امریکہ سے تعلقات بگڑنے کا خوف اور مسلم دُنیا میں ساکھ کا مسئلہ: ایران کے معاملے پر اسلامی ممالک تقسیم کیوں ہیں؟

    • مصنف, رونک بائرہ
    • عہدہ, بی بی سی نیوز

’اسلامی ممالک کو امریکہ سمیت بیرونی ممالک کے سامنے نہیں جھکنا چاہیے کیونکہ یہ تنازعات کو ہوا دیتے ہیں اور اسلامی ممالک کو آپس میں لڑاتے ہیں۔ جب بھی کوئی اسلامی ملک مضبوط ہوتا ہے تو مسلمانوں کو خوش ہونا چاہیے۔ ہماری طاقت آپ کی طاقت ہے۔‘

ان خیالات کا اظہار سنہ 2010 میں ایران کے اُس وقت کے وزیر خارجہ منوچہر متکی نے ایک تقریب کے دوران کیا تھا۔

ایران کا جب بھی امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ کوئی تنازع ہوتا ہے تو وہ اسلامی تشخص کو نمایاں کرتا ہے لیکن یہ شناخت ابھی اتنی بڑی نہیں ہوئی کہ اسلامی ممالک اپنے مفادات پر مذہبی شناخت کو ترجیح دیں۔

سنہ 1979 کے انقلاب کے بعد ایران خطے کا واحد ملک رہا ہے، جو امریکی تسلط والے نظام کو چیلنج کرتا رہا ہے۔ باقی اسلامی ممالک امریکہ کے قریبی اتحادی ہیں، جس کی وجہ سے صورتحال پیچیدہ ہے۔

ایران چین اور روس کے قریب ہے لیکن دونوں ممالک امریکہ کے ساتھ براہ راست فوجی تصادم سے گریز کرتے ہیں۔

ترکی، امریکہ کے ساتھ تنازع کے معاملے پر بظاہر ایران کی حمایت کرتا رہا ہے حالانکہ یہ نیٹو کا رُکن بھی ہے لیکن خطے میں اس کے مفادات ہمیشہ ایران کے ساتھ ٹکراتے رہے ہیں۔

ترکی کی حمایت کے بغیر، شام میں بشار الاسد کی ایران نواز حکومت کا خاتمہ ممکن نہیں تھا۔ اس کے باوجود کبھی کبھار اسلامی تشخص کی بنیاد پر متحرک ہونے کے مطالبات سامنے آتے ہیں۔

کچھ لوگ ایران کے موجودہ بحران کو بھی اسی شناخت کے آئینے میں دیکھ رہے ہیں۔

روسی سیاسی تجزیہ کار الیگزینڈر ڈوگین نے ایکس پر لکھا کہ ’اسلامی دُنیا پہلے سے کہیں زیادہ منقسم ہے۔۔۔ کوئی مشترکہ ویژن، حکمتِ عملی اور فیصلہ سازی کا طریقہ کار نہیں۔ یہ ان ممالک کی اشرافیہ کی دھوکہ دہی کی عکاسی کرتا ہے۔ ان کے درمیان کوئی اتحاد نہیں۔‘

ایک سینیئر ایرانی اہلکار کے مطابق ایران نے خطے میں امریکی اتحادیوں سے کہا ہے کہ وہ واشنگٹن کو ایران پر حملہ کرنے سے روکیں۔

اُنھوں نے کہا کہ ایران نے واضح طور پر سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور ترکی جیسے ممالک کو خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے ایران پر حملہ کیا تو ان ممالک میں قائم امریکی اڈوں پر حملہ کیا جائے گا۔

امریکہ کے مشرقِ وسطیٰ کے کئی ممالک میں فوجی اڈے ہیں۔ لہذا یہ توقع رکھنا مضحکہ خیز لگتا ہے کہ اگر امریکہ ایران پر حملہ رتا ہے تو خطے کے دیگر ممالک اسلامی ملک ہونے کی بنیاد پر ایران کا ساتھ دیں گے۔

اسلامی ممالک کا موقف

گذشتہ سال جب امریکہ نے ایران کی جوہری تنصیبات پر حملہ کیا تو 21 اسلامی ممالک نے اس کی مذمت کرتے ہوئے ایک بیان جاری کیا تھا۔ ان میں سعودی عرب، ترکی، پاکستان، متحدہ عرب امارات، عمان، مصر، سوڈان، صومالیہ، برونائی، چاڈ، بحرین، کویت لیبیا، الجزائر اور جبوتی جیسے ممالک شامل تھے۔

