آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
پاکستان ٹرمپ کے’بورڈ آف پیس‘ میں شامل: رُکن ممالک کو کیا اختیارات حاصل ہوں گے؟
- مصنف, روحان احمد
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دعوت پر غزہ کے لیے بنائے گئے ’بورڈ آف پیس‘ میں شمولیت کی دعوت قبول کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ مستقل جنگ بندی کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں گے جبکہ فلسطینیوں کے لیے انسانی مدد میں اضافہ اور غزہ کی تعمیر نو کی جائے گی۔
بدھ کے روز پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ پاکستان ’بورڈ آف پیس‘ میں شامل ہو کر ان مقاصد کے حصول اور فلسطینی بہنوں اور بھائیوں کی مشکلات ختم کرنے کے لیے تعمیری کردار ادا کرے گا۔
جمعرات کو وزیر اعظم شہباز شریف نے ڈیووس میں بورڈ آف پیس کی باضابطہ تقریب میں شرکت کی جہاں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بھی شامل تھے۔
پاکستان کے علاوہ مصر، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، ترکی، سعودی عرب او قطر بھی ’بورڈ آف پیس‘ میں شامل ہو چکے ہیں جبکہ البانیہ، ارجنٹینا، ہنگری، اسرائیل، قزاقستان، پیراگوئے اور ازبکستان بھی اس بورڈ میں شامل ہونے کی تصدیق کر چکے ہیں۔
گزشتہ روز پاکستان سمیت مصر، اردن، متحدہ عرب امارات، ترکی، انڈونیشیا، سعودی عرب اور قطر کے وزرائے خارجہ کے مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ ’تمام ممالک بورڈ میں شمولیت کی دستاویزات پر اپنے قوانین کے تحت دستخط کریں گے۔‘
بیان میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ وہ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کے تحت امریکی صدر کے غزہ منصوبے کی حمایت کرتے ہیں جس کے مطابق غزہ کی پٹی میں مستقل جنگ بندی، تعمیر نو اور بین الاقوامی قوانین کے تحت فلسطینی ریاست کو ممکن بنایا جا سکے گا۔
تاہم پاکستان کے فیصلے پر ملک میں بڑی سطح پر تنقید بھی دیکھی گئی۔ جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان نے قومی اسمبلی سے خطاب میں کہا کہ ’بورڈ آف پیس کو کسی صورت بھی قبول نہیں کرنا چاہیے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’ٹرمپ اور نیتن یاہو کی صورت میں کسی قسم کا کوئی امن بورڈ قبول نہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہاں یہ سوال اُٹھتا ہے کہ ٹرمپ کا تشکیل کردہ ’بورڈ آف پیس‘ کیا کرے گا اور اس میں شامل مستقل اور غیرمستقل اراکین کے اختیارات میں کیا فرق ہو گا؟
پاکستان ’بورڈ آف پیس‘ میں کیوں شامل ہوا؟
وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کے مطابق پاکستان کا ’بورڈ آف پیس‘ میں شامل ہونے کا مقصد مکمل جنگ بندی کا حصول، انسانی امداد کی فراہمی اور غزہ کی از سرِنو تعمیر ہے۔
تاہم پاکستان کی جانب سے یہ واضح نہیں کیا گیا کہ وہ اس بورڈ میں بطور مستقل رُکن کے طور پر شامل ہو رہا ہے یا صرف تین سال کے لیے۔
بی بی سی کو دستیاب ’بورڈ آف پیس‘ کے چارٹر کے مطابق اس میں شامل ہر ریاست برسوں کے لیے اس کی رُکن ہو گی اور چیئرمین (صدر ٹرمپ) چاہیں تو اس رُکنیت کی تجدید بھی کر سکتے ہیں۔
تاہم تین سالہ رُکنیت کی شرط کا اطلاق ان ریاستوں پر نہیں ہو گا جو ’بورڈ آف پیس‘ کے فنڈ میں ایک ارب ڈالر جمع کروائیں گی۔
’بورڈ آف پیس‘ کے چارٹر میں یہ بھی نہیں درج کیا گیا کہ ایک ارب ڈالر مہیا کرنے والے ملک اور دیگر ممالک کے اختیارات میں کیا فرق ہو گا۔
