آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
’کیا تم مر چکے ہو؟‘ وہ ایپ جو اکیلے رہنے والے افراد کی جان بھی بچا سکتی ہے
- مصنف, سٹیفن مک ڈونل
- عہدہ, بی بی سی، چین
ایک نئی ایپ نے آج کل چین میں کافی دھوم مچا دی ہے اور اس کا نام ہے ’آر یو ڈیڈ‘ یعنی ’کیا تم مر چکے ہو؟‘
اس کا تصور سادہ ہے۔ آپ کو ہر دو دن بعد اس سے رابطہ کرنا ہو گا، ایک بڑے بٹن پر کلک کرنا ہو گا تاکہ تصدیق ہو سکے کہ آپ زندہ ہیں۔
اگر نہیں، تو آپ کے مقرر کردہ ایمرجنسی نمبر سے رابطہ کیا جائے گا اور یہ ایپ انھیں بتائے گی کہ آپ مشکل میں ہو سکتے ہیں۔
یہ ایپ پچھلے سال مئی میں لانچ ہوئی تھی لیکن اس وقت کچھ زیادہ ہلہ گلہ نہیں ہوا لیکن حالیہ ہفتوں میں اسے زبردست توجہ ملی کیونکہ بہت سے نوجوان، جو چینی شہروں میں اکیلے رہتے ہیں، اسے بڑی تعداد میں ڈاؤن لوڈ کر رہے ہیں۔
تازہ مقبولیت نے اس ایپ کو ملک کی سب سے زیادہ ڈاؤن لوڈ ہونے والی پیڈ یعنی ادائیگی کر کے خدمات حاصل کرنے والی ایپ بنا دیا۔
چینی سرکاری میڈیا ادارے ’گلوبل ٹائمز‘ کی رپورٹ کے مطابق تحقیقی اداروں کا خیال ہے کہ سنہ 2030 تک چین میں 20 کروڑ تک گھرانے صرف ایک ہی فرد پر مبنی ہو سکتے ہیں۔
اور’سیفٹی کمپنی کمپینیئن‘ کہلانے والی یہ ایپ اکیلے دفتر کے ملازم، گھر سے دور رہنے والے طالب علم، یا کوئی بھی جو تنہا طرز زندگی اختیار کر رہا ہو انھیں ہدف بنا رہی ہے۔
چینی سوشل میڈیا پر ایک صارف نے کہا کہ ’جو لوگ اپنی زندگی کے کسی بھی مرحلے پر اکیلے رہتے ہیں، انھیں ایسی کسی چیز کی ضرورت ہوتی ہے، جیسا کہ تنہائی پسند، ڈپریشن کے شکار، بے روزگار افراد اور دیگر کمزور حالات کا شکار لوگ۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایک اور صارف نے لکھا کہ ’اکیلے رہنے والے لوگوں کو یہ خوف ہے کہ کسی کو پتا بھی نہیں چلے گا اور وہ مر جائیں گے اور مدد کے لیے کوئی نہ ہو گا۔ کبھی کبھی سوچتا ہوں، اگر میں اکیلا مر جاؤں تو میری لاش کون اٹھائے گا؟‘
ولسن ہو 38 سال کے ہیں اور اپنے خاندان سے تقریبا 100 کلومیٹر دور رہتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ یہی وجہ ہے کہ انھوں نے ایپ ڈاؤن لوڈ کی۔ وہ دارالحکومت بیجنگ میں کام کرتے ہیں۔
وہ ہفتے میں دو بار اپنی بیوی اور بچے کے پاس واپس آتے ہیں لیکن کہتے ہیں کہ اس وقت انھیں ان سے دور رہنا پڑتا ہے جب کسی پروجیکٹ پر کام کرنا ہو اور زیادہ تر وہ سائٹ پر ہی سوتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ ’مجھے فکر ہے کہ اگر میرے ساتھ کچھ ہو گیا تو میں اس جگہ میں اکیلا مر سکتا ہوں جہاں میں کرائے پر رہتا ہوں اور کسی کو پتہ بھیں نہیں چلے گا۔‘
