آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن پر امریکہ کا ایران پر نئی پابندیاں عائد کرنے کا اعلان
امریکہ نے ایران کے پانچ اہلکاروں کے خلاف پابندیاں عائد کی ہیں جن پر مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن کا الزام ہے۔ امریکہ نے یہ بھی کہا ہے کہ ایرانی رہنماؤں کی طرف سے دنیا بھر کے بینکوں میں اپنا سرمایہ منتقل کرنے پر نظر رکھی جا رہی ہے۔
خلاصہ
- امریکہ نے ایران کے پانچ اہلکاروں کے خلاف پابندیاں عائد کی ہیں جن پر مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن کا الزام ہے
- ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرس کو خط لکھ کر ان سے مطالبہ کیا ہے کہ ایران میں ’بیرونی مداخلت‘ کی مذمت کی جائے
- ترک وزیرِ خارجہ کا کہنا ہے کہ ’ہم ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے خلاف ہیں‘
- ایرانی عدلیہ کے مطابق مظاہروں کے دوران گرفتار عرفان سلطانی کو اب تک سزائے موت نہیں سنائی گئی ہے
- امریکہ میں قائم انسانی حقوق کے گروپ ایچ آر اے این اے کا دعویٰ ہے کہ اب تک 2403 مظاہرین اور 12 بچے ہلاک ہو چکے ہیں، تاہم ایران کا دعویٰ ہے کہ حالیہ مظاہروں کے دوران ہزاروں افراد کی ہلاکت کے دعوے ’بے بنیاد‘ ہیں
لائیو کوریج
خاران میں مسلح افراد کا حملہ، تھانے سے قیدیوں کو بھی چھڑوا لیا, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
بلوچستان کے ضلع خاران کے مرکزی شہر میں جمعرات کے روز مسلح افراد کی بڑی تعداد داخل ہوئی اور شہر کے مختلف حصوں میں حملے کیے۔ مقامی حکام کے مطابق حملہ آوروں نے سٹی پولیس تھانے کو نشانہ بنایا اور سرکاری و نجی بینکوں کو بھی نقصان پہنچایا۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ حملہ آور گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں پر شہر میں داخل ہوئے۔ پولیس کے ایک سینیئر اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ حملے میں پولیس اہلکاروں کو جانی نقصان نہیں ہوا، تاہم تھانے کی گاڑیوں اور اسلحے کو نقصان پہنچایا گیا اور کچھ اسلحہ حملہ آور اپنے ساتھ لے گئے۔ اہلکار کے مطابق حملہ آور حوالات میں موجود زیرِ سماعت قیدیوں کو بھی زبردستی چھڑا کر لے گئے۔
پولیس کے مطابق حملہ آوروں میں سے کچھ افراد بازار میں داخل ہوئے اور دو سے تین بینکوں کو نقصان پہنچایا۔ فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ آیا وہ بینکوں سے رقم لے جانے میں کامیاب ہوئے یا نہیں۔
سول ہسپتال خاران کے ایم ایس ڈاکٹر مشتاق نے بتایا کہ ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال میں پانچ زخمیوں کو لایا گیا، جن میں ایک نوجوان گولی لگنے سے زخمی ہوا جبکہ چار بچے دھماکے کے نتیجے میں اسپلنٹرز لگنے سے زخمی ہوئے۔
شہر کے رہائشیوں نے بتایا کہ بڑی تعداد میں مسلح افراد کے داخل ہونے سے خوف و ہراس پھیل گیا۔ خاران شہر کوئٹہ سے تقریباً 300 کلومیٹر جنوب مغرب میں واقع ہے اور اس کی آبادی مختلف بلوچ قبائل پر مشتمل ہے۔
خاران کا شمار بلوچستان کے ان علاقوں میں ہوتا ہے جو شورش سے متاثر ہیں۔ اگرچہ اس ضلع میں بدامنی کے واقعات وقتاً فوقتاً پیش آتے رہے ہیں، لیکن مرکزی شہر میں مسلح افراد کی اتنی بڑی تعداد میں داخل ہونے کا یہ پہلا واقعہ ہے۔
مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن پر امریکہ کا ایران پر نئی پابندیاں عائد کرنے کا اعلان
امریکہ نے ایران کے پانچ اہلکاروں کے خلاف پابندیاں عائد کی ہیں جن پر مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن کا الزام ہے۔ امریکہ نے یہ بھی کہا ہے کہ ایرانی رہنماؤں کی طرف سے دنیا بھر کے بینکوں میں اپنا سرمایہ منتقل کرنے پر نظر رکھی جا رہی ہے۔