مشرقِ وسطیٰ کے اُمور کے ماہر اور تھنک ٹینک انڈین کونسل آف ورلڈ افیئرز (آئی سی ڈبلیو اے) کے سینیئر فیلو ڈاکٹر فضل الرحمان کہتے ہیں کہ ’جن ممالک نے اس حملے کی مذمت کی تھی، وہ صرف یہ دکھانا چاہتے تھے کہ ان کی بھی دُنیا میں اہمیت ہے۔ وہ اپنی ساکھ بچا رہے تھے کیونکہ مسلم ممالک اپنی ساکھ کے لیے عوامی سطح پر بیانات جاری کرتے ہیں۔‘

برطانوی میگزین ’دی سپیکٹیٹر‘ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ اس وقت ایران کے حوالے سے اسلامی ممالک کا موقف یا ’مسلم اتحاد‘ محض ایک دکھاوا تھا۔

ان میں سے کئی ممالک کے اسرائیل کے ساتھ اچھے سفارتی تعلقات ہیں۔ لبنانی حکام نے بھی اسرائیلی حملے کے بعد حزب اللہ کو اسرائیل کے خلاف کارروائی سے روک دیا تھا۔

شام میں ایران نواز بشار الاسد کو معزول کر دیا گیا اور احمد الشرع کی قیادت میں حکومت اب اقتدار میں ہے۔ شام کی موجودہ حکومت اسرائیل کے خلاف اتنی جارحانہ نہیں، جتنی اسد حکومت تھی۔

خطے میں ایران کی ساکھ

ایران ایک شیعہ اکثریتی ملک ہے اور شیعہ اور سنی مسالک کے درمیان مخاصمت کوئی نئی بات نہیں۔

1979 کے ایرانی انقلاب کے بعد سے سنی ممالک کی ایران کے حوالے سے بداعتمادی میں اضافہ ہوا۔ خلیجی ممالک بادشاہت کو پسند کرتے ہیں اور ایران میں ایسی تحریکوں کے پھیلاؤ سے محتاط رہتے ہیں۔

ایران پر الزام ہے کہ وہ بحرین جیسے ممالک میں سنی حکمرانوں کے خلاف شیعہ بغاوتوں کو ہوا دے رہا ہے۔ ایران پر عراق اور یمن میں سنی حکمرانوں کو غیر مستحکم کرنے کا الزام بھی لگتا رہا ہے۔

ایران، جوہری ہتھیاروں کی تلاش میں بھی ہے، جب اسرائیل اور امریکہ نے ایران کی جوہری تنصیبات پر حملہ کیا تو اُس وقت اسلامی ممالک نے کوئی خاص ردِعمل نہیں دیا۔

اب اسلامی ممالک کا موقف کیا ہے؟

کونسل آن فارن ریلیشنز (سی ایف آر) کے مطابق ایران میں اسلامی حکومت کے خاتمے سے خلیجی ممالک کو کافی فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر جیسے بڑے خلیجی ممالک دسمبر کے آخر سے ایران میں ہونے والے مظاہروں پر خاموش ہیں۔

قطر کے ایران کے ساتھ دیرینہ اور اچھے تعلقات ہیں جبکہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے برسوں کی مخاصمت کے بعد ایران کے ساتھ تعلقات بہتر کیے ہیں۔ ان ممالک نے ایران کے ساتھ سفارتی روابط کو مضبوط کیا۔

لیکن سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو اب بھی ایران پر مکمل اعتماد نہیں۔ یہ ممالک ایران کی جانب سے خطے میں مسلح گروہوں کی حمایت کو پسند نہیں کرتے۔

عمان اس خطے میں ایسا ملک ہے جو خلیجی ممالک کے مابین تنازعات کی صورت میں اکثر ثالثی کا کام کرتا ہے۔

عمان، امریکہ اور ایران کے مابین بات چیت کے لیے بھی ایک پل کا کام کرتا ہے۔ 10 جنوری کو عمانی وزیرِ خارجہ نے تہران میں ایرانی وزیرِ خارجہ سے ملاقات بھی کی تھی۔

ملاقات میں فریقین نے تعاون بڑھانے اور ایسی پالیسیوں سے گریز کرنے پر بات چیت کی جو کشیدگی کو بڑھا سکتی ہیں، جس سے امریکہ کو اشارہ دیا گیا کہ ایران مذاکرات کے لیے تیار ہے۔

ملاقات میں فریقین نے تعاون بڑھانے اور ایسی پالیسیوں سے گریز کرنے پر بات چیت کی جو کشیدگی کو بڑھا سکتی ہیں، جس سے امریکہ کو ایک طرح سے پیغام دیا گیا کہ ایران مذاکرات کے لیے تیار ہے۔

سعودی عرب اور ایران کی مخاصمت بھی ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔ یہ اختلافات شیعہ سنی سے لے کر سعودی عرب کی بادشاہت بمقابلہ ایران کے اسلامی انقلاب تک پھیلے ہوئے ہیں۔

آذربائیجان، شیعہ اکثریتی مسلم ملک ہے لیکن اس کی اسرائیل سے قربتیں ہیں اور ایران سے اس کے اختلافات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔

جب امریکہ نے عراق پر حملہ کیا اور صدام حسین کو پھانسی پر لٹکایا گیا تو ایران نے اس معاملے پر امریکہ کی مخالفت نہیں کی تھی۔

سنہ 1979 میں جب ایران میں اسلامی انقلاب آیا تو مصر نے اُسی برس اسرائیل کو تسلیم کیا تھا اور اس کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کر لیے تھے۔ اُردن نے سنہ 1994 میں اسرائیل کو تسلیم کیا۔

سنہ 2020 میں متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان نے بھی اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کر لیے تھے۔

اسلامی ممالک کو کن چیلنجز کا سامنا ہے؟

ڈاکٹر فضل الرحمان کہتے ہیں کہ اگر امریکہ اور ایران کے مابین جنگ ہوتی ہے تو یہ اسلامی ممالک کے لیے ایک نیا چیلنج ہو گا۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’مسلم ممالک امریکہ کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں اور ساتھ ہی وہ اپنی ساکھ برقرار رکھنے کے بھی خواہاں ہیں۔ خاص طور پر عرب ممالک کے امریکہ کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں اور انھیں بگاڑنے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔‘

کسی فوجی کارروائی کے تناظر میں ڈاکٹر فضل الرحمان کہتے ہیں کہ امریکہ، خطے کے مسلم ممالک میں موجود اپنے فوجی اڈے بھی استعمال کر سکتا ہے اور ان ممالک کو امریکہ کو منع کرنا بہت مشکل ہو گا۔

ترکی نے سنہ 2003 میں امریکہ کو عراق پر حملے کے لیے اپنے ملک میں موجود امریکی اڈے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی تھی لیکن ان برسوں میں بات بہت بڑھ چکی ہے۔

ڈاکٹر فضل الرحمان کے بقول ’گذشتہ برس جب امریکہ نے ایران پر حملہ کیا تو اُس وقت بھی یہ انکشاف ہوا تھا کہ امریکہ نے یہ فوجی اڈے استعمال کیے ہیں۔ لہذا یہ ممالک موجودہ حالات میں امریکہ کو منع کرنے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔‘

پاکستان کا کیا موقف ہو سکتا ہے؟

پاکستان سرد جنگ کے بعد سے امریکہ کا قریبی اتحادی رہا ہے۔ پاکستان نے امن کے نوبل انعام کے لیے ٹرمپ کی سفارش کی تھی۔

ایران اور پاکستان بھی اکثر ایک دوسرے کی سرزمین پر حملے کرتے رہتے ہیں۔ اس لیے یہ کہنا مشکل ہے کہ پاکستان امریکی حملے کی صورت میں ایران کا ساتھ دے گا۔

پاکستان کے انگریزی اخبار ایکسپریس ٹریبیون کی ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ اسلام آباد ایران میں عدم استحکام نہیں چاہتا۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ ’اسلام آباد ایران میں حکومت کی تبدیلی نہیں چاہتا کیونکہ اس کے نتائج بھیانک ہوں گے۔ ایران اور پاکستان کے درمیان 900 کلومیٹر طویل سرحد مشترک ہے۔ یہ سرحد پاکستان کے صوبہ بلوچستان سے گزرتی ہے۔ بلوچستان پاکستان کا سب سے غیر محفوظ صوبہ ہے۔‘

پاکستان کے سابق سفیر آصف دُرانی نے ایکسپریس ٹریبیون کو بتایا کہ ایران میں کسی قسم کی تبدیلی چاہے اندرونی ہو یا بیرونی، اس کا اثر پاکستان پر پڑے گا۔

اُن کے بقول پاکستان نے ماضی میں بھی ایران اور مغربی ممالک کے مابین کشیدگی کم کرنے میں مدد کی جبکہ امریکہ میں پاکستانی سفارت خانہ بھی ایرانی مفادات کا خیال رکھتا ہے۔

پاکستان کے سابق سیکرٹری خارجہ ظہور سلیم نے ایکسپریس ٹریبیون کو بتایا کہ ’پچھلی بار جب ایران اور اسرائیل کے درمیان تنازعہ ہوا تو پاکستان نے بہت واضح طور پر ایران کی سرزمین اور خودمختاری کی حمایت کی تھی لیکن میں پاکستان کے ان چند لوگوں میں سے تھا جنھوں نے کہا کہ فوجی تنازع نے ایران کو کمزور کیا۔‘

اُن کے بقول ’آج جو صورتحال ہم دیکھ رہے ہیں، اس سیاسی عدم استحکام کا نتیجہ ہے۔ اب کوئی بھی بیرونی مداخلت چاہے وہ اقتصادی پابندیاں ہوں یا فوجی کارروائی، اس سے ایران میں حالات مزید خراب ہوں گے۔‘