آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
’مظاہرین کے پاس ایم فور رائفل، واکی ٹاکیز بھی تھیں‘: پاکستان آنے والے افراد نے ایران میں کیا دیکھا؟
- مصنف, محمد کاظم اور روحان احمد
- عہدہ, بی بی سی اردو
ایران میں گذشتہ دو ہفتوں سے جاری احتجاجی مظاہروں کے سبب حالات تاحال کشیدہ ہیں۔ گزشتہ چند دنوں میں ایران سے پاکستان آنے والے افراد کا کہنا ہے کہ انھوں نے ’انتشار‘ کی صورتحال دیکھی ہے۔
ایران میں حکومت مخالف احتجاج دو ہفتے قبل 28 دسمبر کو شروع ہوا تھا جب تہران میں مقامی تاجر امریکی ڈالر کے مقابلے میں ایرانی کرنسی ریال کی قدر میں ایک اور بڑی کمی کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے۔
ان احتجاجی مظاہروں کے دوران ہونے والی ہلاکتوں کی درست تعداد جاننا مشکل ہے کیونکہ ملک میں بین الاقوامی خبر رساں اداروں پر پابندیاں ہیں اور گزشتہ پانچ دنوں سے انٹرنیٹ بھی بند ہے۔ ایران کی تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق ان احتجاجی مظاہروں میں 114 سرکاری اہلکار بھی ہلاک ہوئے ہیں۔
ایسے میں ایران سے متضاد اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔ اس دوران ایران میں حکومت کی حمایت میں بھی ریلیاں دیکھنے میں آئی ہیں اور ایرانی حکومت کا الزام ہے کہ ملک جاری احتجاجی مظاہروں کے پیچھے امریکہ اور اسرائیل کا کردار ہے۔
بی بی سی نے ایران سے پاکستان آنے والے افراد سے بات کر کے وہاں کی موجودہ صورتحال کے بارے میں جاننے کی کوشش کی ہے۔
ایران میں زیرِ تعلیم 51 پاکستانی طلبہ منگل کو گبد کراسنگ پوائنٹ کے ذریعے بلوچستان کے شہر گوادر پہنچے تھے۔
’احتجاج کے دوران بڑا نقصان ہوا‘
ایران میں ایک میڈیکل یونیورسٹی میں زیرِ تعلیم اور پاکستان لوٹنے والے ایک طالب علم نے صحافی محمد زبیر کوبتایا کہ ’ہم 66 طالب علم تھے اور باہر احتجاج چل رہے تھے، ہم اندر ہی ہوتے تھے ہاسٹل میں، ہمیں سکیورٹی دی گئی تھی۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’یونیورسٹی نے ہمیں واپس بھیج دیا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تاہم وہ کہتے ہیں کہ ایران میں احتجاج کے دوران ’بڑا نقصان‘ ہوا ہے اور ’سرکاری املاک کو بھی جلایا گیا ہے۔ وہاں جو ہوا اُسے انتشار کہہ سکتے ہیں۔‘
احمد (فرضی نام) زنجان شہر کے ایک ہاسٹل میں رہائش پذیر تھے اور اب پاکستان لوٹ چکے ہیں۔ انھوں نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ’چونکہ شہر کے جن علاقوں میں احتجاجی مظاہرے ہو رہے تھے ہمارا ہاسٹل وہاں سے قریب تھا اس لیے یونیورسٹی کی انتظامیہ نے غیر ملکی طلبا کو تاحکم ثانی وہاں سے چلے جانے کو کہا۔‘
’ہمیں شہر میں گھومنے پھرنے سے منع کیا گیا، تاہم جو کچھ ہم اپنے ہاسٹل یا اس کے قرب و جوار سے دیکھ سکتے تھے وہ یہ تھا کہ مظاہرین بینکوں اور ان کے اے ٹی ایم وغیرہ پر حملے کررہے تھے جبکہ دیگر سرکاری املاک کو بھی نقصان پہنچایا جارہا تھا۔‘
انھوں نے بتایا کہ سکیورٹی اہلکار ان مظاہروں کی ویڈیو یا تصاویر نہیں بنانے دے رہے تھے۔
احمد نے بتایا کہ ’ایک پاکستانی طالب علم نے ایک جگہ اپنے موبائل سے مظاہروں کی ویڈیو بنانے کی کوشش کی تھی جس کو سیکورٹی اہلکار پکڑ کر لے گئے تھے تاہم بعد میں یونیورسٹی انتظامیہ نے ان کو چھڑا کر لے آئے تاہم فوری طور پر اس کا موبائل فون حوالے نہیں کیا گیا تھا۔‘