امریکی محکمۂ خزانہ نے ایک بیان میں نئی پابندیوں کا اعلان کیا ہے۔ جن ایرانی عہدیداروں پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں ان میں قومی سلامتی کی سپریم کونسل کے سیکریٹری اور پاسداران انقلاب اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کمانڈرز شامل ہیں۔
جمعرات کو ویڈیو پیغام میں امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ امریکہ کو معلوم ہے کہ ’آپ چوری شدہ فنڈز دنیا بھر کے بینکوں اور مالیاتی اداروں میں منتقل کر رہے ہیں۔ ہم آپ پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’ابھی بھی وقت ہے کہ آپ ہمارے ساتھ مل جائیں۔ صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ تشدد روک دیں اور ایرانی عوام کے ساتھ کھڑے ہو جائیں۔‘
بیسنٹ نے ایک بیان میں کہا کہ امریکی محکمۂ خزانہ ہر وہ اقدام کرے گا جس سے ایران کی ’آمرانہ حکومت کو نشانہ بنایا جا سکے۔‘
امریکہ نے 18 دیگر افراد پر بھی پابندیاں عائد کی ہیں جن پر منی لانڈرنگ کا الزام ہے۔ امریکہ کے مطابق یہ افراد غیر ملکی منڈیوں میں ایرانی تیل اور پیٹرو کیمیکل فروخت کر کے بینکاری کے خفیہ نیٹ ورکس کے ذریعے رقوم منتقل کرتے ہیں۔
ٹرمپ انتظامیہ نے تہران پر دباؤ برقرار رکھا ہوا ہے۔ اس سے قبل ایرانی تیل کی برآمدات اور جوہری ہتھیاروں کی پیداوار کو روکنے کے لیے پابندیاں عائد کی گئی تھیں۔
خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق ان پابندیوں کے تحت افراد اور کمپنیوں کو امریکہ میں موجود کسی بھی جائیداد یا مالی اثاثے تک رسائی نہیں دی جائے گی اور امریکی کمپنیوں اور شہریوں کو ان کے ساتھ کاروبار کرنے سے روکا جائے گا۔ تاہم یہ پابندیاں زیادہ تر علامتی ہیں کیونکہ ان میں سے اکثر کے پاس امریکی اداروں میں فنڈز موجود نہیں ہیں۔
ان پابندیوں کے حوالے سے امریکی محکمۂ خزانہ کے دفتر برائے غیر ملکی اثاثہ جات کنٹرول (او ایف اے سی) نے 18 افراد اور کمپنیوں کو نامزد کیا ہے۔ امریکہ کا دعویٰ ہے کہ ان افراد نے ’شیڈو بینکنگ نیٹ ورک‘ کے ذریعے ایرانی تیل کی فروخت سے حاصل شدہ رقوم کی منی لانڈرنگ میں حصہ لیا۔ شیڈو بینکنگ سے مراد وہ مالیاتی سرگرمیاں اور ادارے ہیں جو بینکوں کی طرح کام کرتے ہیں لیکن روایتی بینکاری نظام کے ضوابط سے باہر ہوتے ہیں۔
ایران میں پُرامن حل کی کوششوں کی حمایت کرتے ہیں: پاکستانی دفتر خارجہ
پاکستان کے دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ اس نے ایران کی صورتحال پر گہری نظر رکھی ہوئی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ پاکستان کو امید ہے کہ ’امن و استحکام قائم رہے گا اور ہم اس صورتحال کے پُرامن حل کے لیے کی جانے والی تمام کوششوں کی حمایت کرتے ہیں۔‘
ہفتہ وار بریفننگ کے دوران پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ’بطور پڑوسی، دوست اور برادر ملک، پاکستان ایک پرامن، مستحکم اور خوشحال ایران دیکھنا چاہتا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ حالیہ مظاہرے عام شہریوں کو درپیش معاشی مشکلات اور بین الاقوامی پابندیوں کے باعث شدت اختیار کر گئے ہیں۔ ترجمان نے امید ظاہر کی کہ ایرانی حکومت کی جانب سے اعلان کردہ مالیاتی اقدامات عوامی مشکلات کم کریں گے۔
انھوں نے ایران کو ایک ’مضبوط قوم‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو یقین ہے کہ ایران موجودہ چیلنجز پر قابو پا لے گا۔
افغان طالبان کی جانب سے قیادت میں اختلافات سے متعلق بی بی سی کی رپورٹ پر ردعمل
افغانستان میں طالبان کی عبوری حکومت نے بی بی سی کی اس رپورٹ کی تردید کی ہے جس میں قیادت کے اندر انٹرنیٹ کی بندش سمیت دیگر معاملات پر اختلافات کا ذکر کیا گیا ہے۔
ذبیح اللہ مجاہد نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ افغان طالبان کی قیادت میں ’اختلافات سے متعلق بی بی سی کی رپورٹ بے بنیاد ہے۔‘