بی بی سی نے اس سلسلے میں پاکستان کی وزارتِ خارجہ کو سوالات بھیجے ہیں تاہم اس کی جانب سے تاحال کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
دوسری جانب پاکستانی وزیرِ اعظم شہباز شریف کی ٹیم میں شامل ایک شخصیت نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ’بورڈ آف پیس میں شامل ہونے کے حوالے کوئی شرائط نہیں رکھی گئی ہیں۔ پوری دنیا جس طرح سے انگیج کر رہی ہے، پاکستان بھی وہ ہی کر رہا ہے۔‘
’بورڈ آف پیس‘ میں پاکستان کی شمولیت پر آرا تقسیم
’بورڈ آف پیس‘ کے چارٹر کے مطابق اس میں ہر ریاست کی نمائندگی حکومت یا ریاست کا سربراہ کرے گا اور اس میں شامل ہر ریاست کو ایک، ایک ووٹ کا حق حاصل ہو گا۔
چارٹر کے مطابق تمام فیصلے رُکن ممالک کے اکثریتی ووٹوں کے تحت لیے جائیں گے تاہم اس کے لیے بھی چیئرمین کی منظوری درکار ہو گی۔
پاکستان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں پر نظر رکھنے والے تجزیہ کار اسلام آباد کے ’بورڈ آف پیس‘ میں شمولیت کے معاملے پر تقسیم کا شکار نظر آتے ہیں۔
ماضی میں واشنگٹن اور اقوامِ متحدہ میں بطور پاکستانی سفیر خدمات سر انجام دینے والی ملیحہ لودھی اسے ’غیر دانشمندانہ فیصلہ‘ سمجھتی ہیں۔
انھوں نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ’حکومت اس بات کو نظرانداز کر گئی کہ ٹرمپ دیگر ریاستوں کو بورڈ میں اس لیے شامل کر رہے ہیں تاکہ اپنی یکطرفہ کارروائیوں کے لیے بین الاقوامی حمایت یا حیثیت حاصل کی جا سکے۔‘
وہ بورڈ آف پیس کے چارٹر کا حوالہ دیتے ہوئی کہتی ہیں کہ ’بورڈ نے اپنا دائرہ کار وسیع رکھا ہے، غزہ سے بھی آگے بڑھایا۔ شمولیت نہ کرنے کے لیے یہ وجہ بھی دیکھی جا سکتی تھی۔‘
ملیحہ لودھی کا ماننا ہے کہ ’پاکستان ایک ایسی تںطیم کا حصہ بن رہا ہے جسے ٹرمپ اقوامِ متحدہ کا متبادل سمجھ رہے ہیں اور جو ٹرمپ کی شخصیت تک ہی رہے گا اور ان کی صدارت ختم ہونے کے بعد جاری نہیں رہ سکتا۔‘
تاہم دیگر تجزیہ کار پاکستان کی بورڈ آف پیس میں شمولیت کو اچھا فیصلہ سمجھتے ہیں۔
امریکی پالیسی اور امورِ مشرقِ وسطیٰ پر گہری نظر رکھنے والے امریکہ میں مقیم تجزیہ کار کامران بخاری کہتے ہیں کہ ’اچھی بات یہ ہے کہ پاکستان اس بورڈ میں ایک سٹیک ہولڈر بن گیا۔‘
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا پاکستان کو بھی وہ اختیارات حاصل ہوسکتے ہیں جو ان ایک ارب ڈالر دینے والی ریاستوں کو حاصل ہوں گے تو ان کا کہنا تھا کہ ’آپ کو وہ ہی ملتا ہے جس کی قیمت ادا کرتے ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ اس سے قبل غزہ کے لیے بین الاقوامی استحکام فورس کی بھی بات ہو رہی تھی۔
’بورڈ آف پیس اور بین الاقوامی استحکام فورس دو الگ الگ چیزیں ہیں لیکن بین الاقوامی استحکام فورس بھی بورڈ آف پیس کی نگرانی میں ہی کام کرے گی اور پاکستان وہاں اپنے فوجی اہلکار بھیج سکے گا۔‘
خیال رہے پاکستان نے تاحال بین الاقوامی استحکام فورس میں شمولیت اختیار کرنے کی حامی نہیں بھری اور متعدد سرکاری شخصیات کہہ چکی ہیں کہ اس فیصلے میں پارلیمنٹ کو شامل کیا جائے گا۔
کامران بخاری سمجھتے ہیں کہ ’بورڈ میں شامل ہونے کے بعد آپ سٹیک ہولڈر بن جاتے ہیں، آپ کو سیاسی گفتگو میں شامل ہونے کا موقع ملتا ہے اور یہ مثبت بات ہے۔‘
امریکہ میں مقیم تجزیہ کار کے مطابق ’بورڈ آف پیس‘ کے معاملے پر پاکستان کو تنہا نہیں دیکھنا چاہیے کیونکہ اس معاملے پر وہ عرب ممالک کے ساتھ کام کرتا ہے، جو دولت مند بھی ہیں اور ان کا اثر و رسوخ بھی زیادہ ہے۔