انھون نے بتایا کہ یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ بعد میں اس پاکستانی طالب علم کا موبائل فون واپس کیا گیا یا نہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ’ہم پاکستانی طالب علم بسوں کے ذریعے چاہ بہار کے راستے گوادر پہنچے ہیں۔‘
پاکستان کے صوبہ سندھ سے تعلق رکھنے والے ایک طالب علم نے بی بی سی اردو کے صحافی روحان احمد کو بتایا کہ ایران میں صورتحال بہت خراب تھی۔
’پولیس اور لوگوں میں ایک آنکھ مچولی چل رہی تھی۔ کبھی مظاہرین آ جاتے تھے اور پولیس کے آتے ہی وہاں سے چلے جاتے تھے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’حکومت نے احتجاجی مظاہروں کے بڑھنے کے خدشے سے انٹرنیٹ بھی بند کر دیا تھا۔‘
’یونیورسٹی بند ہو گئی ہے، جب یونیورسٹی بلائے گی تو تب ہم امتحانات کے لیے واپس جائیں گے۔‘
زنجان میں ایک یونیورسٹی کے ایک اور طالب علم نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بی بی سی اردو کو بتایا کہ ’جہاں ہم مقیم تھے وہاں حالات زیادہ خراب نہیں تھے لیکن پچھلے دو، تین دنوں میں اچانک ہی احتجاجی مظاہرے پرتشدد ہو گئے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ صوتحال خاص طور پر غیرملکی طالب علموں کے لیے ٹھیک نہیں تھی اور انٹرنیٹ بھی بند کر دیا گیا تھا۔
’کھانے پینے کی اشیاء مہنگی ہو گئی تھیں اور متعدد اشیا دستیاب بھی نہیں تھیں۔‘
بی بی سی اردو کے نامہ نگار محمد کاظم سے بات کرتے ہوئے زنجان یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز میں پاکستان کے شہر ناروال سے تعلق رکھنے والے طالب علم زین نے بتایا کہ ’زنجان میں بھی پہلے احتجاج چل رہے تھے لیکن بعد ازاں یہ بدقسمتی سے فسادات میں تبدیل ہوگئے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’ہماری یونیورسٹی چونکہ شہر کے مرکز میں تھی اس لیے ہماری حفاظت کے پیش نظر یونیورسٹی نے ہمیں وہاں سے نکالا گیا اور بعد میں ہمیں پاکستان جانے کا کہا گیا۔‘
’اگرچہ یونیورسٹی انتظامیہ نے ہمیں مجبور نہیں کیا تاہم غیر ملکی ہونے کے ناطے ایک خطرہ تھاُ اور پھر حکومت پاکستان کی ایڈوائزری بھی یہی تھی اس لیے ہم وہاں سے نکل گئے۔‘
انھوں نے کہا کہ چونکہ لڑکیوں کا ہاسٹل یونیورسٹی میں ہے اس لیے بہت ساری پاکستانی لڑکیوں نے وہاں ٹھہرنے کا فیصلہ کیا جبکہ بعض مرد سٹوڈنٹس نے بھی نہ آنے کا فیصلہ کیا ہے۔
’100 ڈالر ایک کروڑ 35 لاکھ ایرانی تمن میں تبدیل ہو رہے تھے‘
سندھ سے تعلق رکھنے والے جام زوہیب حال ہی میں ایران سے واپس آئے ہیں اور حالیہ ہنگامہ آرائی کے چشم دید گواہ ہیں۔
انھوں نے بی بی سی کے نمائندہ ریاض سہیل کو بتایا کہ 29 دسمبر سے وہ مشہد میں تھے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’معاشی دباؤ بہت تھا۔‘ ان کے مطابق، 100 ڈالر ایک کروڑ 35 لاکھ ایرانی تمن میں تبدیل ہو رہے تھے۔ اس کے بعد انھوں نے جمعے کے روز قم کی طرف سفر کیا ’جہاں یہ سو ڈالر ایک کروڑ 40 لاکھ تمن بن گئے محض ایک روز میں تقریبا دس لاکھ تمن میں فرق آگیا تھا۔‘