’امارت اسلامیہ کی صفوں میں کسی قسم کا اختلاف موجود نہیں۔ تمام امور اسلامی شریعت کے مطابق انجام دیے جاتے ہیں اور اختلاف کی کوئی گنجائش نہیں۔
’قیادت کی جانب سے اتحاد اور یکجہتی پر زور دینے والے بیانات یا معمولی معاملات میں رائے کے فرق کو کسی صورت اختلاف نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ امارت اسلامیہ کے اندر مضبوط اتحاد، اطاعت اور یکجہتی موجود ہے اور اختلاف کا کوئی خدشہ نہیں۔‘
بی بی سی کی اس رپورٹ میں افغان طالبان کے سربراہ ہیبت اللہ اخونزادہ کی لیک شدہ آڈیو کا ذکر ہے جس میں انھیں حکومت کے اندر ایک دوسرے کے مخالفین کے بارے میں خبردار کرتے ہوئے سنا جا سکتا ہے۔
وہ اس دوران خبردار کرتے ہیں کہ ’اس تقسیم کی وجہ سے امارات ختم ہو سکتی ہے۔‘
بی بی سی کو موصول ہونے والی ایک آڈیو نے ظاہر کیا کہ افغانستان میں طالبان کے سربراہ کو کیا چیز پریشان کر رہی ہے۔ یہ بیرونی نہیں بلکہ اندرونی خطرہ ہے۔
طالبان نے 2021 میں امریکی انخلا کے ساتھ ہی ملک کا کنٹرول سنبھال لیا تھا۔
ایران کا اقوام متحدہ کے سربراہ کو خط، ’بیرونی مداخلت‘ کی مذمت کا مطالبہ
ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرس، انسانی حقوق کے ہائی کمشنر وولکر ترک اور مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ کو خط لکھ کر ان سے مطالبہ کیا ہے کہ ایران میں ’بیرونی مداخلت‘ کی مذمت کی جائے۔
انھوں نے کہا کہ 28 دسمبر کو معاشی مسائل پر شروع ہونے والے پُرامن مظاہروں کو ’دہشت گرد عناصر‘ نے ’مسلح فسادات‘ میں بدل دیا تھا۔
عراقچی کے مطابق مظاہرین نے ’سر قلم کرنے، زندہ جلانے، قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں اور شہریوں پر حملے، فائرنگ، ایمبولینسز، فائر ٹرک، طبی مراکز اور مذہبی مقامات کو جلانے جیسے اقدامات کیے۔‘
ایران نے امریکہ اور اسرائیل پر فسادیوں کی حمایت کا الزام لگایا ہے جبکہ ملک کی عدلیہ نے تشدد میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان کیا ہے۔
عراقچی نے امریکی بیانات کو ’غیر ذمہ دارانہ اور اشتعال انگیز‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ سابق امریکی وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو نے اعتراف کیا کہ مظاہرین میں اسرائیلی موساد کے ایجنٹ شامل ہیں جو اسرائیلی مداخلت کا ثبوت ہے۔
عراقچی نے کہا کہ امریکہ انسانی حقوق کے نام پر سیاسی مقاصد حاصل کر رہا ہے جبکہ ایران اپنے شہریوں کے تحفظ اور قومی سلامتی کے لیے تمام ضروری اقدامات کر رہا ہے۔
دوسری طرف اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کو لکھے گئے خط میں ایران، امریکہ، جرمنی، فرانس، ترکی اور یوکرین کی بار ایسوسی ایشنز سے تعلق رکھنے والے 60 وکلا نے ایران میں جاری صورتحال پر تنظیم کی ’فوری مداخلت‘ کا مطالبہ کیا ہے۔
وکلا نے اقوامِ متحدہ سے ایرانی عوام کے تحفظ کی اپیل بھی کی۔
ایران میں فوجی کارروائی کے خلاف ہیں: ترکی
ترک وزیرِ خارجہ کا کہنا ہے کہ ’ہم ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے خلاف ہیں۔ ہمارا ماننا ہے کہ ایران کے اصل مسائل انھیں خود حل کرنے چاہییں۔‘
ایک بیان میں خاقان فيدان نے کہا کہ ایران میں معاشی بے چینی کو ’غلط انداز میں بغاوت کے طور پر‘ پیش کیا گیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’ہم بالکل چاہتے ہیں کہ مسائل کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جائے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ امریکہ اور ایران یہ معاملہ آپس میں حل کر لیں۔‘
ترک وزیرِ خارجہ کے حالیہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکی صدر ٹرمپ نے گذشتہ دنوں کہا تھا کہ اگر ایرانی حکومت مظاہرین کو قتل کرتی ہے تو وہ مظاہرین کی حمایت میں فوجی کارروائی کریں گے۔
