پنجاب میں ’غیر اخلاقی‘ اور ’ذومعنی‘ گانوں پر پابندی: ’اس فہرست میں کئی گانے فلموں کا حصہ رہے ہیں‘

پاکستان کے صوبے پنجاب میں حکومت نے ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے 132 ’غیر اخلاقی‘ اور ’ذو معنی‘ گانوں پر سٹیج یا تھیٹر میں پرفارمنس پر پابندی عائد کر دی ہے، جس کے بعد پاکستانی سوشل میڈیا پر دلچسپ و عجیب تبصرے دیکھنے میں آ رہے ہیں۔

پنجاب حکومت کی جانب سے 23 جنوری کو جاری کیے جانے والے نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ ان گانوں پر پرفارمنس پر نجی و کاروباری دونوں قسم کی محفلوں میں پابندی عائد ہوگی۔

حکومت کے مطابق نوٹیفکیشن میں درج یہ گانے نہ صرف ’غیر اخلاقی‘ ہیں بلکہ ان کے بول بھی ’ذو معنی‘ ہیں۔

حکومت نے حکام کو یہ بھی ہدایت دی ہے کہ وہ سختی سے اس حکمنامے پر عملدرامد کو یقینی بنائیں۔

تاہم پابندی کے اس فیصلے کے بعد سوشل میڈیا پر سب سے زیادہ حیرت کا اظہار اس فہرست میں گلوکار ملکو کے گانے ’نک دا کوکا‘ کی موجودگی پر کیا جا رہا ہے، جو ان کے مطابق ایک ذو معنی گانا نہیں ہے۔

سوشل میڈیا پر لوگوں کی رائے جاننے سے قبل یہ جاننا ضروری ہے کہ حکومتِ پنجاب کا اس پابندی پر کیا مؤقف ہے۔

پنجاب حکومت کا کیا مؤقف ہے؟

اس سے قبل بھی حکومتِ پنجاب اس پابندی سے مِلتے جُلتے حکمنامے جاری کرتی رہی ہے۔

گذشتہ برس اگست میں صوبائی حکومت نے سٹیج اور تھیٹر پرفارمنس کے لیے قواعد و ضوابط جاری کیے تھے، جن کے مطابق 'فحش' اور 'غیر اخلاقی' پرفارمنسز پر پابندی تھی۔

جب بی بی سی کی نامہ نگار ترہب اصغر نے پنجاب کی وزیرِ اطلاعات اعظمیٰ بخاری سے ان 132 گانوں پر لگائی جانے والی پابندی پر مؤقف جاننے کے لیے رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’آپ نے ان گانوں کے بول سنے ہیں؟ یہ کس طرح کے گانے ہیں اور ان پر کس طرح کی پرفارمنس ہو گی، میں تو ان کے بول پڑھ بھی نہیں سکتی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’اس فیصلے کی اتنی وضاحت کافی ہے کہ آپ ان کے بول اپنی خبر میں شامل تک نہیں کر سکتے ہیں۔‘

’ان گانوں کی شاعری اتنی فحش اور توہین آمیز ہے کہ انھیں گانے کہنا گانوں کی توہین ہے۔‘

سوشل میڈیا پر ردِعمل

سوشل میڈیا پر متعدد صارفین گلوگار ملکو کے گانے 'نک دا کوکا' کی فہرست میں موجودگی پر بھی اعتراض اُٹھاتے ہوئے نظر آئے۔

ملکو نے یہ گانا سنہ 2023 میں اپنے یوٹیوب چینل پر اپلوڈ کیا تھا اور اس کی مقبولیت کے سبب گلوکار نے اس میں مزید مختلف بول بھی شامل کیے تھے، جن میں سابق وزیرِ اعظم عمران خان کا بھی ذکر تھا۔

اسی کے باعث ملکو کو مبینہ طور پر کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا اور جون 2024 میں انھیں لندن جانے والی ایک پرواز سے آف لوڈ کر دیا گیا تھا۔

یہی گانا رواں برس جنوری میں قوال فراز امجد خان نے پنجاب کے دارالحکومت میں ایک تقریب کے دوران گایا تو ان پر بھی مقدمہ درج کر دیا گیا تھا۔

پنجاب حکومت کی جانب سے اس گانے کو ’غیر اخلاقی‘ گانوں کی فہرست میں شامل کرنے کے فیصلے پر سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک صارف نے طنزاً لکھا کہ ’اگر نک دا کوکا چلانے کی اجازت نہیں، تو پھر کون سا کوکا چلا سکتے ہیں؟ پنجاب حکومت کو یہ بتانا چاہیے۔‘

اویس حفیظ نامی ایک صارف نے لکھا کہ ’نک دا کوکا پر پابندی لگانے کی وجہ کیا ہے؟‘

انھوں نے پنجاب حکومت کو ’برداشت‘ بڑھانے کا مشورہ بھی دیا۔

دیگر صارفین ان گانوں پر لگنے والی پابندی کی حمایت کرتے ہوئے نظر آئے لیکن انھیں حکومت سے شکایت بھی تھی۔

محمد عمران نے لکھا: ’(فہرست میں) متعدد گانے فحش ہیں، پابندی ہونی چاہیے۔ لیکن اس فہرست میں کئی گانے ایسے ہیں جو فلموں کا حصہ رہے ہیں۔‘

’سوال یہ ہے کہ تب فلم کے ساتھ یہ گانے سینما پر چلانا ٹھیک تھا تو اب ان گانوں میں کیا خرابی آگئی ہے؟‘

امتیار خان نامی ایک صارف نے لکھا کہ ’فحش گانوں پر پابندی اچھا ایکشن ہے پنجاب حکومت کی طرف سے، ان گانوں کے گلوکاروں کے خلاف بھی کارروائی ہونی چاہیے۔‘