ان کے مطابق، ’کرنسی میں اتار چڑھاؤ کی وجہ سے پڑنے والے معاشی دباؤ کے باعث دکانداروں میں ناراضی پائی جاتی تھی اور تاجر تنظیموں نے مکمل ہڑتال کردی تھی تاہم وہ سڑک پر احتجاج نہیں کر رہے تھے۔‘
’تاجروں کا خیال تھا کہ حکومت پیٹرول بیرونِ ملک فروخت کر رہی ہے اس لیے انھیں پیٹرول مہنگا مل رہا ہے۔‘
جام ذوہیب کے مطابق ’مشہد میں ساڑھے پانچ بجے ہی رات ہوجاتی ہے اور رات ہوتے ہی مظاہرین نکل آتے۔‘
وہ بتاتے ہیں کہ احتجاج کرنے والوں نے رومالوں سے اپنے چہرے ڈھکے ہوتے تھے۔ ’ابتدائی دنوں میں ان مظاہرین کی تعداد 15-20 سے زیادہ نہیں ہوتی تھی۔ تاہم جمعرات کے بعد ان مظاہروں نے ایک پرتشدد روپ اختیار کر لیا۔‘
جام زوہیب نے بتایا کہ ایران میں اسلحے کی اجازت نہیں لیکن انھوں نے اپنی آنکھوں سے اصفہان میں دیکھا کہ ’مظاہرین کے پاس ایم فور رائفل تھی۔‘
’انھوں نے پہلے دو کریکر دھماکے کیے، اس کے بعد ایم فور رائفل لوڈ کر کے ہوائی فائرنگ کی۔ یہ ہم پاکستانیوں کے لیے چھوٹی بات ہے لیکن ایرانی لوگوں کے لیے غیر معمولی چیز تھی۔‘
’مظاہرین کے پاس واکی ٹاکیز بھی تھے۔ وہ ایرانی موبائل نیٹ ورک استعمال نہیں کر رہے تھے۔‘
جام زوہیب نے بتایا کہ جب وہ قم میں موجود تھے تو جمعہ کے دن نمازِ ظہر کے بعد قم کے لوگ جمع ہوئے جو ’ان کا روایتی انداز ہے اور دونوں نمازوں کے درمیان انھوں نے امریکہ کے خلاف نعرے بازی کی‘ تاہم کسی ریلی کی صورت میں باہر نہیں نکلے۔
’قم میں ایک میدان آزادی ہے، مغرب کی نماز کے بعد وہاں سے ایک بڑی مشعل بردار ریلی نکلی۔ اس روز تمام شہروں میں حکومت کی طرف سے احتجاج کی کال تھی، یہ لوگ خامنہ ای کی حمایت میں نکلے تھے اور ان کی تعداد بہت زیادہ تھی۔‘
جام زوہیب ایرانی کے عوام کو تین حصوں میں تقسیم کرتے ہیں۔ ان کے مطابق پہلے وہ لوگ ہیں جو خامنہ ای کے حمایتی تھی، دوسرے وہ جو ایرانی رہبرِ اعلیٰ کے مخالف اور رضا شاہ پہلوی کی حمایت کر رہی تھے۔ تیسرے وہ ہیں جو حمایتی تو خامنہ ای کے ہیں لیکن موجودہ حکومت کے خلاف ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’یہ لوگ شٹر ڈاؤن ہڑتال کرکے حکومت پر دباؤ ڈال رہے تھے۔‘
ایران میں زیرِ تعلیم صرف پاکستانی طالبِ علم ہی موجودہ صورتحال سے پریشان نہیں بلکہ پاکستان میں زیرِ تعلیم ایرانی طالب علم بھی اپنے ملک کے حالات کو غور سے دیکھ رہے ہیں۔
اس طالب علم نے بی بی سی سے نام نہ ظاہر کرنے کی درخواست کی ہے کیونکہ ان کا خاندان ایران میں ہی مقیم ہے۔
انھوں نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ’میں دو دن قبل ہی ایران سے واپس آئی ہوں اور وہاں صورتحال بالکل مستحکم نہیں تھی۔ احتجاج ہو رہے تھے اور لوگ اپنے مستقبل کو لے کر خوفزدہ ہیں۔‘
ان کا موجودہ صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہنا تھا کہ ’ماضی کے مقابلے میں اس مرتبہ احتجاجی مظاہرے بڑے نظر آتے ہیں، لوگ معاشی حالات کے سبب سخت غصے میں ہیں اور حکومت کے خلاف کچھ کرنا چاہ رہے ہیں۔‘
’دستاویزات اپنے ساتھ رکھیں‘
ایران میں جاری احتجاجی مظاہروں پر پاکستانی حکام نے بھی گہری نظر رکھی ہوئی ہے اور وہ پاکستان لوٹنے والے شہریوں کو سہولیات کی فراہمی یقینی بنانا چاہتے ہیں۔
گوادر میں وفاقی حکومت کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’واپس آنے والے طلبا ایران کے دارالحکومت تہران، زنجان، زاہدان اور دوسرے شہروں سے واپس آئے ہیں۔‘