گذشتہ رات ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ انھیں اطلاع دی گئی ہے کہ ایرانی حکومت نے مظاہرین کو قتل کرنا بند کر دیا ہے اور مظاہرین کو پھانسی دینے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔
اطلاعات ہیں کہ ترکی نے مظاہرین کو استنبول میں ایران مخالف مظاہرے کرنے کی اجازت نہیں دی ہے۔
ایران میں ہلاکتوں پر وزیر دفاع کا بیان
ایران کے وزیرِ دفاع عزیز نصیر زادہ کا کہنا ہے کہ ایران کے پُرتشدد مظاہروں میں اکثر ہلاکتیں ’چاقو کے وار، گلا گھونٹنے اور تقریباً 60 فیصد سر پر ضرب لگانے سے ہوئی ہیں۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ مظاہروں میں 150 سے زیادہ اشیا خورد و نوش کی دکانیں تباہ ہوئیں مگر انھیں ’لوٹا نہیں گیا۔‘
ان کا دعویٰ تھا کہ ’اس بار امریکی اور اسرائیلی حکام نے کسی بھی طرح اپنی بدنیتی کو نہیں چھپایا اور ایرانی معاملات میں غیر ملکی عناصر کی مداخلت کے ممنوعہ تصور کو توڑ دیا۔‘
ایرانی وزیرِ دفاع نے کہا کہ امریکہ، اسرائیل اور ان کے کچھ اتحادی ممالک نے ایک ’ڈائیلاگ سینٹر‘ قائم کیا تاکہ ’علیحدگی پسندوں اور دہشت گردوں کو مستقبل کا نقشہ بنانے میں مدد دی جا سکے۔‘
ایرانی حکومتی اہلکاروں کا دعویٰ ہے کہ مظاہرین امریکہ اور اسرائیل کی ایما پر ان سرگرمیوں میں ملوث ہوئے تھے۔
’ایران کے حکومتی اہلکار اپنا سرمایہ ملک سے باہر منتقل کر رہے ہیں‘
امریکی وزیرِ خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے نیوز میکس کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ ایرانی حکومتی اہلکار اپنا پیسہ ملک سے باہر نکال رہے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ایرانی اہلکار ’اپنا سرمایہ ایسے باہر منتقل کر رہے ہیں جیسے کوئی چوہا ڈوبتے جہاز سے بھاگتا ہے۔‘
امریکی وزیرِ خزانہ کے مطابق ایران کے حکومتی اہلکار حالیہ دنوں میں بڑی مقدار میں اپنا سرمایہ ایران سے نکال رہے ہیں اور ’صرف مختصر مدت میں کروڑوں ڈالر ملک سے باہر منتقل کیے جا چکے ہیں۔‘
بیسنٹ نے مزید کہا کہ امریکی حکومت مالیاتی بہاؤ پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور ان رقوم کی منتقلی امریکی ریگولیٹری اور مالیاتی اداروں کی نگرانی میں ہے۔
مجھے نہیں معلوم کہ آیا رضا پہلوی کو ایران میں حمایت حاصل ہو سکے گی: ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انھیں ایران کے آخری بادشاہ کے جلاوطن بیٹے رضا پہلوی بظاہر اچھے انسان لگتے ہیں مگر انھوں نے اس بارے میں غیر یقینی ظاہر کی کہ آیا پہلوی کو ایران کے اندر اتنی حمایت حاصل ہو سکے گی کہ وہ اقتدار سنبھال سکیں۔
اوول آفس میں خبر رساں ادارے روئٹرز کو دیے گئے انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ اس بات کا امکان ہے کہ ایران کی موجودہ حکومت گِر سکتی ہے۔
ٹرمپ نے بارہا ایران میں مظاہرین کی حمایت میں مداخلت کی دھمکی دی ہے۔ تاہم اس انٹرویو کے دوران انھوں نے رضا پہلوی کی مکمل حمایت سے ہچکچاہٹ ظاہر کی۔
ٹرمپ نے کہا کہ ’وہ بہت اچھے لگتے ہیں لیکن مجھے نہیں معلوم کہ وہ اپنے ملک میں کس طرح قبول کیے جائیں گے۔ اور ہم ابھی اس مقام پر نہیں پہنچے۔
’مجھے نہیں معلوم کہ ان کا ملک ان کی قیادت قبول کرے گا یا نہیں اور اگر کرے گا بھی تو یہ میرے لیے بالکل ٹھیک ہوگا۔‘
گذشتہ ہفتے ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ پہلوی سے ملاقات کا کوئی منصوبہ نہیں رکھتے۔
65 سالہ پہلوی امریکہ میں مقیم ہیں اور وہ ایران سے باہر ہونے کے باوجود مظاہروں کے دوران نمایاں ہوئے ہیں۔ ان کے والد کو 1979 کے انقلاب کے دوران اقتدار سے ہٹایا گیا تھا۔ ایران کی اپوزیشن مختلف گروہوں اور نظریاتی دھڑوں میں بٹی ہوئی ہے جن میں پہلوی کے حامی بھی شامل ہیں۔ مگر ایران میں ان کے حامی منظم انداز میں موجود نہیں۔
