہے کہ یہ اپنی حریف گاڑیوں سے نمایاں طور پر کم قیمت پر فروخت ہو رہی ہے اور سیڈان گاڑیوں کی مارکیٹ کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔
یہ تکنیک بالکل اسی طرح کی ہے جو لکی موٹرز نے سنہ 2019 میں استعمال کی تھی جب انھوں نے کورین ’کِیا سپورٹیج‘ کو اس قیمت پر متعارف کروایا تھا جو ہونڈا سوک اور ٹویوٹا کرولا جیسی سیڈان گاڑی کی قیمت کے قریب تھی۔
یہ وہ کار تھی جس نے سب سے پہلے پاکستان کی آٹو مارکیٹ کو نمایاں طور پر تبدیل کیا اور نئے برانڈز کے داخلے کی راہیں ہموار کیں اور تین جاپانی کار برانڈز کے درمیان طویل عرصے سے موجود اجارہ داری کو توڑا جو ’بگ تھری‘ کے نام سے جانے جاتے ہیں یعنی ٹویوٹا، ہونڈا اور سوزوکی۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا جیکو جے فائیو چھ سال پہلے ’کِیا سپورٹیج‘ جیسا کردار ادا کر سکتی ہے؟
کیا نشاط گروپ کی حکمتِ عملی پائیدار بھی ہے؟
جیکو کی کچھ ڈیلرشپس میں بکنگ ابھی سے بند ہو گئی ہے۔ ایک جیکو ڈیلرشپ کے مطابق ڈیلیوری جولائی اور اگست تک متوقع ہے جس کے بعد یہ سوال پیدا ہو رہا ہے کہ آیا صارفین تک یہ گاڑیاں وقت پر پہنچ بھی سکیں گی اور کمپنی کی اسمبلنگ کیپیسیٹی کتنی ہے۔
حسن منشا نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ نشاط نے چینی گاڑیوں، خاص طور پر ہائبرڈ گاڑیوں کے لیے مارکیٹ میں ایک خلا کی نشاندہی کی ہے کیونکہ ’لوگ مہنگے پٹرول کی وجہ سے بہتر فیول اکانومی بھی چاہتے ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’ہم نے سوچا کہ ایک اور برانڈ لانے کا یہ ایک اچھا وقت ہے کیونکہ چینی کاریں ہر جگہ مقبول ہیں اور مختلف قسم کے صارفین انھیں قبول کر رہے ہیں۔ یورپی برانڈز اپنے آبائی ممالک سے باہر مینوفیکچرنگ کی اجازت نہیں دیتے۔ ہمارے پاس پہلے سے ہی جاپانی، کورین اور دیگر مینوفیکچررز کے ساتھ ساتھ چینی بھی ہیں لیکن ہم کچھ نیا تلاش کرنے کے لیے چین جانا چاہتے تھے۔‘
اگرچہ حسن منشا نے اپنی گاڑیاں اسمبل کرنے کی پاکستان میں موجود کیپیسٹی پر وضاحت نہیں کی تاہم انھوں نے کہا کہ کمپنی کو ’بُکنگ کے حوالے سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔‘
’یہ صرف قیمت کی بات نہیں ہم تمام فیچرز بھی پیش کر رہے ہیں‘
پاکستانی جریدے بزنس ریکارڈر کی ایک رپورٹ کے مطابق جیکو سالانہ 32 ہزار گاڑیاں اسمبل کرنے کی پروڈکشن کیپیسٹی رکھتی ہے۔ یہ نیکسٹ جین اسمبلی کے نام سے فیصل آباد میں موجود ہے۔
تو کیا جیکو کے لانچ کے بعد اس سیگمنٹ کی گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی آ سکتی ہے؟
حسن منشا نے اس کے جواب میں کہا کہ یہ ممکن ہے کہ ان کے حریف جے فائیو کا مقابلہ کرنے کے لیے ڈسکاؤنٹ دینے کی کوشش کریں لیکن فی الحال ان کی پروڈکٹ سب سے سستی ہے۔
انھوں نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ’یہ صرف قیمت کی بات نہیں ہے۔ ہم تمام فیچرز بھی پیش کر رہے ہیں۔ یہ ہماری فروخت کا بنیادی نقطہ ہے۔ قیمتیں اوپر نیچے ہوتی رہتی ہیں لیکن یہ ایک ایسی پروڈکٹ ہے جس کے بارے میں ہمیں توقع ہے کہ یہ بہت مقبول ہو گی۔‘
اگرچہ دیگر گاڑیوں کی جانب سے قیمتوں میں کمی کا اعلان نہیں کیا گیا ہے لیکن انڈسٹری کے ماہرین خاص طور پر ہیول کی جانب سے قیمت میں کمی کی توقع کر رہے ہیں، جو جے فائیو کے براہ راست مقابلے میں جولین تیار کرتی ہے۔
2024 میں کِیا نے اپنی چھوٹی اے سیگمنٹ کراس اوور ایس یو وی، سٹونک کی قیمت میں سات لاکھ روپے کی نمایاں کمی کی جس کی وجہ سے ہونڈا، ٹویوٹا اور سوزوکی کو بھی اسی پرائس رینج میں اپنی کاروں پر ڈسکاؤنٹ دینا پڑا۔
حریفوں خاص طور پر ہیول کو اب ایک نئے حریف کا جواب دینے کا چیلنج درپیش ہے۔
اصل امتحان یہ ہوگا کہ کیا جیکو اگلے سال سپلائی، قیمتوں اور سروس کے معیار کو برقرار رکھ سکتا ہے یا حریف اس مارکیٹ شیئر کو واپس لینے کے طریقے تلاش کر لیں گے۔ تاہم اس وقت یہ کہنا درست ہو گا کہ پاکستان میں چینی آٹو کمپنیوں کے آنے کے بعد سے ایس یو وی سیگمنٹ پہلے جیسا نہیں رہا۔