خیال رہے کہ پاکستان بالخصوص پنجاب سے تعلق رکھنے والے طلبا کی ایک بڑی تعداد ایران میں تعلیم حاصل کررہی ہے۔
ان میں سے زیادہ تر وہاں میڈیکل سائنسز کے شعبے میں تعلیم حاصل کررہے ہیں۔
گوادر میں وفاقی حکومت کے ایک اہلکار نے بتایا کہ گوادر کے راستے سے زائرین اور ایران جانے والے دیگر پاکستانی بھی واپس آرہے ہیں۔
دوسری جانب ایران میں تعینات پاکستانی سفیر مدثر ٹیپو نے ایران میں مقیم پاکستانی شہریوں کو سفری دستاویزات بشمول پاسپورٹ اور شناختی کارڈ ساتھ رکھنے کا مشورہ دیا ہے۔
انھوں نے اپنے ایک پیغام میں کہا کہ ’ایران کی جامعات نے اپنے امتحانات ایک ماہ کے لیے ملتوی کر دیے ہیں اور بین الاقوامی طلبہ کو جانے کی اجازت دے دی ہے۔‘
انھوں نے پاکستانی طلبہ کو پیغام دیا کہ وہ اپنا آئندہ کا پروگرام اسی تناظر میں مرتب کریں۔
’تشدد کے اعتبار سے ایران میں اس سے قبل ایسے مظاہرے نہیں دیکھے گئے‘
پاکستان اور ایران کے درمیان تعلقات کی بہتری کے لیے کام کرنے والے ادارے اقبال فورم کے ڈائیریکٹر محمد حسین باقری کہتے ہیں کہ وہ خود تہران میں موجود ہیں اور سوموار کے روز سے عوامی مظاہروں میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔
'میں اپنے براہ راست مشاہدے کی بنیاد پر کہہ سکتا ہوں کہ گذشتہ رات سے میں نے کوئی بڑا یا منظم مظاہرہ نہیں دیکھا ہے۔'
ان کا کہنا ہے کہ آٹھ جنوری تک مظاہرے بڑی حد تک پر امن تھے۔ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کے مشاہدے کے مطابق، 8 اور 9 جنوری کو سکیورٹی اہلکاروں پر مسلح حملے ہوئے اور مساجد، ایمبولینس اور دیگر عوامی سہولیات کو آگ لگائی گئی۔
اس سوال کے جواب میں کہ آیا اس بار ہونے والے مظاہرے ماضی کے مظاہروں سے بڑے تھے، ان کا دعویٰ ہے کہ مظاہرین کی تعداد کے حساب سے یہ ماضی کے احتجاجوں سے چھوٹے تھے تاہم ’تشدد کے اعتبار سے ایران میں اس سے قبل ایسے مظاہرے نہیں دیکھے گئے ہیں۔‘
’تشدد کا پیمانہ اور سفاکیت اس قدر زیادہ تھی کہ میرے لیے یہ تصور کرنا بھی مشکل تھا کہ ایرانی عوام اس طرح کی کارروائیوں کرنے کے قابل ہے۔‘
حکومت کی جانب سے مظاہروں کے ردِ عمل کے متعلق بات کرتے ہوئے انھوں نے دعویٰ کیا کہ ایک عینی شاہد کے طور پر وہ کہہ سکتے ہیں کہ حکام نے مظاہرین کے خلاف اس وقت تک طاقت کا استعمال نہیں کیا جب تک کہ وہ پرامن رہے۔
’تاہم، جب فوجی اہلکاروں اور عام شہریوں کے خلاف حملے شروع کیے گئے، اور عوامی تنصیبات کو نذر آتش کر دیا گیا، تو کسی بھی دوسرے ملک کے حکام کی طرح ایرانی حکام نے مداخلت کی۔‘
آنے والے دنوں کے متعلق بات کرتے ہوئے حسین باقری کا کہنا تھا کہ اگر فوجی حملے کی صورت میں کوئی بیرونی مداخلت نہیں ہوتی تو ممکن ہے کہ حکومت ان مظاہروں کو قابو کرنے میں کامیاب ہو جائے گی۔
ان کا کہنا ہے کہ تنخواہ میں اضافہ اور رعایتی خریداری واؤچرز تقسیم کر کے حکومت لوگوں کی قوت خرید کو بہتر بنا سکتی ہے اور شاید عوام میں پائے جانے والے عدم اطمینان کو کم کر پائے۔
تاہم ان کے خیال میں ایک اہم سوال جو باقی ہے وہ یہ ہے کہ آیا حکومت اقتصادی اصلاحات کو مکمل کر پائے گی بالخصوص ڈالر کے اوپن مارکیٹ اور سرکاری ریٹ میں فرق ختم کر کے ایک ایکسچینج ریٹ نافذ کر پائے گی۔