ٹرمپ نے کہا کہ یہ ممکن ہے کہ تہران کی حکومت مظاہروں کے باعث گر جائے لیکن حقیقت میں ’کوئی بھی حکومت ناکام ہو سکتی ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’چاہے یہ حکومت گرے یا نہ گرے یہ ایک دلچسپ دور ہونے والا ہے۔‘
پاکستان کی جوڈیشل کمیشن نے لاہور ہائیکورٹ کے 11 ایڈیشنل ججز کو مستقل کرنے کی منظوری دے دی
پاکستان کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیرِ صدارت جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں لاہور ہائی کورٹ کے 11 ایڈیشنل ججز کو مستقل کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔
ایک اعلامیے کے مطابق مستقل کیے گئے ججز میں جسٹس حسن نواز مخدوم، جسٹس ملک وقار حیدر اعوان، جسٹس سردار اکبر علی، جسٹس سید احسن رضا، جسٹس ملک جاوید اقبال، جسٹس محمد جواد ظفر، جسٹس خالد اسحاق، جسٹس ملک محمد اویس خالد، جسٹس چوہدری سلطان محمود، جسٹس تنویر احمد شیخ اور جسٹس عبہر گل شامل ہیں۔
اعلامیے میں بتایا گیا کہ ایڈیشنل جج راجہ غضنفر علی خان کو مستقل کرنے کی منظوری نہیں دی گئی جبکہ ایڈیشنل جج طارق محمود باجوہ کو چھ ماہ کی توسیع دی گئی ہے۔
کمیشن کے مطابق یہ یہ فیصلے ’ججز کی کارکردگی، عدالتی امور میں مہارت اور مجموعی پیشہ ورانہ معیار کا جائزہ لینے کے بعد کیے گئے۔‘
’مستقل ججز کی تعداد مکمل ہونے سے عدالتی کام میں تیزی اور مقدمات کے بروقت فیصلوں میں بہتری کی توقع ہے۔‘
عراقچی کا جے شنکر کو فون: ’دہشتگرد عناصر نے احتجاج کو فسادات میں بدل دیا‘
ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عرفاقچی نے انڈین ہم منصب ایس جے شنکر سے ٹیلی فونک گفتگو میں دعویٰ کیا کہ ایران میں ہونے والے احتجاج کو ’دہشت گرد عناصر‘ نے ’فسادات‘ میں تبدیل کر دیا تھا۔
اس سے قبل انڈین وزارتِ خارجہ نے اپنے شہریوں کو ایران چھوڑنے کی ہدایت کی تھی۔ انڈین سفارت خانے نے بدھ کی رات سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا تھا کہ ’ایران میں موجود انڈین شہری (طلبہ، زائرین، کاروباری افراد اور سیاح) کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ دستیاب ذرائع آمد و رفت کے ذریعے ایران چھوڑ دیں۔‘
ایک اندازے کے مطابق ایران میں تقریباً 10 ہزار انڈین شہری موجود ہیں۔
حالیہ دنوں میں امریکہ، فرانس، سویڈن اور دیگر ممالک نے بھی اسی طرح کے اقدامات کیے اور اپنے شہریوں کو فوراً ایران چھوڑنے کی ہدایت دی تھی۔
عرفان سلطانی کو سزائے موت نہیں سنائی گئی: ایرانی عدلیہ
ایرانی عدلیہ نے اعلان کیا ہے کہ عرفان سلطانی کو تاحال سزائے موت نہیں سنائی گئی۔
ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے نے عدلیہ کے حوالے سے بتایا کہ ’10 جنوری کو بدامنی کے دوران عرفان سلطانی کو گرفتار کیا گیا تھا اور ان پر ملک کی داخلی سلامتی کے خلاف اجتماع، سازش اور حکومت مخالف سرگرمیوں کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔‘
مزید بتایا گیا کہ وہ اس وقت کرج سینٹرل جیل میں زیرِ حراست ہیں۔
ایرانی عدلیہ نے مزید کہا کہ ’اگر ان کے خلاف الزامات ثابت ہو جاتے ہیں اور کسی عدالت سے قانونی فیصلہ جاری ہوتا ہے تو قانون میں اس جرم کی سزا قید ہے۔ ایسے الزامات کے لیے سزائے موت کا قانون موجود نہیں۔‘
اس سے قبل عرفان سلطانی کے ایک رشتہ دار نے بی بی سی فارسی کو بتایا تھا کہ ’انتہائی تیز رفتار کارروائی میں صرف دو دن کے اندر عدالت نے سزائے موت کا فیصلہ سنایا اور خاندان کو بتایا گیا کہ انھیں 14 جنوری کو پھانسی دی جائے گی۔‘
’سوئی سے پاکستان کو گیس فراہم کی جاتی ہے مگر وہاں خواتین لکڑیوں پر روٹی پکانے پر مجبور ہیں‘, محمد کاظم، بی بی سی اردو/کوئٹہ