’اسی لیے میں نے ایپ ڈاؤن لوڈ کی اور اپنی ماں کو ایمرجنسی رابطے کے طور پر سیٹ کیا۔‘
انھوں نے یہ بھی کہا کہ انھوں نے ایپ کی ریلیز کے فوری بعد اسے ڈاؤن لوڈ کیا تھا۔
کچھ لوگوں نے جلد ہی اس ایپ کے نام پر تنقید شروع کر دی اور ان کے بقول اس سے بدقسمتی آ سکتی ہے۔
دوسروں نے کہا کہ اسے زیادہ مثبت انداز میں تبدیل کیا جائے، جیسے ’کیا آپ ٹھیک ہیں؟‘ یا ’آپ کیسے ہیں؟‘ اور اگرچہ اس ایپ کی کامیابی جزوی طور پر اس کے نام کی وجہ سے ہے، اس ایپ کے پیچھے موجود کمپنی ’مون سکیپ ٹیکنالوجیز‘ نے کہا ہے کہ وہ موجودہ نام پر تنقید کو قبول کرتے ہوئے اسے تبدیل کرنے پر غور کر رہی ہے۔
یہ ایپ، جو بین الاقوامی سطح پر ڈیمومو کے نام سے درج ہے، امریکہ، سنگاپور اور ہانگ کانگ میں ٹاپ ٹُو میں اور آسٹریلیا اور سپین میں ادائیگی شدہ یوٹیلیٹی ایپس کے لیے ٹاپ فور میں شامل ہے۔ ممکنہ طور پر اسے بیرون ملک رہنے والے چینی صارفین ڈاؤن لوڈ کر رہے ہیں۔
موجودہ نام ایک کامیاب فوڈ ڈیلیوری ایپ ’آر یو ہنگری‘ یعنی کیا ’آپ بھوکے ہیں‘ جیسا ہے۔
یہ ایپ پہلے ایک مفت ایپ کے طور پر لانچ کی گئی تھی لیکن اب یہ ادائیگی والی کیٹیگری میں آ گئی ہے، اگرچہ اس کی قیمت بہت کم یعنی صرف آٹھ یوان یعنی 1.15 ڈالر ہے۔
’کیا آپ مر چکے ہیں‘ کے بانیوں کے بارے میں بہت کم معلومات ہیں لیکن کہا جا رہا ہے کہ وہ تین افراد ہیں جو 1995 کے بعد پیدا ہوئے اور انھوں نے یہ ایپ صوبہ ہینان کے شہر ژینگژو سے ایک چھوٹی ٹیم کے ساتھ بنائی۔
ان میں سے ایک، جن کا نام مسٹر گو ہے، نے چینی میڈیا کو بتایا کہ وہ کمپنی کے 10 فیصد حصے کو ایک ملین یوان میں بیچ کر رقم جمع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
یہ اس محض ایک ہزار یوان کی رقم سے کہیں زیادہ ہے جو وہ کہتے ہیں کہ ایپ بنانے پر خرچ ہوئی۔
وہ اپنے صارفین کی تعداد بڑھانے کی بھی کوشش کر رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ ایک نئی پروڈکٹ کے تصور پر غور کر رہے ہیں جو خاص طور پر بزرگوں کے لیے ڈیزائن کی گئی ہو، ایک ایسے ملک میں جہاں آبادی کا پانچواں حصہ 60 سال سے زیادہ عمر کے لوگوں پر مشتمل ہے۔
اس بات کی نشاندہی کرتے ہوئے کہ وہ اس آپشن پر سنجیدگی سے غور کر رے ہیں، انھوں نے ہفتے کے آخر میں پوسٹ کیا کہ ’ہم چاہتے ہیں کہ زیادہ لوگوں سے اپیل کی جائے کہ وہ گھر میں رہنے والے بزرگوں پر توجہ دیں، انھیں زیادہ دیکھ بھال اور سمجھ بوجھ دیں۔ ان کے خواب ہیں، وہ جینے کی کوشش کرتے ہیں اور انھیں دیکھنے، عزت دینے اور تحفظ ملنے کا حق ہے۔‘
کمپنی نے بی بی سی کی جاننب سے بھیجے گئے سوالات کا جواب نہیں دیا۔