وزیرِ اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے شدید سردی کے دوران کوئٹہ، زیارت، سوئی اور قلات میں گیس کے کم پریشر اور عدم دستیابی پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو اس شدید سرد موسم میں مشکلات سے دوچار کرنا کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔
وہ جمعرات کو مختلف علاقوں میں گیس پریشر میں کمی اور اس کی بندش سے پیدا ہونے والی صورتحال سے متعلق ایک اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔ اجلاس میں پی پی ایل اور سوئی سدرن گیس کمپنی کے حکام کے علاوہ اراکینِ اسمبلی نے بھی شرکت کی۔
ایک سرکاری اعلامیے کے مطابق اجلاس میں مختلف علاقوں میں گیس پریشر میں کمی، طویل بندش اور عدم فراہمی سے متعلق شکایات پر تفصیلی غور کیا گیا۔ وزیرِ اعلیٰ بلوچستان نے گیس حادثات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکام کو ہدایت کی کہ حفاظتی اقدامات کو مزید مؤثر، سخت اور نتیجہ خیز بنایا جائے تاکہ قیمتی انسانی جانوں کا تحفظ یقینی ہو۔
انہوں نے واضح کیا کہ صارفین کے لیے گیس کی عدم دستیابی اور کم پریشر ناقابلِ قبول ہے اور اس کا فوری، مستقل اور قابلِ عمل حل نکالا جائے۔ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ وفاقی وزارتِ توانائی کی جانب سے بلوچستان کے لیے گیس کی محدود الاٹمنٹ صوبے کے عوام کے ساتھ ناانصافی کے مترادف ہے، جس کے باعث عوام شدید اذیت میں مبتلا ہیں۔ اس سنگین صورتحال سے وزیرِ اعظم پاکستان کو باضابطہ طور پر خط لکھ کر آگاہ کیا جائے گا۔
وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ ’افسوس کا مقام ہے کہ سوئی، جہاں سے ملک بھر کو گیس فراہم کی جاتی ہے، وہیں آج بھی گیس کے سنگین مسائل موجود ہیں اور خواتین لکڑیوں پر روٹی پکانے پر مجبور ہیں۔
انھوں نے کہا کہ کوئٹہ اور دیگر سرد علاقوں میں عوام شدید سردی میں ’ٹھٹھر رہے ہیں۔ گیس دستیاب نہیں۔ یہ صورتحال ہرگز برداشت نہیں کی جا سکتی۔‘
وزیرِ اعلیٰ نے پی پی ایل اور سوئی سدرن گیس کمپنی کے حکام کو دو ٹوک الفاظ میں ہدایت دی کہ بلوچستان میں گیس بحران کو ہر صورت حل کیا جائے۔
انھوں نے کہا کہ حکومت عوامی مسائل سے مکمل طور پر آگاہ ہے اور اس معاملے میں گیس کمپنیوں کا کسی قسم کا حیلہ بہانہ یا غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ ’متعلقہ حکام عوام کی مشکلات کے فوری ازالے کے لیے موثر اقدامات اٹھائیں۔‘
ایران کی صورتحال پر اقوامِ متحدہ کی سکیورٹی کونسل کا اجلاس آج ہوگا
صومالیہ کی صدارت کے ترجمان کے مطابق ایران کی صورتحال پر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس آج (جمعرات) منعقد ہوگا۔
اطلاعات کے مطابق، امریکہ نے یہ اجلاس بلانے کی درخواست کی تھی۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ایران میں ہلاکتیں روکنے کے لیے فوری طور پر سلامتی کونسل کا اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا تھا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے جاری ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان کے پاس مصدقہ ویڈیوز اور گواہوں کے بیانات موجود ہیں جن سے ایران میں بڑے پیمانے پر ماورائے عدالت قتل کی نشاندہی ہوتی ہے۔
تنظیم کا کہنا ہے کہ 28 دسمبر سے بڑے پیمانے پر پرامن مظاہروں کو کچلنے کے لیے کیے گئے پرتشدد کریک ڈاؤن کے نتیجے میں اتنی بڑی تعداد میں ہلاکتیں ہوئی ہیں، جس کی مثال نہیں ملتی۔
دوسری جانب ایرانی حکومت کا کہنا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد بڑھا چڑھا کر پیش کی جا رہی ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے سی ڈی اے کو وفاقی دارالحکومت میں درختوں کی کٹائی سے روک دیا
اسلام آباد ہائی کورٹ نے ترقیاتی ادارے کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کو وفاقی دارالحکومت میں درختوں کی کٹائی سے روک دیا۔
جمعرات کے روز ایڈوکیٹ محمد نوید احمد کی درخواست پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس خادم حسین سومرو نے سماعت کی۔
درخواست گزار کی جانب سے ایڈووکیٹ مدثر لطیف عباسی عدالت پیش ہوئے۔
دورانِ سماعت درخواست گزار نے موقف اپنایا کہ اسلام آباد کی حدود میں قواعد و ضوابط کے خلاف درختوں کی کٹائی کا عمل جاری ہے جس سے ماحولیاتی تبدیلیاں بھی ہو رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان انوائرمنٹل پروٹیکشن ایکٹ کی خلاف ورزی ہو رہی ہے۔
سماعت کے دوران جسٹس خادم حسین سومرو نے کمرہ عدالت میں موجود اسسٹنٹ اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ درخت کیوں کاٹے جا رہے ہیں۔
عدالت نے آئندہ سماعت تک سی ڈی اے کو درختوں کی کٹائی سے روکتے ہوئے سی ڈی اے، پاکستان انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی اور وزارت ماحولیاتی تبدیلی کو نوٹس جاری کر دیے۔
ایرانی وزیرِ خارجہ کی حالیہ حکومت مخالف مظاہروں میں ہزاروں افراد کی ہلاکت کے دعوؤں کی تردید
ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ حالیہ مظاہروں کے دوران ہزاروں افراد کی ہلاکت کے دعوے ’بے بنیاد‘ ہیں اور ان کا ’کوئی ثبوت نہیں‘ ہے۔
امریکی نشریاتی ادار فاکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انھوں نے دعویٰ کیا کہ اگرچہ بہت کوشش کی گئی کہ ہلاکتیں زیادہ ہوں، لیکن اس کے باوجود ’صرف سینکڑوں‘ ہلاکتیں ہوئی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ حکام جلد ہی ہلاکتوں کی صحیح تعداد جاری کر دیں گے۔
ایک سوال کے جواب میں انھوں نے دعویٰ کیا کہ ہلاکتوں کی تعداد کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا ہے جس کا مقصد ایک بار پھر ایران کے خلاف جارحیت کے لیے جواز پیدا کرنا تھا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ گذشتہ چار روز سے ملک میں صورتحال مکمل طور پر پُر امن ہے اور کوئی احتجاج نہیں ہوا ہے۔
یاد رہے کہ ایران میں حالیہ احتجاج دسمبر کے آخر میں اس وقت شروع ہوئے جب مقامی کرنسی کی قدر میں کمی ہوئی اور مہنگائی میں اضافہ ہوا۔ یہ احتجاج جلد ہی سیاسی تبدیلی کے مطالبات میں بدل گئے اور سنہ 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد موجودہ حکومت کے لیے سب سے بڑا چیلنج بن گئے۔
امریکہ میں قائم انسانی حقوق کے گروپ ایچ آر اے این اے کا دعویٰ ہے کہ اب تک 2403 مظاہرین اور 12 بچے ہلاک ہو چکے ہیں۔ گروپ نے یہ بھی بتایا کہ 18 ہزار 434 سے زائد مظاہرین کو گرفتار کیا گیا ہے۔
پانچ گھنٹوں کی عارضی بندش کے بعد ایران نے اپنی فضائی حدود بین الاقوامی پروازوں کے لیے دوبارہ کھول دی
ایران نے تقریباً پانچ گھنٹوں تک جاری رہنے والی عارضی بندش کے بعد اپنی فضائی حدود بین الاقوامی پروازوں کے لیے دوبارہ کھول دی ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے روئٹرز نے امریکی فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایران نے جمعرات کی رات مقامی وقت کے مطابق ایک بج کر 45 منٹ پر ملک میں آنے اور وہاں سے جانے والی پروازوں کے علاوہ دیگر تمام پروازوں کے لیے اپنی فضائی حدود بند کرنے کا اعلان کیا تھا۔
تاہم تقریباً پنچ گھنٹے بعد ایران نے یہ پابندی اٹھالی۔
پروازوں کی آمد و رفت پر نظر رکھنے والی ویب سائٹ فلائیٹ ریڈار 24 کے مطابق، ایران نے مقامی وقت کے مطابق جمعرات کی صبح ساڑھے چھ بجے یہ پابندی اٹھائی ہے۔
اس پابندی کے باعث متعدد ایئر لائنز کو اپنی پروازیں منسوخ یا معطل کرنی پڑی جبکہ کئی ایئر لائنز کو متبادل روٹ استعمال کرنے پڑے۔
ایران کی جانب سے یہ عارضی شٹ ڈاؤن ایک ایسے وقت میں نافذ کیا گیا تھا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں حکومت مخالف مظاہروں میں ہلاکتوں کے بعد اعلان کیا تھا کہ امریکہ ردعمل کے لیے مختلف آپشنز پر غور کر رہا ہے۔
تاہم بدھ کی رات اوول آفس میں بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ان کے پاس’مستند ذرائع‘ سے پہنچنے والی معلومات کے مطابق ایران میں قتلِ عام بند ہو چکا ہے اور وہاں پھانسی کی سزاؤں پر بھی عمل درآمد نہیں ہوگا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ قتلِ عام دوبارہ شروع ہونے یا پھانسی کی سزاؤں صورت میں امریکہ سخت ردِ عمل دے گا۔
ایئر انڈیا کا ایرانی فضائی حدود استعمال نہ کرنے کا اعلان
انڈیا کی قومی ایئر لائن ایئر انڈیا کا کہنا ہے کہ ایران میں جاری صورتحال اور اس کے نتیجے میں فضائی حدود کی بندش کے پیشِ نظر اس کی پروازیں ایرانی فضائی حدود کی جگہ متبادل روٹ استعمال کر رہی ہیں۔
ایئر انڈیا کی جانب سے جاری بیان مِیں کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ مسافروں کی حفاظت کے پیش نظر لیا گیا ہے اور اس کے نتیجے میں پروازیں تاخیر کا شکار ہو سکتی ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ جن پروازوں کے لیے متبادل روٹ استعمال نہیں کیا جا سکتا انھیں منسوخ کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب، پاکسستان کی قومی ایئر لائن پی آئی اے کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ایران کی فضائی حدود کی بندش سے پی آئی اے کی پروازیں متاثر نہیں ہوتی ہیں۔
ترجمان کے مطابق، پی آئی اے اپنی پروازوں خلیجی ممالک جانے کے لیے بحیرہ عرب کے راستے مسقط کا روٹ استعمال کرتی ہے جبکہ سینٹرل ایشیا کے وکھان کوریڈور کا استعمال کرتی ہے۔
خیال رہے کہ فلائیٹ ٹریکنگ ویب سائٹس کے مطابق، ایرانی حکومت نے بدھ کے روز اپنی فضائی حدود بند کرنے کا اعلان کیا تھا جو جمعرات کے روز بھی نافذ العمل ہے۔
تاہم ایران کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی پروازیں اجازت لے کر اس کی فضائی حدود سے گزر سکتی ہیں۔
صدر ٹرمپ کا گرین لینڈ کو ’فتح‘ کرنے پر اصرار ’قطعی طور پر ناقابل قبول‘ ہے: ڈنمارک
ڈنمارک کے وزیر خارجہ نے بدھ کے روز وائٹ ہاؤس میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور وزیرِ خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کے بعد کہا ہے کہ گرین لینڈ پر امریکہ اور ڈنمارک کے درمیان ’بنیادی اختلاف‘ پایا جاتا ہے۔
لارس لوکی راسموسن کا کہنا ہے کہ جے ڈی وینس اور مارکو روبیو کے ساتھ ہونے والی ملاقات ’بے تکلف لیکن تعمیری‘ رہی۔
تاہم ان کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ گرین لینڈ کو ’فتح‘ کرنے پر اصرار کر رہے ہیں جو کہ ’قطعی طور پر ناقابل قبول‘ ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ’ہم نے یہ بات بالکل واضح کر دی کہ یہ [ڈنمارک] کے مفاد میں نہیں ہے۔‘
بعد ازاں صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر وسائل سے مالا مال جزیرے کے حصول میں اپنی دلچسپی کا اعادہ کیا۔ امریکی صدر کی اس پوزیشن نے ان کے یورپ کے اتحادیوں کو ہلا کر رکھا ہوا ہے جبکہ اس کی وجہ سے نیٹو کے ساتھ تناؤ میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔
خیال رہے کہ گرین لینڈ ڈنمارک کا نیم خودمختار علاقہ ہے اور اس کی اپنی حکومت موجود ہے۔ دوسری جانب ڈنمارک نیٹو کا رکن ملک ہے اور وزیراعظم میتے فریڈرکسن نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوجی طاقت استعمال کی گئی تو یہ ٹرانس اٹلانٹک دفاعی اتحاد کے خاتمے کی علامت ہوگی۔
شمالی امریکہ اور آرکٹک کے درمیان واقع گرین لینڈ کی جغرافیائی حیثیت اسے میزائل حملوں کی صورت میں ابتدائی وارننگ نظام کے لیے نہایت اہم بناتی ہے، جبکہ بحری جہازوں کی نگرانی کے اعتبار سے بھی اس کی اسٹریٹجک اہمیت مسلم ہے۔